95

ابتدائی خیالات و تصورات

پروفیسر ایڈور براؤن نے کہا ہے کہ مشرق کی یہ بات عجیب ہے عقائد اور تصورات مٹ مٹ کو دوبارہ زندہ ہوتے رہتے ہیں ۔ براؤن کی بات اپنی جگہ درست ہے مگر یہ صرف مشرق کا خاصہ نہیں ہے بلکہ یہ دنیا پھر میں ایسا ہی ہوتا ہے ۔ جب جارج فریزر نے یونان کے ایک مندر میں اکاس بیل 

کی حرمت کی وجہ تلاش کرنے کی کوشش کی تو سولہ جلدوں پر مشتمل شاخ زریں جیسی کتاب لکھی دی ۔ جسے بعد اس نے میں اس میں حوالے اور تصیلات نکال کر دو جلدوں میں مدون کی ۔ کسی نسل کا سے دوسری نسل یا قوم کے تعلق تلاش کرنے کے لیے ماہرین ان ہی بنیادی تصورات کو تلاش کرتے ہیں ۔
عجیب بات ہے انسان نے جب ہوش سمبھالا ہے تو ابتدا میں جو خیالات اور تصورات اس کے ذہن میں بیٹھ گئے ہیں ان کے سحر سے ہزاروں سال گزرنے کے بعد نکل نہیں سکا ۔ حکومتیں تو معمولی چیز ہے مذہب تک بدل گئے مگر ان کے خیالات وہی رہے جو کہ ابتدا میں تھے ۔ وہ خیالات و تصورات ایسے مظبوط ہیں کہ انسان آج تک ان کے سحر سے نکل پایا ہے ۔ یہی وجہ ہے آج کوئی بھی مذہب اپنی اس صورت میں باقی نہیں رہا ہے جو اس کے بانیوں نے پیش کیا تھا ۔ ایسا بھی ہوا ہے کہ کوئی بھی مذہب جو کسی اور علاقہ میں پھیلا وہاں رہنے والوں نے اسے بھی اپنے تصورات اور خیالات کے مطابق کرلیا گیا ۔ اگر کسی مذہب میں ترقی یا توسیع نہیں ہوئی تو اس کی بڑی وجہ یہ رہی ہے کہ وہ کسی ایک خاص نسل یا خاس علاقہ تک موجود رہے ہیں اور اس نے لچک نہیں دیکھائی ۔ اس کی مثال یہودیت ، برہمنیت اور زرتشیت ہیں ۔ کیوں کہ وہ ایک خاص نسل اور علاقہ کے لیے تھے ۔
معاشرہ جس کے ہم رکن ہیں ۔ رسم و رواج اور ابتدائی تصورات سے تشکیل پاتا ہے یہ ایک ایسا نظام ہے جس کا تعلق انسانی مادی مطالبات اور ماحول و مقاصد سے گہرا تعلق ہوتا ہے ۔ یہ رسم و رواج اور رویات کے مختلف مظاہروں اور آداب و اطور کی تنظیم پر مشتمل ہوتا ہے ۔ یہ نہ صرف اخلاقی ضابطوں ، ثقافتی سرگرمیاں بلکہ اس طرز فکر یا نظریہ حیات کے اور اس کے معیار کے انتخاب کا نام ہے ، جو کسی قوم کے دل و دماغ پر چھایا ہوتا ہے اور وہ اس کہ زیر اثر وہ زندگی بسر کررہے ہوتے ہیں ۔ اس کا اطلاق عادات ، عقائد ، جذبات ، نفسیاتی ، ملکی انتظام اور باہمی معاملات پر اس کا اطلاق ہوتا ہے ۔ اس طرح اس میں کسی قوم کے مذہبی تصورات ، عبادات ، اخلاق ، پسندیگی نہ پسندیگی کا شعور ، رسم و رواج اور مشاغل اور دلچسپیاں اس میں شامل ہوتی ہیں اور اس کی تشکیل میں صدیوں بلکہ ہزاروں سال عرصہ درکار ہوتا ہے ۔ یعنی اس وقت سے جب انسان نے ہوش سمبھالا تھا یہ اس کے ابتدائی خیالات و تصورات جو کہ اس قدر مستحکم اور مظوط ہوتے ہیں کہ مذہب کی تبدیلی سے کوئی اثر نہیں پڑتا ہے ۔ اس کا تعلق انسانی مادی مطالبات اور ماحول و مقاصد سے گہرا تعلق ہوتا جو کہ رسم و رواج اور رویات کے مختلف مظاہروں اور آداب و اطور کی تنظیم پر مشتمل ہوتا ہے ۔ یہ نہ صرف اخلاقی ضابطوں ، ثقافتی سرگرمیاں بلکہ اس طرز فکر یا نظریہ حیات کے اور اس کے معیار کے انتخاب کا نام ہے ، جو کسی قوم کے دل و دماغ پر چھایا ہوتا ہے اور وہ اس کہ زیر اثر ہم زندگی بسر کررہے ہوتے ہیں ۔ اس کا اطلاق عادات ، عقائد ، جذبات ، نفسیاتی ، ملکی انتظام اور باہمی معاملات پر اس کا اطالاق ہوتا ہے ۔ اس طرح اس میں کسی قوم کے مذہبی تصورات ، عبادات ، اخلاق ، پسندیگی نہ پسندیگی کا شعور ، رسم و رواج اور مشاغل اور دلچسپیاں اس میں شامل ہوتی ہیں ۔
ہر مذہب جس علاقے میں پیدا ہوتا ہے وہاں کے ابتدائی بنیادی تصورات کے مطابق ہوتا ہے ۔ مثلاً اسلام عربوں کے تصورات جمہوریت پسندی اور توحید کے مطابق تھا ۔ ایران میں پیدا ہونے والا ہر مذہب ثنویت کے گرد گھومتا ہے ، برصغیر میں پیدا ہونے والا ہر مذہب مکتی کے لیے وجود میں آیا ۔ جب یہودیت میں مقامی مقبول ترین تین خداؤں کا تصور پیدا ہوا تو عیسائت پیدا ہوئی اور یہ مذہب بھی اسی قدیم مذہبوں کی تجدید ہے جو کہ تین خداؤں پر یقین رکھتے تھے ۔
کسی بھی مذہب کو پھیلنے کے لیے اس کے اصولوں میں لچک ہوتی ہے اور یہ لچک کے مواقع اس مذہب نئے قبول کرنے والے لے کر آتے ہیں ہیں اور انہیں قبول کرنے کی صورت میں ہی اس مذہب کی ترقی و توسیع ہوتی ہے ۔ اس کی مثالیں عیسایت ، اسلام اور بدھ ازم کی ہے ۔ یہودیت میں جب تین خداؤں کا عقیدہ داخل ہوا تو عیسائیت وجود میں آئی ۔ کیوں کہ یہ ان علاقوں کا مقبول ترین تصور تھا ۔ اسلام جہاں جہاں پھیلا اس نے وہاں کے تصورات کو اس کو نئے پیرو اپنے ساتھ لے کر آئے تھے اور بڑی کامیابی سے اسے مذہب کا حصہ بنا لیا ۔ مثلا ایران کی نسلی حرمت یا برصغیر کے ذاتی و علاقای دیوتا کا خیال جس نے مزارات و پیروں کو تقدس دلایا ہے اس کی اسلام کی توحیدی مذہب میں کوئی گنجائش نہیں تھی ۔ لیکن یہاں بھی اسلام کے پیروؤں نے قائم رکھا ہے ۔
ہر مذہب جب پھیلتا ہے تو وہ اپنے ابتدائی تصورات سے بہت مختلف ہوجاتا ہے ۔ کیوں نئی قومیں جو اس مذہب کو قبول کرتی ہیں تو اس مذہب کو اپنے تصورات کے مطابق ڈھال لیتی ہیں ۔ اسلام کے ابتدائی زمانے (یعنی بنو امیہ اور بنو عباسیوں کا ابتدائی دور) میں جب بہت سی بیرونی قومیں تیزی سے اسلام قبول کر رہی تھیں اور اس میں ترقی و توسیع کا سلسلہ جاری تھا اور اسلام قبول کرنے والے اپنے ساتھ نئے نئے خیالات لا رہے تھے اور اس کی توجیع قران و حدیثوں سے قائم کرنے کی کوشش کر رہے تھے ۔ جس کے لیے مختلف تاولیں کی جانے لگیں اور نئے نئے عقائد سامنے آرہے تھے جس تفصیل میں ہم نہیں جاتے ۔ جس کی وجہ سے اسلام کا بنیادی فلسفہ متاثر ہو رہا تھا اور نئے نئے فرقے سامنے آنے لگے ۔ فرقوں اور خیالات کی اس قدر بھرمار ہوگئی تھی ان کی روک تھام کے لیے ایک خاص علم علم الکلام ایجاد کرنا پڑا ۔ لیکن یہاں بھی ایک مسلہ یہ بھی آگیا کہ کسی عقیدے یا خیال کی مخالفت کی وجہ سے کوئی مستحکم موقف اختیار کرنا پڑتا ہے اور اس میں شدد سے جمے رہنا پڑتا ہے تو اس صورت میں بھی نئی تاویلیں اور خیالات جنم لیتے اور ان خیالات کی تاویلیں بھی اس قدر شدد سے بیان کی جاتی ہے کہ وہ بنیادی تصورات سے بہت دور چلا جاتا ہے اور ایک نیا فرقہ یا فرقہ کے سلسلہ شروع ہوجاتا ہے جس کی ایک بڑی مثال متعزلہ کی ہے ۔ جنہوں نے بعض غیر مسلموں کے جوابات کے لیے کلام کو مخلوق کہا اور اس میں اس قدر شدد پیدا کی کہ وہ اسلام کے بنیادی تصور سے بہت دور نکل گئے ۔ یہاں تک فرقہ جو خاص علمی و عقلی بنیادوں قئم تھا اور انہوں نے بھی تشدد کا راستہ اختیار کرلیا ۔ یہ فرقہ آج باقی نہ رہا اور مٹ گیا اور آج بھی اس کی مخالفت اور اسے بدعتی فرقہ کہا جاتا ہے ۔ مگر ان کے بہت سے خیالات اب بھی زندہ ہیں اور ان خیالات اور علماء کو آج بھی علماء بڑے فخر سے بطور دلیل پیش کیا جاتا ۔ مثلاً آج جب کسی بچے سے بھی یہ سوال کیا جاتا ہے کہ اللہ کس جگہ ہے وہ فوراً جواب دے گا ہر جگہ ہے ۔ یہ خیال بھی سب سے پہلے متعزلہ نے پیش کیا تھا ۔ ورنہ علماء اس خیال کے سخت مخالف تھے اور اس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ امام ابن تمییہ نے منبر کی سیڑھیوں سے اتر کر بتایا تھا کہ قیامت کے دن خدا اس طرح آسمان سے اترے گا ۔
تہذیب و تر تیب
(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں