257

اتمان خیل

نعمت اللہ ہروی نے اس قبیلے کا ذکر نہیں کیا ہے ۔ جب کہ شیر محمد گنڈا پور نے اس کا شجرہ نسب اتمان خیل بن برہان بن کڑان بتایا ہے ۔

یہ کلمہ دو حصوں پر مشتمل ہے ات + مان = اتمان ہند آریائی میں اسمی گردان کے اخراجی لائقہ میں ’ات‘ کی گردان ہوتی تھی ۔ یہ اگرچہ اس وقت لگتا تھا جب لفظ کے آخر میں ’ا‘ ہو اور اوستا میں اس کی جگہ ’اس‘ استعمال ہوتا تھا ۔ مگر غالباً بالاالذکر کلمہ ’ات‘ کا تعلق اس ات سے نہیں ہے ۔ زیادہ امکان اس کا ہے کہ اڑمڑی زبان میں حالت اضافی ات کا لائقہ استعمال ہوتا ہے ۔ مثلاً ’ات سڑئی‘ (آدمی) ۔

کلمہ مان مختلف صورتوں میں برصغیر میں عام استعمال ہوا ہے ۔ جہانگر کا مشہور سپہ سالار مان سنگھ تھا ۔ مان پور راجپوتانہ کا ایک شہر ہے ۔ دارا اعظم نے سیتھوں کو ان کی شورش پسندی کی وجہ سے انہیں اپنی سلطنت کے مشرقی حصہ میں جلاالوطن کردیا تھا ۔ ان میں ایک قبیلہ من بھی تھا ۔ پٹھانوں اور برصغیر میں بہت سے قبائیل کے نام اس کلمہ سے بنے ہیں ۔ (دیکھے مندو) بالاالذکر مان غالباً اسی من کا معرب ہے اور اس کے معنی مان کا گروہ کے ہیں ۔ یہ ایک آریائی کلمہ ہے اور اس نام کو آریائی قوموں میں استعمال کیا ہے ۔

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اتمان خیل” ایک تبصرہ

  1. یہ انصاری صاحب کی اتمان خیلوں کے بارے میں اپنی زاتی کاوش ہے لازمی نہیں یہ بلکل درست ہو

اپنا تبصرہ بھیجیں