91

اتمان خیل

نعمت اللہ ہروی نے اس قبیلے کا ذکر نہیں کیا ہے ۔ جب کہ شیر محمد گنڈا پور نے اس کا شجرہ نسب اتمان خیل بن برہان بن کڑان بتایا ہے ۔

یہ کلمہ دو حصوں پر مشتمل ہے ات + مان = اتمان ہند آریائی میں اسمی گردان کے اخراجی لائقہ میں ’ات‘ کی گردان ہوتی تھی ۔ یہ اگرچہ اس وقت لگتا تھا جب لفظ کے آخر میں ’ا‘ ہو اور اوستا میں اس کی جگہ ’اس‘ استعمال ہوتا تھا ۔ مگر غالباً بالاالذکر کلمہ ’ات‘ کا تعلق اس ات سے نہیں ہے ۔ زیادہ امکان اس کا ہے کہ اڑمڑی زبان میں حالت اضافی ات کا لائقہ استعمال ہوتا ہے ۔ مثلاً ’ات سڑئی‘ (آدمی) ۔

کلمہ مان مختلف صورتوں میں برصغیر میں عام استعمال ہوا ہے ۔ جہانگر کا مشہور سپہ سالار مان سنگھ تھا ۔ مان پور راجپوتانہ کا ایک شہر ہے ۔ دارا اعظم نے سیتھوں کو ان کی شورش پسندی کی وجہ سے انہیں اپنی سلطنت کے مشرقی حصہ میں جلاالوطن کردیا تھا ۔ ان میں ایک قبیلہ من بھی تھا ۔ پٹھانوں اور برصغیر میں بہت سے قبائیل کے نام اس کلمہ سے بنے ہیں ۔ (دیکھے مندو) بالاالذکر مان غالباً اسی من کا معرب ہے اور اس کے معنی مان کا گروہ کے ہیں ۔ یہ ایک آریائی کلمہ ہے اور اس نام کو آریائی قوموں میں استعمال کیا ہے ۔

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں