70

ابو طاہر اسمعیل المنصور باللہ

ابو طاہر اسمعیل المنصور باللہ اپنے باپ عبداللہ المہدی کی موت کے بعد تیسرا فاطمی خلیفہ اور اسمعیلیوں کا تیرواں امام 334ھ میں بنا ۔
ابو یزید کی بغاوت کا خاتمہ  
ابو یزید خارجی کی بغاوت جاری تھی اور اس نے سوسہ کا محاصرہ کیا ہوا تھا ۔ چونکہ یہ ساحلی مقام تھا اس لیے منصور نے ایک زبردست جنگی بیڑا دشتیق کاتب اور یعقوب بن اسحق کی سردگی میں سوسہ روانہ کیا کہ محصورین کو رسد فراہم کی جاسکے ۔ پھر اسنے اپنے غلام جوذر کو مہدیہ کا والی بنا کر خود ابویزید خارجی کے مقابلے کے لیے نکلا ۔ ابویزید خارجی اس کا مقابلہ نہ کرسکا اور قیران بھاگ گیا ۔ قیروان کے لوگوں نے ابویزید کو قیروان میں داخل نہیں ہونے نہیں دیا ۔ وہ سبتہ کی طرف بھاگا ۔ منصور نے قیروان کے باشندوں کو امان دی اور ابویزید کے بچوں کی نگہداشت کی اور ان کی تنخوائیں جاری کیں ۔ 
ابویزید پھر واپس قیروان واپس آیا اور کوشش کی کہ منصور کے لشکر کا مقابلہ کرے ۔ فریقین میں کئی لڑائیاں ہوئیں لیکن کوئی فیصلہ نہیں ہوا ۔ 335ھ میں منصور نے ایک بڑا لشکر ترتیب دیا ۔ بربر کو میمنہ پر کتامیوں کو میسرہ پر خود اپنے ساتھیوں کے ساتھ قلب میں ٹہرا اور اپنے لشکر کے ساتھ ابویزید کے لشکر پر ٹوٹ پڑا ۔ اس موقع پر اس نے خود لڑائی میں حصہ لیا ۔ ابویزید کو شکست ہوئی اور وہ بھاگ نکلا ۔ یہ جنگ بہت خون ریز تھی اور اس لڑائی کے بعد ابویزید کی قوت بہت کم ہوگئی اور اس کے بہت سے ساتھی منصور سے مل گئے ۔ ابو یزید کچھ عرصہ روپوش رہا ۔ پھر بنی بزال کے ساتھ منصور کے سے نبرد آزما ہوا معتدد لڑائیوں کے بعد بنو کتامہ کے قلعے میں ایک لڑائی میں سخت زخمی ہونے کے بعد گرفتار ہوا اور اپنے زخموں کی وجہ سے اس کی موت واقع ہوئی ۔ 
حمید بن بضلیتن کی بغاوت 
حمید کے بعد حمید بن بضلتین نے بغاوت کی ۔ یہ اندلس کے اموی خلیفہ کی طرف سے دعوت کرتا تھا ۔ 336ھ میں اس نے تاہرت کا محاصرہ کرلیا ۔ منصور اس کے مقابلے کے لیے خود نکلا اور اسے شکست دی ۔ 
صقیلہ
منصور کے ابتدائی زمانے میں یہاں کے عہدے دار آپس میں لڑنے لگے ۔ منصور نے یہاں امیر حسن بن علی کلبی کو صقیلہ کا والی مقرر کیا ۔ اس کے حسن انتظام سے صقیلہ کا بہترین اور مبارک ترین دور شروع ہوا ۔ یہ والی بنو کلب سے تعلق رکھتا تھا ۔ اس کے عہد میں صقیلہ نے تہذیب تمذن کے ہر شعبہ میں نمایاں ترقی کی ۔ جسے فریڈرک ثانی نے ایک خاص سانچے میں ڈھالا ۔ اس والی نے اپنی دانشمندی اور مصلحت اندیشی سے عربوں اور بربریوں میں اتحاد پید اکیا ۔ 
وفات 
منصور نے سات سال حکومت کرنے کے بعد 341ھ میں سردی کھانے سے وفات پائی ۔ 

تہذیب و تدوین
عبدلمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں