79

ابو معد علی الظاہر) لا عزاز دین اللہ)

ابو معد علی الظاہر (لا عزاز دین اللہ) دولت فاطمیہ کا ساتواں خلیفہ اور اسمعلیہوں کا سترواں امام 411ھ تا 427ھ 
حاکم کے مفقود ہونے سے پہلے اپنے اکلوتے بیٹے ظاہر پر نص کر کے اسے اپنا ولی عہد مقرر کردیا تھا ۔ جس روز حاکم غائب ہوا تھا اس روز ظاہر نے اپنے خاص خاص پیروں سے بیت لی تھی ۔ تین مہینے تک حاکم کے غائب ہونے کا اعلان نہیں کیا گیا ۔ جب 412ھ میں یہ خبر شائع ہوئی تو ظاہر کی بیت عوام نے لی ۔ اس وقت اس کی عمر سترہ سال تھی ۔
عبدالرحیم کی بغاوت 
 میں عبدالرحیم نے بغاوت کی جو ایک روایت کے مطابق حاکم کا ولی عہد تھا اور دمشق کا والی تھا ۔ اس نے خود مختیاری کا اعلان کیا اور اہل دمشق بھی ساتھ ہوگئے ، لیکن اس کے ظلم و تشدد سے اس سے بیزار ہوگئے ۔ حاکم کی بہن نے اسے گرفتار کرکے مصر بلوالیا ، جہاں وہ قید کرلیا گیا اور اسی قید کی حالت میں چند سال کے بعد مر گیا ۔ 
ست المک کا اقتدار
 ظاہر کی کم سنی کی وجہ سے اس کی بہن ست الملک کا اقتدار بڑھ گیا تھا اور مملکت کی باگ ڈور اس کے ہی ہاتھ میں رہی ۔ ست المک نے وزیر سیف الدولہ یوسف بن دداس کو دھوکہ سے قتل کروا دیا ۔ ظاہر کا پہلا وزیر الحسن عمار تھا ۔ اسی نے ظاہر کی بیعت لی تھی ۔ یہ بھی ایک مہینہ بعد 412ھ میں قتل ہوگیا ۔ اس کے بعد بدر الدولہ ابو الفتوح موسیٰ بن وزیر ہوا ۔ یہ بھی 413ھ میں قتل ہوا ۔ اس کا قائم مقام شمس الملک مسعود بن طاہر الوزان ہوا ۔ اس کی وزارت تقریباً ایک سال رہی ۔ 415ھ میں ست المک مرگئی ۔ 
تین سرداروں کا اقتدار
ست المک کے مرنے کے بعد اقتدار تین سرداروں الشریف الکبیر العجمی الشیخ ابولقاسم ، علی بن احمد نجیب الدولہ الجر جراتی اور شیخ العمیہ محسن بن بادوس کے آگیا ۔ یہ لوگ پر روز ایک دفعہ ظاہر کے پاس جایا کرتے تھے اور اس سے ملاقات کے بعد سلطنت کے امور انجام دیا کرتے تھے ۔ سپہ سلار مظفر شمس الملک ، محکمہ انشاء کے صدر ابن حیران ، نقیب بنی طالب ، داعی الدعاۃ اور قاضی القضاء کو تقریباً تین ہفتوں میں ایک دفعہ جانے کی اجازت تھی ۔ ان کے علاوہ کسی میں قدرت نہیں تھی کہ خلیفہ سے ملے ۔ 
قحط
416ھ تا 418ھ تک نیل میں پانی کی آمد کم رہی جس کے نتیجہ میں مصر میں قحط پڑا ۔ روٹی ملنا دشوار ہوگیا ۔ ملک میں مویشوں کا نشان تک نہ ریا ۔ اس لیے آمدنی کم ہوگئی ۔ اس دوران لشکریوں میں تنخواہ کے جھگڑا ہوگیا اور ایک رکن محسن بن بادوس مارا گیا ۔ اس پر لوٹ مار اور غارٹ گری ہوئی ۔ ظاہر یہ حالت دیکھ کر قرض کا ایک فنڈ کھولا کہ رقم جمع کرکے غریبوں کی مدد کی جاسکے ، مگر چند اشخاص کے سوا کسی نے ساتھ نہیں دیا ۔ تقریباً ایک ہزار غلام شہر کو لوٹنے اور عہدے داروں کو مارنے پر امادہ ہوگئے ۔ ظاہر کے غلام معضاد نے کچھ لشکر کے کر ان غلاموں کی سرکوبی کی اور ان کے سرغنوں کو قتل کیا ۔ اس ہنگامے کہ بعد نیل میں پانی آگیا اور ملک کی حالت بہتر ہوگئی 
ملکی فقیہوں کو ملک سے نکالنا 
حاکم نے جو مالکی مدسہ کھولا تھا اسے بند کروا دیا اور مالکی فقیہوں کو ملک سے نکال دیا اور اپنے داعیوں کو حکم دیا کہ لوگوں دعائم اسلام مختصر المنصف (اسمعیلی دعائیں) یاد کرائیں اور یاد کرنے پر انعام بھی دیا جاتا تھا ۔ 
شام کے علاقوں کی واپسی
حلب میں 416ھ میں عرب سردار صالح بن مدراس نے مختیاری کا اعلان کردیا ۔ اس کی سرکوبی کے لیے قساریہ کے والی انوشتگین کو 420ھ میں بھیجا گیا ۔ جس نے صالح کو شکست دے کر قتل کیا ۔ اس کے بعد والی رملہ حسن بن مفرج کی سرکوبی کے لیے بڑھا ۔ حسان نے شکست کھا کے رومیوں کے پاس پناہ لی ۔ اس طرح شام کے کھوئے ہوئے شہر پھر واپس آگئے ۔ 
بازنطینیوں مصالحت
ظاہر نے 418ھ میں بازنطینی شہنشاہ قسطین ہشتم سے صلح کرلی ۔ اس کے تحت بازنطینی علاقوں میں بنو فاطمیہ کا خطبہ پڑھایا جائے گا اور بیت المقدس کے کسینہ کو دوبارہ بنانے کی اجازت دے دی گئی اور جو نصرانی حاکم کے زمانے میں نصرانیت اختیار کرلی تھی انہیں اختیار دے دیا گیا کہ وہ چاہیں تو دوبارہ نصرانیت اختیار کرلیں ۔
مضاربہ اور ترکوں کے درمیان جھگڑا اور عراق میں اسمعیلی دعوت  
420ھ میں مصر میں ترکوں اور مضاربہ کے درمیان جھگڑا ہوگیا جس میں طرفین کے بہت سے لوگ مارے گئے ۔ ۴۲۵ھ میں ظاہر نے چند داعی عراق بھیجے ۔ ترکوں کے اختلافات کی وجہ سے انہیں کامیابی ملی ۔ 
وفات
427ھ میں ظاہر کا انتقال ہوگیا ۔ یہ اپنا زیادہ وقت لہو و لہب میں گزاتا تھا اور سلطنت کے امور میں حصہ نہیں لیتا تھا ۔ شراب کا بہت شوقین تھا اور اس نے اس کو پینے کی اجازت دوسروں کو بھی دے دی تھی ۔ اس باپ نے جتنی چیزیں حرام کیں وہ اس نے حلال کریں ۔

تہذیب و تدوین
عبدلمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں