82

ابو القاسم احمد المستعلی باللہ

ابو القاسم احمد المستعلی باللہ دولت فاطمیہ کا نواں خلیفہ اور اسمعلیہوں کا انیسواں امام 487ھ تا 495ھ 
مستنصر کی وفات کے بعد مستعلی کی وفات کے بعد اس کے اکیس سالہ لڑکے کو خلیفہ بنا دیا گیا ، اس فیصلے کو مستنصر کے بڑے لڑکے نزار نے اس فیصلے کو نہیں مانا اور بھاگ کر اسکندریہ چلا گیا ۔ 
نزار کا اسکندریہ پر قبضہ 
نزار نے اسکندریہ کے والی کو ترغیب و لالچ کے ذریعے اپنے ساتھ ملا لیا اور اسکندریہ پر نزار کا قبضہ ہوگیا ۔ نزار نے المصطفیٰ الدین اللہ کا لقب اختیار کرلیا ۔ نزار کے مقابلے کے لیے افضل نے 488ھ میں ایک لشکر لے کر مصر کا محاصرہ کرلیا ۔ فرقین میں معتدد معرکے ہوئے ، ابتدا میں نزاریوں کو کامیابی ہوئی اور وہ قاہرہ کے قرب و جوار تک آگئے ۔ لیکن افضل نے ایک دوسرا لشکر ترتیب دے کر دوبارہ جنگ کے لیے تیار ہوگیا اور اسکندریہ روانہ ہوا ۔ اس دفعہ نزار کے اکثر ساتھی اس کا ساتھ چھوڑ گئے ۔ نزار نے مقابلے تاب نہ لا کر ہتھیار ڈالدیئے اور امان طلب کی ۔ افضل نے اسے امان دی اور گرفتار کرکے قاہرہ بھیج دیا ۔ مستعلی نے نزار کو دو دیواروں کے درمیان کھڑا کر کے چن دیا ۔ گو نزار ناکام رہا لیکن اسعیلیوں میں ایک فرقہ نزاریہ وجود میں آگیا ۔ جو ابتدا میں حشیشن کہلاتا تھا اور آج کل آغا خانی کے نام سے جانے جاتے ہیں ۔ 
افضل کی حکومت 
نزار کی شکست کے بعد دولت فاطمیہ میں مستعلی کی کم سنی کی وجہ سے حکومت کی بگ ڈور افضل کے ہاتھ رہی ۔ کم سن خلیفہ صرف نمائش کے لیے عوام میں لایا جاتا تھا ۔ افضل نے ان شہروں کو جو فاطمی قبضہ سے نکل گئے تھے واپس لینے کی کوشش کی ۔ بیت المقدس پر ترکی امیر سکمان قابض ہوگیا تھا ۔ افضل کی کوشش سے 490ھ میں ممالک فاطمیہ میں داخل ہوا ۔ 
صلیبی جنگ
صلیبیوں کے حملے کی خبر جب افضل کو ہوئی تو اس نے اس کا خیر مقدم کیا ۔ اس کا خیال تھا کہ ان کی مدد سے بیت المقدس واپس لیا جاسکتا ہے ۔ لیکن صلیبیوں نے بیت المقدس پر قبضہ کر کے وہاں جو خون ریزی کی اس سے افضل چونکا ۔ اس کے بعد عقسلان کے قریب اس پر صلیبیوں کی جماعت نے اچانک اس پر حملہ کیا اور مصریوں کو شکست دی ۔ افضل گھبرا کر مصر بھاگ گیا ۔ دو سال کے بعد 495ھ میں صلیبیوں نے یافا کے قریب کامیابی ہوئی اور انہوں نے مصر پر حملہ کا ارادہ کر لیا ۔
وفات
495ھ میں مستعلی کا انتقال ہوگیا ۔ اس وقت اس کی عمر اٹھائیس یا چھبیس سال تھی ۔ کہا جاتا ہے کہ کسی نے اس کو زہر دے دیا یا کسی اور طریقہ سے خفیہ طور پر اسے مار ڈالا گیا ۔ وہ اپنے باپ کی طرح محل میں رہتا تھا اور حکومتی معاملات میں حصہ نہیں لیتا تھا ۔ 

تہذیب و تدوین
عبدلمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں