73

ابو منصور نزار العزیز باللہ

ابو منصور نزار العزیز باللہ دولت فاطمیہ کا پانچوں خلیفہ اور اسمعیلیوں کا پندرواں امام 365ھ تا 386ھ 
معز کی وفات کے بعد اس کا بیٹا نزار جس کی کنیت ابو منصور اور لقب عزیز باللہ تھی ۔ یہ اپنے باپ معز کے ساتھ مصر آیا اور اسے ولیعہد بنا دیا گیا ۔ کیوں کہ 364ھ میں اس کے بڑے بھائی عبداللہ جو ولی عہد تھا انتقال ہوگیا تھا ۔
نسب پر شکوک
اس کی حکومت کے زمانے میں پھر نسب کا سوال اٹھایا گیا ۔ اسے منبر پر ایک رقعہ میں چند اشعار لکھے ہوئے تھے جس کا خلاصہ یہ تھا کہ ہمیں تمہارے نسب پر شک ہے اگر تم عباسی خلیفہ کی طرح اپنا نسب واضع کرو ، ورنہ عام لوگوں میں شامل ہوجاؤ ۔ اس واقع سے ظاہر ہے کہ مصر کے لوگوں کو بنو فاطمہ کے باطنی یا شعی عقائد سے کوئی ہمدردی نہیں تھی ۔  
بلاد مغرب میں بغاوتیں 
 قبیلہ زناتہ فاطمیہ کی نسبت بنو امیہ کی طرف زیادہ مائل تھا ۔ اس لیے بلاد مغرب کے اکثر والیوں نے بنو فاطمہ سے بغاوت کر کے اندلس کے اموی خلیفہ ہشام کی ماتحتی قبول کرلی ۔ اگرچہ انہیں اموی خلیفہ سے زیادہ مدد بھی نہیں ملتی تھی ۔ معزز نے یوسف بلکین کو بلاد مغرب کی ولایت دی تھی ۔ عزیز نے اسے طرابلس (الغرب) کا بھی حاکم بنادیا اور اس کو سیف العزیز کا خطاب بھی دیا ۔ یوسف بلکین نے ایک بڑا لشکر تیار کیا اور ان کے خلاف کراوائی کی اور ان والیوں کو ایسا پسپا کیا کہ انہوں نے جاکر سبتہ میں پناہ لی ۔ 
بلکین کے مرنے کے بعد اس کا بیٹا منصور والی بن گیا حاکم بن گیا ۔ اس نے آہستہ آہستہ خود مختیاری حاصل کرکے کاتب عبداللہ بن محمد قتل کردیا ۔ کیوں کہ منصور کو خوف ہو کہ کہیں عبداللہ اس کی جگہ چھین نہیں لے ۔ اس پر عزیز نے اپنے داعی ابو الفہیم کو قبیلہ کتامہ کی طرف روانہ کیا یہ اس قبیلہ کے ساتھ مل کر منصور کو معزول کرے ، جس کے ساتھ ضہاجی قبیلہ ہوگیا ہے ۔ منصور نے شہر سطیف پر جو کتامیوں کا مرکز تھا حملہ کر کے ان کی قوت کو توڑ دیا اور ابو الفہیم اور عزیز کے دوسرے داعیوں کو قتل کردیا ۔ عزیز نے منصور کو تحفے بھیج کو اپنی طرف مائل کرنے کی کوشش کی ۔ مگر ناکام رہا ۔ 
بلاد شام 
معز افتگین سے لڑنے کی تیاری کر رہا تھا کہ اس نے وفات پائی اس سے افتگین کی ہمت بڑھ گئی اس نے قوت پکڑ لی تھی اس کے خلاف معز نے کروائی کرنا چاہتا تھا لیکن موت نے اس کو مہلت نہیں دی ۔ افتگین نے دمشق کے بعد شام کے ساحلی شہروں کو جو بنو فاطمہ کے قبضہ میں تھے ، انہیں بھی فتح کرنے کی کوشش کی ۔ جس پر عزیز نے جوہر کو ایک لشکر کے ساتھ اس کے خلاف کاروائی کے لیے مقرر کیا ۔ جوہر نے دمشق کا محاصرہ کر لیا ۔ اس پر افتگین نے قرامطہ سے مدد طلب کی اور بحرین کے شہر الاحسار سے حسن قرمطی کو بلوا لیا ۔ دمشقی اور قرمطہ کی مشترکہ فوج نے جب کاروائی کی تو جوہر کو پیچھے ہٹنا پڑا اور جوہر عسقلان تک ہٹنے پر مجبور ہوگیا ۔ مجوراً جوہر واپس ہوگیا اب عزیز نے خود اسے مقابلے میں میدان میں آگیا ۔ لیکن عزیز کے حملے ان مشترکہ فوج کو شکست دینے میں ناکام رہے ۔ عزیز افتگین سے صلح کرنا چاہتا تھا ، لیکن حسن قرمطی اس کو صلح سے روکا ، آخر عزیز کی فوجوں نے افتگین کے قلب پر حملہ کیا تو افتگین اور حسن قرمطی کے قدم اکھڑ گئے اور افتگین گرفتار اور عزیز نے اس کے ساتھ اچھا سلوک کیا ۔
شام کے علاقہ میں حلب کے والی لولو نے بغاوت بھی کردی ، جب اس کے خلاف عزیز نے مہم بھیجی تو اس نے اپنی مدد کے لیے بازنطنینوں بلا لیا ۔ بازنطینوں نے اس وقت انطاکیہ پر قبضہ کر رکھا تھا اور اسے ڈر تھا کے حلب کے بعد فاطمی انطاکیہ چھین لیں گے ۔ اس لیے بسیل خود مدد کو آگیا ۔ فاطمی پیچھے ہٹ گئے اور عزیز خود ہی اس کے مقابلے کے روانہ ہوا لیکن راستہ میں قولنج سے 386ھ اس کا انتقال ہوگیا ۔
وزیر
367ھ میں عزیز نے یعقوب بن کلس کو وزیر بنایا ۔ یہ پہلا شخص تھا جو عہد فاطمی میں وزیر کہلایا ۔ عزیز سے بیشتر سب سے بڑا سیاسی عہدہ امام کا اول مدگار واسطہ کہلاتا تھا ۔ 
ترکوں کی فوج میں بھرتی 
فاطمی سلطنت کا قیام بربری فوج کی مدد سے ہوا تھا ۔ لیکن جوں جوں وقت کے ساتھ یہ لوگ اعتدال سے بھٹک کر استبداد کی گھاٹی جا پنچے ۔ عزیز نے محسوس کیا کہ بربری اب بھروسے کے قابل نہیں رہے تو اس نے ترک اور ویلم کی ایک فوج تیار کرنے کی کوشش کی اور اپنے وزیر یعقوب کو حکم دیا کہ زیادہ سے زیادہ ترکی اور ویلمی غلام خرید کر فوج میں بھرتی کرے ۔ 

تہذیب و تدوین
عبدلمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں