74

ابو علی منصور الامر باحکام اللہ

ابو علی منصور الامر باحکام اللہ دولت فاطمیہ کا دسواں خلیفہ اور اسمعلیوں کا بیسواں امام 495ھ تا 524ھ 
مستعلی نے اپنے پانچ سالہ لڑکے ابو علی پر نص کیا اور اسے اپنا جانشین بنایا ۔ یہ کمسن لڑکا تھا اس لیے افضل کو اس کا ولی بنایا اور مستعلی کی وفات کے روز ہی منصور ابو علی کے نام سے بیعت لے کر اسے الآمر اللہ کا لقب دے دیا گیا ۔ 
صلیبیوں کی کامیابیاں 
صلیبیوں نے یافا پر قبضہ کرلیا تھا ۔ 495ھ میں سعد الدولہ کو افضل ایک لشکر کے ان کے خلاف کاروائی کے لیے بھیجا ۔ صلیبیوں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا اور رملہ فاطمیوں کے قبضہ میں آگیا ۔ آپس کے اختلاف کی وجہ سے مصری فوج آگے نہیں بڑھ سکی ۔ اس کے بعد بھی صلیبیوں کے خلاف کئی لشکروں کو بھیجا گیا ، لیکن مصری کوئی قابل ذکر کامیابی نہیں حاصل کر سکے ۔ بلکہ عکہ ، جبیل ، بنیاس اور صیدا چھین لیا گیا اور صرف عسقلان ان پاس رہے گیا ۔ 510ھ میں انہوں نے مصر پر حملہ کر کے فرما کا کچھ علاقہ جلادیا اور تینس کے قریب پہنچ گئے ، لیکن صلیبی سپہ سالار کی علالت نے انہیں واپس جانے پر مجبور کردیا ۔ 518ھ میں انہوں نے صور کو قبضہ میں لے لیا ۔ 
فرقہ بدیعیہ 
اس کے بانی دو مصری دھوبی برکات اور حمید بن مکی تھے ۔ انہوں نے اصلی اسمعیلی عقیدے ظاہر کردیئے ۔ افضل کو علم ہوا تو اس نے دارلعلم کو بند کروادی اور اس فرقہ کے لوگوں کو سزائیں دیں ۔ برکات اور حمید قیصر میں چھپ گئے ۔ افضل کے قتل کے بعد ۵۲۷ھ میں درالحکمۃ کو دوبارہ کھولا ۔ حمید اور برکات دوبارہ ظاہر ہوئے ۔ وزیر مامون البطائحی نے انہیں قتل کروا دیا ۔ 
 افضل کا قتل
افضل کے طرز عمل سے دعوت کے ارکان ناراض تھے ۔ اس سبب یہ تھا کہ وہ آمر پر بہت سختی کرتا تھا اور اس کے اختیارات چھین لیے تھے اور وہ اہل سنت کو بہت رعایت کرتا تھا ۔ اس لیے آمر نے افضل کو ابو عبداللہ بن البطائحی کے ذریعہ قتل کروا دیا ۔     
وزیر المامون ابن ابطائحی 
515ھ میں افضل کے قتل کے بعد ابو عبداللہ ابن البطائحی جس نے افضل کو قتل کرنے کا اہتمام کیا تھا وزیر بنا۔ آمر نے اسے مامون کا خطاب دیا ۔ یہ بہت قابل تھا لیکن خون ریز بھی تھا ۔ اسے 519ھ میں قید کیا اور 521ھ میں سولی دے دی گئی ۔ 
آمر کا قتل 

ٍ مامون البطائحی کے بعد آمر نے کسی کو وزیر نہیں بنایا ۔ صرف مشورے کے لیے دو افسر جعفر بن عبدالمنعم اور ابو یعقوب ابراہیم سامری مقرر ہوئے ۔ یہ طریقہ اور مضر ثابت ہوا اور جو الزمات وزیروں پر لگ رہے تھے وہ خود آمر پر لگ نے لگے اور خود آمر رعایا پر تشدد کرنے لگا ۔
نزار کے ماننے والے آمر کے سخت دشمن تھے ۔ یہ اس تاک میں تھے کسی طرح آمر کو قتل کر کے نزار کے سلسلے کو مصر میں قائم کریں ۔ آمر ایک روز اپنی معشوقہ کے پاس سیر گاہ میں جارہا تھا کہ چند نزاریوں نے جو ایک جگہ چھپے ہوئے تھے اس پر اچانک حملہ کرکے زخمی کردیا ۔ اسے قاہرہ لایا گیا 524ھ میں اسی شب اس کا انتقال ہوگیا ۔
تہذیب و تدوین
عبدلمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں