87

ابدالی (درانی)

نعمت اللہ ہروی لکھتا ہے کہ ترین بن شرجنون بن سربنی بن قیس کے تین لڑکے تھے ۔ ایک کا رنگ کالا تھا ترین نے اس کا نام ’تور‘ (کالا) رکھا ۔ دوسرے کا رنگ گورا تھا ، اس کا نام سپین (سفید) رکھا اور تیسرے کا نام اودل تھا ۔ روایات کے مطابق ترین کے چار لڑکے سپین ترین ، تور ترین ، ژر ترین ، بور ترین تھے ۔ لیکن بور ترین کے لئے ابدالی کی اصطلاع رائج العام ہوگئی ہے اور کبھی کبھار یہ اصطلاع اچکزئیوں کے لئے استعمال ہوتی ہے جو توبہ کے علاقہ تک محدود ہوگئے ہیں ۔

معارف اسلامیہ میں ہے کہ ابتل یا ہفتل=(اودال و ابدال) = ھبطل و یقتل یعنی ہنوں سے ان کا نسلی تعلق ہے ۔مگر میرا گمان ہے کہ مسلمانوں کی آمد سے پہلے اس علاقے میں آباد ترک نژاد باشندے جو اوغو یا اوغہ کہلاتے تھے ۔ اس لئے غالب امکان یہی ہے کہ اوغہ+ال=اوغال یعنی اوغوں کی اولاد ۔ یہ بعد میں رفتہ رفتہ امتعداد زمانہ سے یہ اوغال سے اودال ہوگیا ۔ جس کا افغانوں کے لشکر میں ترین کے لڑکے کی حثیت سے ذکر آیا ہے ۔ بعد میں اودال کا ’و‘ ’ب‘ میں بدل گیا جس کا آریائی زبانوں میں عام رواج ہے ۔

ابدالیوں نے ہی موجودہ افغانستان کی بنیاد رکھی تھی ۔ احمد شاہ ابدالی المعروف درانی اس مملکت کا بانی تھا اور افغانستان کی تاریخ کا سب سے بڑا حکمران گزرا ہے ۔ اس کی مملکت کی حدودیں ۱۷۷۳؁ء میں جب وہ فوت ہوا تو دریائے آمو سے لے کر دریائے سندھ اور تبت سے لے کر خراسان تک پہلی ہوئی تھیں ۔ مگر اس کے جانشین اس عظیم الشان سلطنت کو نہیں سنبھال سکے اور یہ موجودہ افغانستان تک محدود رہے گئی ۔

اس کی تاجپوشی قندھار میں ہوئی تھی جہاں اسے ایک فقیر سیّد صابر شاہ نے اسے دُر دوران کا خطاب دیا تھا ۔ اس وقت سے ابدالی درانی کہلانے لگے ۔    

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں