75

ابوتمیم معد المستنصرباللہ

ابوتمیم معد المستنصرباللہ دولت فاطمیہ کا آٹھواں خلیفہ اور اسمعلیہوں کا اٹھارواں امام 427ھ تا 487ھ 
مستنصر ۴۲۷ھ میں نہایت کمسنی میں امام بنا ، یعنی سات سال کی عمر میں یہ خلیفہ بن گیا تھا ۔ اس کو بنو فاطمین میں یہ امتیاز حاصل ہے کہ اس کی حکومت تمام فاطمین خلیفاؤں سے زیادہ طویل یعنی ساٹھ سال چار مہینے تک رہی ، اس کے نام کا خطبہ بغداد اور عراق میں ایک سال تک پڑھا گیا البتہ حجاج اور یمن ان کے قبضہ میں بیس سال رہا ۔ مستنصر کے عہد میں شام ، صقلیہ اور بلاد مغرب سے فاطمی حکومت ختم ہوگئی تھی ۔ اسی کے دور میں ناصر خسرو نے مصر کا دورہ کیا تھا ۔ اس نے فاطمی دربار کی شان و شوکت اور دولت و ثروت کے چشم دید واقعات لکھے ہیں ۔ 
ابتدایہ عہد
مستنصر کی کمسنی کی وجہ سے حکومت کی باگ دوڑ اس کے وزیر علی بن احمد جر جرائی کے ہاتھ میں رہی ۔ اس نے ہی لوگوں سے ظاہر کی بیعت لی ۔ اس کا دور امن اور خوشحالی کا زمانہ تھا ۔ 429ھ میں بنو فاطمہ اور قیصر قسطنیطنہ کے درمیان صلح ہوجانے سے حلب اور شام کے دوسرے شہر محفوظ ہوگئے ۔ 
مستنصر کی والدہ کا رسوخ 
436ھ میں جرجرائی کے انتقال کے بعد حسن بن علی بہ معروف ابن الانباری وزیر بنا ۔ ظاہر کی والدہ ایک حبشی کنیز تھی ۔ جسے ایک یہودی تاجر ابو سعد ابراہیم سے خریدا گیا تھا ۔ ابن الانباری کا ابو سعید ابراہیم سے کچھ جھگڑا ہوگیا ۔ یہودی تاجر نے مستنصر کی والدہ کے ذریعہ اسے معزل کرادیا اور وزارت ایک یہودی صدقہ بن یوسف فلاحی کو وزارت دلوادی ۔ معزولی کے بعد بھی یہودی تاجر ابن الانباری کی تاک میں رہا ۔ آخر اپنی سازش میں کامیاب ہوا اور ابن الانباری کو 440ھ میں قتل اور اس کی جائداد ضبط کروا دی گئی ۔
صدقہ ہمیشہ تاجر کے دباؤ میں رہا اور وہ تاجر کے دباؤ سے تنگ آگیا ۔ اس نے چند ترکی سپاہیوں کے ذریعہ مزکور تاجر اور اس کے بھائی ابو نصر کو قتل کروا دیا ۔ ان دونوں کے انتقام میں مستنْصرکی والدہ نے صدقہ کو خود اپنے ہاتھ سے قتل کردیا ۔ 
صدقہ کے بعدابو البرکات صفی الدین حسین بن محمد جرجرائی وزیر بنایا گیا ۔ اس نے حبشیوں کو بھرتی کیا کہ ترکوں اور حبشیوں میں توازن رہے ۔ لیکن یہ معزول ہوا ۔ اس کا قائم مقام ابو الفضل قائم بن مسعود وزیر بنا اور تین ماہ کے بعد معطل ہوا ۔ 
صدقہ کے بعد ابو البرکات صفی الدین حسین بن محمد جرجرائی وزیر بنایا گیا ۔ اس نے حبشیوں کو بھرتی کیا کہ ترکوں اور حبشیوں میں توازن رہے ۔ لیکن یہ معزول ہوا ۔
اس کا قائم مقام ابو الفضل قائم بن مسعود وزیر بنا اور تین ماہ کے بعد معطل ہوا ۔ 
اس کے بعد 443ھ میں یازوری وزیر مقرر رہا ۔ اس کی آٹھ سالہ (443ھ تا 450ھ) وزارت نہایت کامیاب رہی ۔
یاذوری اور بدر الجمالی کے درمیان وزیر یازوری جو زہر سے 450ھ میں فوت ہوا ۔ اس کے بعد کثرت سے وزیر منتخب اور معزول ہوئے ۔ بدر الجمالی تک چالیس وزیروں کا تقرر ہوا ۔ یہی حال قاضیوں کا ہے ، ان کی تعداد بیالیس ہے ۔ بعض وزیر اور قاضیوں کا تقرر دو دو تین تین بار تقرر ہوا ۔ اس کا سبب خلیفہ کی کمزوری اور دربار فوج کا باہمی اختلاف کا نتیجہ ہے ۔ مستنصر معمولی اشخاص کے ہاتھوں پھنس گیا تھا اور وہ اسے تجربہ کار لوگوں سے ملنے نہیں دیتے تھے ۔ ناصر خسرو جیسے داعی کو مستنصر سے ملنے کے لیے ڈیرھ سال تک انتظار کرنا پڑا ۔    
بزنطین سے کشمکش
یازوری کے دور میں کسانوں نے غلے کا بھاؤ بہت بڑھا دیا ۔ یازوری نے سرکاری گوداموں سے محفوظ غلے کو کم قیمت پر بیچا ۔ اس طرز عمل سے محصول گھٹنے سے حکومت کو نقصان ہوا ۔ بدقسمتی سے 446ھ میں قحط پڑا ۔ مستنصر نے قیصر تھیوڈر سے غلہ مانگا ۔ تھیوڈر نے اس شرط لگائی کہ غلہ اس صورت میں دیا جائے گا کہ دشمن کے حملہ کے وقت ہماری مدد کی جائے ۔ مستنصر نے یہ شرط تسلیم نہیں کی ۔ تھیوڈر نے غلہ روک لیا ۔ مستنصر نے روم سے لڑنے کے لیے مکن الدولہ حسن بن ملہم کو لازقیہ روانہ کیا ۔ افاقیہ کے قریب چند معرکے ہوئے اور حسن کو رومی کشتیوں نے گرفتار کر لیا ۔ مستنصر نے قاضی ابو عبداللہ قضاعی کو صلح کے لیے قسطنطنیہ بھیجا ۔ اسی وقت طغرل بک نے قیصر سے خواہش کی کہ جامع قسطنطنیہ میں عباسی خلیفہ (قائم بامراللہ) کا خطبہ پڑھایا جائے ۔ رومیوں نے فاطمیوں کے مقابلے میں بنو عباس سے صلح کرنا زیادہ مناسب سمجھا ۔ چنانچہ مستنصر نے کینسئہ قمامہ کا پورا خزانہ ضبط کر لیا ، جس پر قسطننطیہ سے فاطمیوں کے تعلقات مزید بگڑ گئے اور رومیوں نے شام کے ساحلی شہر جو فاطمیوں کے قبضہ میں تھے ان پر قبضہ کرلیا ۔ تھیوڈرا کے غلہ روکنے سے زیادہ نقصان نہیں پہنچا ، اگلے سال نیل میں کافی پانی آیا اور قحط دور ہوگیا ۔  
ذوال شام
صالح بن مدراس کا لڑکا نصیر (شبل الدولہ) 420ھ میں حلب پر قبضہ کرلیا ۔ مستنصر نے انوشگین کو اس کی سرکوبی کے لیے مقرر کیا ۔ حماہ کے قریب لڑائی میں شبل اور اس کا بھائی مارا گیا شمال ابو علوان (معز الدولہ) بھاگ گیا ۔
433ھ سے انوشتگین شام کا والی تھا ۔ اس نے عدل و انصاف سے شام کی حالت درست کردی ۔ مستنصر بھی اس کی عزت کرتا تھا بازنطینی بھی اس سے ڈرتے ۔ جرجرائی کو خبر ملی کہ انوشیگین کا سکریٹری انونشگین کو بنو فاطمہ سے منحرف کرنا چاہتا ہے ۔ جرجرائی نے انوشگین کو حکم دیا کہ سکریٹری کو برطرف کر دے ۔ انوشگین نے اس حکم کو نہیں مانا ۔ جرجرائی نے انوشگین کے ساتھیوں کو اس کی مخالفت پر آمادہ کیا ۔ انوشگین کے بعض لشکری تنخواہ نہ ملنے کی وجہ سے اس سے پھرگئے ۔ غرض ان تمام لوگوں نے مل کر انوشگین کے محل پر چڑھائی کردی ۔ انوشگین اپنے چند ساتھیوںکے ساتھ مل کر بعلبک اور حماۃ کی طرف نکل گیا ۔ مگر وہاں کے والیوں نے اس داخل ہونے نہ دیا ۔ اس کے بعد وہ حلب چلا گیا ، جہاں اس کا انتقال ہوگیا ۔
انوشگین کی جگہ جرجرائی نے ناصر الدولہ حسین بن حمدان کو اس کی جگہ مقرر کیا ۔ مگر شام کی حالت خراب ہوتی گئی اور عربوں نے بغاوت کردی ۔ حسان بن مفرج طائی نے فلسطین پر چڑھائی کردی اور معز الدولہ بن صالح کلابی نے حلب پر حملہ کیا ۔ مستنصر نے 440ھ میں ایک لشکر حلب روانہ کیا مگر ناکام رہا ۔ 
معز الدولہ کو بنی کلاب نے بہت تنگ کیا ، ناچار ہوکر اس نے 448ھ میں مستنصر سے صلح کرلی اور حلب کے بجائے بیروت ، عکہ اور جلیل کی ولایت حاصل کرلی ۔ حلب میں حسن بن علی (مکین الدولہ) کو والی مقرر کیا ۔ بنی کلاب نے معز الدولہ کے بھتیجے محمود کو حلب پر حملہ کرنے پر آمادہ کیا ۔ مکین الدولہ کو بھاگنا پڑا ۔ اس کے بعد حلب پر بنو فاطمہ کا قبضہ نہیں ہوسکا اور شام کے دوسرے شہر آہستہ آہستہ ان کے قبضہ سے نکل گئے ۔ 
ذوال مغرب
مغرب کی ولایت کا والی معز بن باولیس تھا ۔ وہ خود مختیار تھا اس کے اور وزیر یاوری کے درمیان کچھ ناخشگوار مراسلت ہوئی ۔ اس پر معز بن باویس 440ھ میں عباسی خلیفہ کے نام کا خطبہ پڑھنے لگا ۔ مستنصر نے مصر سے امین الدولہ کو مغرب روانہ کیا ۔ اس کے علاوہ بنو ہلال کے عربوں کو بھی بھجا ۔ ان کے اور معز بن باولیس کے درمیان کئی لڑائیاں ہوئی ۔ مگر معز بن باولیس نے مہدیہ میں اپنی خود مختیاری برقرار رکھی ۔ 443ھ میں مغرب کے تمام شہر فاطمین کے قبضہ سے نکل گئے ۔ 
ذوال صقیلہ 
مستنصر کے زمانے میں صقیلہ کے مسلمانوں کی حالت خراب ہوگئی ۔ اس وقت مسلمانوں کے دو گروہ ہوگئے ، جو آپس میں لڑتے رہتے تھے ۔ فرنگیوں نے اس خانہ جنگیوں سے فائدہ اٹھایا اور 453ھ میں صقیلہ پر قبضہ کرلیا ۔ 
حجاز یمن اور عراق میں بنو فاطمہ کی حکومت 
حجاز اور یمن میں اسمعیلی دعوت کو کامیابی ہوئی اور یہاں بیس سال تک بنو فاطمہ کا خطبہ پڑھا جاتا رہا ۔ عیراق میں الپ ارلسلان بساسیری نے ایک سال تک بنو فاطمیہ کا خطبہ پڑھایا ۔ 
ترکی اور حبشیوں کی لڑائی
453ھ میں معمولی بات پر ترکی اور حبشی فوجوں میں لڑائی چھڑ گئی ۔ مستنصر کی والدہ نے درپردہ کثیر تعداد میں حبشیوں بلایا اور پیسے اور اسلحہ سے حبشیوں کی مدد کررہی تھی ۔ یہ خبر ترکوں کو ہوگئی وہ ناصر الدولہ کی سردگی میں جمع ہوگئی اور حبشیوں سے لڑائی چھڑ گئی اور کئی لڑائیوں کے بعد حبشیوں کی ۴۲۰ھ میں بالکل کمر توڑ دی گئی اور اس وجہ سے ترکوں کا اثر بہت بڑھ گیا ۔
ناصر الدولہ کا استبداد  
ترک سالار ناصر الدولہ مستنصر سے فوج کی تنخواہ میں اضافہ کے علاوہ جابجا مطالبات کرنے لگا ۔ اس کے مطالبات پورے کرنے کے لیے مستنصر بیش قیمت ذخیرے کو کوڑیوں کے مول بیچنے پر مجبور گیا ۔ ناصر الدولہ نے جب مال دولت خود ہضم کرنا چاہا تو اس کے ساتھیوں میں پھوٹ پڑ گئی اور اس کے مقابلے کے لیے مستنصر کو خود میدان میں آنا پڑا ، 462ھ ناصر الدولہ کو شکست ہوئی اور وہ بجرہ چلا گیا ۔ ان لڑائیوں سے ملک کی حالت خراب ہوگئی اور مصر حالت دن بدن تک ابتر ہوتی گئی ۔     
463ھ میں مستنصر نے ایک لشکر ناصر الدولہ کے مقابلے کے لیے بھیجا ، بدقسمتی سے اس لشکر کو شکست ہوگئی اور لشکر تمام مال دولت ناصر الدولہ کے قبضہ میں آگیا ۔ جس کی وجہ سے وہ بہت طاقت ور ہوگیا اور اکثر ساحلی مقامات مثلاً اسکندریہ اور دمیاط وغیرہ میں اس نے اسماعیلی خطبہ موقوف کر کے عباسی خلیفہ کا خطبہ جاری کیا ۔ اس کے علاوہ اس نے مصر میں جو غلہ جاتا تھا وہ روک لیا ۔ مصری دوہری مصیبت میں مبتلا ہوگئے ، مصر پہلے ہی لڑائیوں کا شکار تھا اور اب غلہ بھی رک گیا ۔ اس مصر قحط کا شکار ہوگیا اور ہزاروں لوگ موت کا شکار ہوگئے ۔ مصری فوج کو تنخواہ نہیں ملی تو اس نے شاہی محل کو لوٹ لیا ۔ اس طرح مستنصر کا تمام اقتدار جاتا رہا ۔ لہذا مستنصر کو ناصر الدولہ سے صلح کرنی پڑی ۔ اس شرط پر صلح ہوئی کہ ناصرالدولہ بجیرہ میں ہی ٹہرے اور اس کو ایک مقرہ رقم دی جائے گئی ۔ اس کے مصر میں غلے کی آمد ہوئی ۔ لیکن ایک مہینہ نہیں گزرا ناصرالدولہ نے پھر قاہرہ کا محاصرہ کرلیا ، اس دفعہ مستنصر کے لشکر نے ناصر الدولہ کو بھگا دیا ۔ پھر وہ بجیرہ واپس چلا گیا اور عباسی خلیفہ کا خطبہ جاری کرا دیا ۔ مستنصر کی حالت خراب ہوچکی تھی اس کا محل لوٹ لیا گیا ۔ مستنصر کو محل میں پناہ لینی پڑی ۔ فاطمیوں کی ساری شان و شوکت جاتی رہی اس کے پاس اتنا پیسہ نہیں رہا کہ خانگی زندگی بسر کرتا ۔ ایسے عالم میں اس کے ایک امیر کی لڑکی روزانہ دو روٹیاں بھجواتی تھی ۔ ناصر الدولہ نے جب اپنا ایلچی بھیجا کہ مستنصر سے پیسہ وصول کرے ، اس نے دیکھا کہ مستنصر ایک چٹائی پر بے بسی کی حالت میں بیٹھا تھا اور محل میں تین نوکروں کے سوائے کوئی نہ تھا ۔ ایلچی نے مستنصر کا حال بتایا تو ناصر الدو لہ نے اس کے لیے وظیفہ مقرر کردیا اور مستنصر کو قید کر کے خود مصر کی حکومت اپنے ہاتھ میں لے لی ۔ مگر کچھ عرصہ کے بعد ناصر الدولہ قتل ہوگیا ۔
شام پر سلجوقیوں کا قبضہ 
461ھ میں شام پر سلجوقیوں کا قبضہ ہوگیا اور 467ھ میں انہوں نے بیت المقدس پر قبضہ کرلیا ۔ اس وقت خلافت فاطمیہ کی حالت ایسی خراب تھی کہ میں سلجوقی زرا ہمت کرتے تو دولت فاطمیہ سو سال پہلے ختم ہوجاتی ۔
بدر الجمالی کی مصر میں آمد
خلافت کی حالت خراب ہوگئی کہ مصر میں کوئی اس قابل نہیں رہا کہ خلافت کی حالت درست کرے ۔ اس لیے مستنصر نے بدر الجمالی کو شام سے مصر طلب کیا جو شام کا والی تھا ۔ بدر الجمالی 466ھ میں مصر پہنچا اور مصر کی حکومت اپنے ہاتھ میں لے لی اور اس نے بڑے بڑے فتنہ پروازوں کو قتل کروا دیا ۔ بدرالجمالی نے ملک میں امن و امان قائم کیا اور کچھ مدت کے دولت فاطمیہ کی بنیاد مستحکم ہوگئی ۔ 
فرقہ نزاریہ
462ھ میں حسن بن صباح مصر پہنچا ۔ حسن بن صباح کا بیان ہے کہ اس نے مستنصر سے پوچھا آپ کے بعد امام کون ہوگا ۔ اس پر مستنصر نے کہا کہ نزار ۔ جب کہ بدر الجمالی چاہتا تھا مستعلی کو امامت ملے ۔ اس لیے اس نے اس نے اس کو مستنصر سے ملاقات سے روک دیا اور زبردستی اسے شام روانہ کردیا ۔ 
وفات
مستنصر نے ساتھ سال چار مہینے حکومت کرنے کے بعد 487ھ زہر سے وفات پائی ۔ 

تہذیب و تدوین
عبدلمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں