81

ابوالمیمون عبدالمجید الحافظ الدین

ابوالمیمون عبدالمجید الحافظ الدین دولت فاطمیہ کا گیارواں خلیفہ524ھ تا 544ھ
آمر جب قتل ہوا تو اس کا کوئی بیٹا نہیں تھا اس لیے اس کے چچا زاد بھائی کو خلیفہ بنا دیا گیا ۔ یہ مستنصر کا پوتا اور اس کے بیٹے محمد کا بیٹا تھا ۔ چونکہ شعیہ عقائد کے مطابق باپ کے بعد بیٹا ہی امام بنتا ہے ۔ اس لیے اس نے اس لڑکے کا نائب ہونے کا دعویٰ کیا ، جو آمر کی ایک بیوی کے بطن سے ہونے والا تھا ۔ اس حافظ اپنے کو نائب کہتا تھا ۔ مگر لڑکی پیدائش کے بعد اس نے امام نے ہونے کا دعویٰ کیا ۔  
ہزبر الملک کا قتل اور ابو علی احمد کی وزارت
حافظ کے پہلے وزیر ہزبر الملک تھا لیکن فوج نے اس کی وزارت قبول نہیں کی اور اس کو معزول کرنے کا مطالبہ کیا ۔ مجبوراً ہزبر الملک کو معزول کردیا اور فوج کے مطالبہ پر اسے قتل بھی کرنا پڑا اس کے بعد احمد علی وزیر بنا ۔ ہزبر الملک کی وزارت صرف ایک دن رہی ۔ 
احمد علی اور یانس کا قتل 
احمد نے وزیر ہوتے ہی حافظ کے اختیارات چھین لیے اور اس نے حکومت کا مذہب اسمعیلی سے بدل کے اثنا عشری جاری کرایا اور امام منتظر کے سکے جاری کیئے اور خطبہ میں سے بھی حافظ کا نام نکلوا کر اثنا عشری کے اماموں اور اپنا نام داخل کروا دیا ۔ پھر اس نے حافظ کو بھی قتل کرانے کی کوشش کی ۔ لیکن اس میں وہ کامیاب نہیں ہوا ۔ احمد کو 526ھ میں یانس کتامی نے قتل کردیا ۔ حافظ نے یانس کو وزیر بنالیا ۔ یہ بہت ہوشیار تھا لیکن ضرورت سے زیادہ سخت تھا ۔ اس لیے حافظ گھبرا گیا اور موقع پاکر 529ھ میں اسے قتل کروا دیا ۔
حافظ کے بیٹوں کی لڑائیاں 
528ھ میں اس نے ولی عہد سلیمان کو بنایا ، لیکن یہ لڑکا دو مہنے کے بعد مر گیا ۔ اس کے بعد اس نے دوسرے بیٹے حسین کو ولی عہد بنایا ۔ مگر اس تیسرا بیٹا حسن جو بہت دولت مند اور ذی اثر تھا نے اس کو تسلیم نہیں کیا ۔ اس وقت مصری فوجوں کی دو جماتیں تھیں ، ایک ریحانیہ اور دوسری جیوشیہ ۔ حسن نے دونوں جماتوں میں پھوٹ ڈلوادی ، آپس کی اس خانہ جنگی میں پانچ ہزار سے زیادہ افراد مارے گئے ۔
حسن نے طایفہ ریحانیہ کو ساتھ لے کر ارباب حکومت کا پیچھا کیا ۔ اس نے پھر اس نے حافظ اور اپنے بھائی حیدرہ پر ہاتھ صاف کرنے کی کوشش کی ۔ حافظ نے تنگ آکر حسن کو ولی عہد بنانے کا فرمان جاری کیا ۔ لیکن حسن کی جرت اور بڑھ گئی ۔ حافظ نے اپنے ساتھیوں کو جمع کرکے اس کا مقابلہ کرنا چاہا ، لیکن ناکام ہوا ۔ اب اس نے حکمت عملی کے تحت بیٹے کو ایک خط بھیجا کہ ہم میں ان بن ہوگئی ہے لیکن بہر حال تو میرا فرزند ہے ۔ تو نے امراء پر بہت سختی کی ہے ۔ یہ ایک دن تجھے قتل کرڈالیں گے ۔ یہ خط پڑھ کر حسن ان امیروں کو بلا بھیجا اور ان سب کو قتل اور ان جائدادیں بھی ضبط کرنے کا حکم دیا ۔ یہ دیکھ کر امرا گبھرائے اور ایک بڑی فوج جمع کر کے حافظ کو دھمکی دی کہ وہ حسن کو ولی عہدی سے علحیدہ کردے ۔ حاٖفظ نے موقع سے فائدہ اٹھایا اور ان سے ربط بڑھائے ۔ اب حسن کے پاس چند سپاہیوں کے علاوہ کوئی نہ رہا ۔ حسن نے بے بس ہوگیا اور اس کو اپنے باپ حافظ کے محل میں پناہ لی ۔ لیکن فوج نے قیصر خلافت کا محاصرہ کرلیا اور حسن کی موت کا مطالبہ کیا ۔ جس پر مجبوراً حافظ نے بیٹے کو زہر دلوا دیا ۔
صلیبیوں کی ناکامی
خوش قسمتی سے اس وقت صلیبیوں کے حملہ کا خطرہ کم ہوگیا تھا ۔ کیوں کہ وہ ترکوں کے حملوں کے خلاف مداخلت میں مصروف تھے ۔ لیکن مغرب میں ان کا نیا دشمن صقیلہ کا راجر ثانی پیدا ہوگیا تھا ۔ اس نے افریقہ میں برصہ ، طرابلس الغرب ، 543 میں مہدیہ کو فتح کرنے کے بعد اس نے سکندریہ کا رخ کیا ۔ صلیبیوں کی اس پیش قدمی سے دولت فاطمیہ میں بڑی پریشانی پھیلی ۔ 
وفات
حافظ نے 75 سال کی عمر میں 544ھ میں وفات پائی ۔ 

تہذیب و تدوین
عبدلمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں