64

ابو القاسم محمد القائم بامراللہ

ابو القاسم محمد القائم بامراللہ 322ھ میں اپنے باپ عبداللہ المہدی کی موت کے بعد فاطمی خاندان کا دوسرا خلیفہ اور اسمعیلیوں کا بارواں امام بنا ۔ 
اس کا نام ابو قاسم محمد تھا اور اس نے قائم بامراللہ کا لقب اختیار کیا ۔ اس کی پیدائش سلمیہ (شام) میں ۲۷۵ھ میں ہوئی۔ قائم ایک دلیر جنرل تھا ۔ اس نے اپنے والد کے زمانے میں سیاسی اور جنگی معاملات میں نمایاں حصہ لیا تھا ۔ اس کی خلافت اور امامت کا اعلان مہدی کی موت کے سوا سال کے بعد ہوا ۔ اس کو اپنے باپ کی موت کا اس قدر صدمہ تھا کہ باقی ماندہ زندگی میں صرف دو دفعہ قیصر سے وہ بھی سوار ہو کر نکلا ۔ 
طالوت قریشی کا فتنہ 
قائم کے ابتدائی دنوں میں ایک عراقی کاتب ابن طالوت قریشی نے دعویٰ کیا کہ میں مہدی کا لڑکا ہوں شروع میں اس کے ساتھ ایک جماعت ساتھ ہوگئی اور اس نے طرابلس کا محاصرہ کرلیا ۔ لیکن جب انہیں معلوم ہوا کہ اس کا دعوی غلط ہے تو اس کے ساتھیوں نے خود اس کو قتل کردیا ۔ 
روم سے لڑائی اور جنوہ پر قبضہ
322ھ میں یعقوب بن اسحٰق تمیمی نے ایک بیڑا لے کر سواحل روم کو روانہ ہوا اور جنواہ پر حملہ کرے کے اس پر قبضہ کرلیا ۔ پھر جزیرہ سردانیہ اور قرقیسا پر حملہ کیا اور خوب لوٹ مار کی ۔
بلاد مغرب کی تسخیر 
بلاد مغرب میں ایسے شہر رہ گئے تھے جن پر بنو فاطمہ کا قبضہ نہیں ہوا تھا ۔ قائم نے اپنے صلیبی غلام میسور کو اس مہم پر روانہ کیا ۔ جس نے فاس ( مغرب اقصی ) تک کے تمام شہر فتح کر لیے ۔ کہا جاتا ہے کہ فاس پر بھی اس کے قبضہ میں آگیا تھا اور وہاں کا والی گرفتار ہوگیا تھا ۔ 
مصر پر حملہ 
قائم مصر پر اپنے باپ کے دور میں دو دفعہ حملہ کیا اور ناکام رہا تھا ۔ اس دفعہ خود اپنے عہد میں مصر کو فتح کرنے کی کوشش کی ۔ اس دفعہ اس کا غلام زیدان اسکندریہ کو مسخر کرنے میں کامیاب ہوگیا ، لیکن اخشید (حاکم مصر) کے بھائی عبید اللہ نے اس شہر کو واپس لے لیا اور فاطمیوں کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کردیا ۔
ابو یزید خارجی کی بغاوت 
ابو یزید خارجی جو زناتہ قبیلہ سے تھا اور اس کا نام مخلد بن کیدار تھا اور قسطیلیہ کا رہنے والا تھا ۔ مذہباً خوارج تھا ۔ اس کے پاس کافی لشکر جمع ہوگیا اور اس نے نے قوت حاصل کر کے بغاوت کر دی ۔ یہ لوگوں کو الناصر الدین (خلیفہ اندلس( کی دعوت دیتا تھا ۔ اس کو صاحب الحمار بھی کہتے تھے ، کیوں کہ یہ گدھے پر نکلتا تھا اور یہ بہت سادہ زندگی بسر کرتا تھا ۔ اس کی قائم کے والیوں سے کئی لڑائیاں ہوئیں جن میں یہ اکثر کامیاب رہا ۔ اس نے باغایہ ، قسطنطیہ ، سبتہ ، اربس کو فتح کرتا ہوا آگے بڑھا ۔ 
قائم نے اپنے دو غلاموں میسور اور بشریٰ کو لشکر دے کر اس کا مقابلہ کرنے کے لیے بھیجا ۔ پہلا رقادہ اور قیروان اور دوسرا باجہ کی طرف روانہ ہوا ۔ ابو یزید نے باجہ میں شکست کھائی اور بھاگ کر رقادہ پہنچا ۔ رقادہ میں میسور سے اس کی لڑئی ہوئی اور قائم کے لشکر کو شکست ہوئی اور میسور مارا گیا ۔ پھر ابویزید قیروان کی طرف بڑھا اور اس پر قبضہ کرلیا ۔ 
رقادہ اور قیروان نکل جانے کے بعد قائم کو مہدیہ میں پناہ لینی پڑی ۔ باشندے شہر چھوڑ کر چلے گئے اور صرف قائم کی فوج رہے گئے ۔ رسد بند ہونے کی وجہ سے قحط کی صورت حال ہوگئی ۔ 
ابو یزید نے مہدیہ فتح کرنے کی کوشش کی مگر کامیاب نہیں ہوا ۔ آخر اس کو محاصرے سے دست بردار ہونا بڑا ۔ اس کے دو بڑے سبب تھے ۔ پہلا تو خود ابویزید کے بعض پیرو کسی خانگی وجہ سے قائم کی طرف ہوگئے اور خود اس سے لڑنے لگے ۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ ابویزید کے اخلاق میں بڑا تغیر پیدا ہوگیا اور وہ تعیش کی طرف مائل ہوگیا تھا اور وہ محرمات شریعہ علانیہ کرنے لگا ۔ اس وجہ سے بربر آہستہ آہستہ اس سے منحرف ہوگئے اور اس کی قوت کمزور ہوگئی ۔ مجبوراً اسے مہدیہ کا محاصرہ اٹھا کر قیروان واپس جانا پڑا ۔ قیروان کے لوگ بھی اس کے خلاف ہوئے اور دوبارہ قائم سے رجوع کر لیا اور اس کی اطاعت قبول کرلی ۔ میلہ سے علی بن حمدون بھی لشکر لے کر پہنچ گیا ۔ اس نے دوسرے کتامی سرداروں نے مل کر کوشش کی اور تونس کو ابویزید کے قبضہ سے چھرا لیا ۔ کچھ عرصہ کے ابویزید سوسہ گیا اور اس شہر کا محاصرہ کرلیا ۔ دوران محاصرہ ہی قائم کا انتقال ہوگیا ۔ 
وفات
قائم نے 334ھ میں وفات پائی ۔ اس نے وفات سے بیشتر اپنے لڑکے منصور پر نص کی اور اسے اپنا جانشین قرار دیا ۔ اس کی موت کی خبر چھپائی گئی کیوں کہ ابھی ابو یزید خارجی کی بغاوت کا زور توٹا نہیں تھا اور وہ ابھی سوسہ کا محاصرہ کیئے ہوئے تھا ۔ 
 یہ بعض اوقات نرمی سے پیش آتا لیکن شیعی عقائد کی پابندی کے معاملے میں بہت سخت تھا ۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ ابو طاہر قرمطی سے ملا ہوا تھا اور اسی کے حکم سے بحرین اور ہجر میں مسجدیں اور کلام مجید کے نسخے جلادیئے گئے تھے ۔ 

تہذیب و تدوین
عبدلمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں