87

ارتھ شاستر اور چانکیہ

تارہخی روایت کے مطابق چندر گپت موریہ جو ایک عام اور گم نام شخص نے ایک عظیم سلطنت کی بنیاد رکھی تھی ۔ برہمنی روایتوں کے مطابق چندر گپت اس مقام پر پیہنچانے میں سب سے بڑا کردار ایک برہمن وشنویہ گپت چانکیہ کوٹلیہ تھا ۔ چندر گپت موریہ ۳۲۱ ق م مگدھ کے تخت پر بیٹھا تھا ۔ 
ارتھ شاستر اسی چانکیہ کوٹلیہ کی ایک تصنیف ارتھ شاستر منسوب کی جاتی ہے اور یہ بھی دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اس تصنیف کا ذکر ہندوستانی ادب اور شاستروں میں خاصے تواتر کے ساتھ ملتا ہے ۔ لیکن اس کی وضاحت نہیں ملتی ہے کہ اس کتاب کا تذکرہ کن کن شاستروں میں ملتا ہے اور اس کی قدامت کا کیا ثبوت ہیں ۔ اس کتاب کو گزشتہ صدی کی ابتدا میں پہلے ڈاکٹر شام شاستری نے دریافت کیا تھا ۔ اس کے بعد اس کا ایک نسخہ میونخ کے ایک کتب خانے سے دریافت ہوا اور دونوں نسخے بہت حد تک ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں ۔ پھر کچھ شرحیں تامل ملیالم حروف تہجی میں ملتے ہیں ۔ ۹۰۹اء؁ میں اس کا انگریزی ترجمہ شائع کیا گیا تھا ۔ 
 چانکیہ اور ارتھ شاستر کی نسبت کئی تاریخ آرا ہیں اور اس پر علمی بحثیں بھی ہوتی رہی ہیں ۔ چانکیہ کے وجود سے لے کر ارتھ شاستر کے متن پر کئی امور معرض شک میں مبتلا رہے ہیں اور اس بارے میں اختلاف رائے رہا ہے ۔ تاہم بھارتی محقیقین اسے چابکیہ کی تصنیف کہنے پر اصرار کرتے ہیں اور بہت سے مغربی محققین نے اس کی بہت تعریفیں کیں ہیں ۔ ویسٹ اسمتھ کا بھی یہ کہنا ہے کہ یہ کتاب چانکیہ کی لکھی ہوئی ہے یا نہیں کچھ زیادہ اہم نہیں ہے ۔ یہ کتاب ان اصول سے سے بحث کرتی ہہے جو سیاست مدن کے متعلق مصنف کے زمانے میں رائج تھے ۔ اسمتھ کی بات درست صحیح مگر پہلے ثابت ہوجائے کہ یہ کتاب چانکیہ کی لکھی ہوئی ہے ۔
چانکیہ 
چانکیہ کا تذکرہ کچھ شاستروں اور وشاکھ دَت کا ایک ناٹک ’مدرا راکھشسََ’ جو آتھویں صدی کی تصنیف ہے ملتا ہے ۔ اس ناٹک کے مطابق چانکیہ کوٹلیہ چندر گپت موریہ کا وزیر اور ڈرامہ کے بنیادی کردار کے طور پر سامنے آتا ہے ۔ جس کی حکمت عملی سے نند راجہ کا سابق وزیر راکشس جو چندر گپت کے خلاف سازش میں سرگرم تھا وہ اس کا مطیع ہوگیا اور راجہ کو اپنا نعم البدل دلا کر خود سبکدوش ہوگیا ۔ یہ اگرچہ ایک ناٹک لیکن یہ ایک واحد ماخذ ہے جس میں چانکیہ کوٹلہ کی شخصیت پر روشنی پڑتی ہے ۔ لیکن بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ یہ چانکیہ کا فیض تھا کہ چندر گپت موریہ نے ایک عظیم سلطنت قائم کرلی جو بنگال سے لے کر مغرب میں افغانستان تک اور ہمالیہ کے دامن سے جنوب میں وندھیاچل تک پھیلی ہوئی تھی ۔ روایت کے مطابق آچاریہ چانکیہ کوٹلہ پاکستان کے شہر ٹیکسلہ میں پیدا ہوا تھا اور یہ چندر گپت کا اتالیق اور وزیر تھا ۔ اس سے ایک پشک (کتاب) ارتھ شاستر منصوب ہے ۔
موریہ سلطنت چانکیہ کا فیض تھی یا نہیں مگر اس سے پہلے یہ تو ثابت ہوجائے کہ چانکیہ کی شخصیت حقیقی تھی یا خیالی ؟ اور کیا ہم اس ناٹک پر اعتبار کرسکتے ہیں ؟ جن کے کردار اکثر حقیقی نہیں ہوتے ۔ اگر ان کے کرادر حقیقی ہوتے ہیں تو ان کو اپنے خیالات اور نظریات کے مطابق پیش کیا جاتا ہے ۔ مگر اس اہم شخصیت کا جس نے چندر گپت موریہ کو سلطنت حاصل کرنے مدد کی تھی ۔ لہذا یہ ایک شخصیت اہم اور اثر و رسوخ والی بھی یققیناً ہوگی ۔ مگر اس اہم شخصیت کا تذکرہ یونانی سفیر مگھیشر جو کئی سال چندر گپت کے دربار میں کئی سال رہا تھا اس نے اور دوسرے یونانی وقائع نوئیس کے تذکروں میں چانکیہ کا ذکر کیوں نہیں ملتا ہے ؟ کیا ایسا تو نہیں ہے یہ شخصیت خیالی ہے اور ناٹک ’مدرا راکھشسََ’ کے مولف کی ذہن کی پیداوار ہے اور بعد میں اس پر شاستر لکھ دیا گیا اور اس کے اس کے حقیقی ہونے دعویٰ کیا گیا ۔ 
کسی عہد کی کسی بھی تصنیف کا اپنے عہد کا آئینہ ہوتی ہے اور ہمیں اس سے اس عہد کی زبان ، رہن سہن ، تاریخ اور رسم و رواج بہت کچھ پتہ چل جاتا ہے ۔ مثلا میں کسی عام پڑھے لکھے شخص جسے اردو کی معمولی سمجھ بوجھ ہو اس کے سامنے اردو کے شعرا کے کچھ اشعار رکھوں ۔ جس میں علی قلی شاہ ، ولی دکنی ، میر اور فیض کے اشعار ہوں گے اور کہوں کے اس فہرست میں کو ان کی قدامت کے لحاظ سے ترتیب دو ۔ وہ فوراً علی قلی شاہ کو پہلا ولی دکنی کو دوسرا میر کے اور آخر میں فیض کے شعر کو آخر میں رکھے گا ۔ اس نے اگر ان اشعار کو پڑھا نہ بھی ہو مگر وہ ان کی زبان سے اندازہ لگالے گا کہ سب سے قدیم اور اس کے بعد کے اشعار کس ترتیب سے قدیم ہوں گے ۔ اس طرح ان شعراء کے عہد کے اشعار کا مطالعہ کروں تو اس عہد کے معاشرے اور تاریخ کی تصویر ہمارے سامنے آجائے گی ۔ اس لیے کوئی تصنیف کتنی قدیم ہے اس کی زبان اور متن کو دیکھ کر بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ یہ تصنیف اس دور کی ہے جیسا کہ دعویٰ کیا جاتا ہے ۔ لہذا ہم چانکیہ کی شخصیت اور ارتھ شاستر جس کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا ہے یہ چانکیہ کی لکھی ہوی ہے ۔ اس دعویٰ کو ہم مختلف کسوٹیوں پر پرکھ کر اندازہ لگائیں کہ کیا چانکیہ اور ارتھ کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا درست ہے کہ نہیں اور ؟ اس پر ایک طویل بحث کی ضرورت ہے ۔     
سنسکرت
وید جس زبان میں لکھی گئی وہ وید کی نسبت سے ویدک کہلاتی ہے ۔ تاہم اس کے الفاظوں کا ذخیرہ بہت محدود ہونے کی وجہ سے عام بول چال میں مروج نہیں تھی اور ویدی زبان کو غیر آریاؤں کو بھی استعمال کرنے کی اجازت نہیں تھی ۔ اس طرح یہ زبان مذہب تک محدود تھی ۔ یہ لکھنا نہیں جانتے تھے اس لیے ویدوں کو زبانی یاد رکھا جاتا تھا اور اس طرح وید کو برہمنوں نے محفوظ رکھا ۔ مگر چونکہ کہ عوامی استعمال میں نہیں ہوتی تھی اس لیے وید کے بہت سے حصے ناقابل فہم ہوگے ۔ اس وید کے زیادہ تر حصہ ابھی تک ناقابل فہم ہے ۔
آریا اس ملک میں آنے کے بعد جلد اپنی زبان بھول گئے اس لئے ویدوں کی تفسیریں لکھی گئیں اور انہوں نے ان منتروں کو جس کو سمجھ سکتے تھے کچھ نہ کچھ تفسیریں لکھ دالیں اور بقیہ حصہ کو چھور دیا لہذا وید کا بڑ حصہ اب بھی ناقابل فہم ہے ۔ یہ تفسیریں براہمن کے نام سے مشہور ہیں ۔ یہ براہمن تعداد میں کافی لکھے گئے تھے مگر اب صرف سات باقی بچے ہیں ۔ 
کہا جاتا ہے کہ پانی نے قوائد کے ساتھ وید زبان کو ایک معیاری شکل دی اور یہیں سے ویدی زبان کا سلسلہ ختم ہوکر سنسکرت کا شروع ہوتا ہے ۔ بول چال کی زبانیں اس کے بعد بھی وہی رہیں اور ان میں کچھ نہ کچھ ترقی ہوتی رہی ۔ لیکن پڑھے لکھے لوگوں کی زبان سنسکرت ہی رہی ۔ سنسکرت کے معنی سنواری ہوئی زبان کے ہیں اور اس کے مدمقابل عام بولیاں پراکرت یعنی خورد رو کہلاتی تھیں ۔ مگر ان بیانات میں حقیقت نہیں ہے ۔ 
اول تو پانی کی شخصیت اور اس کی تصنف ’دیا کرن’ بھی شکوک سے بالاتر نہیں ہے ۔ اول اس دور میں سنسکرت وجود میں آگئی تھی اس کا کوئی بھی ثبوت نہیں ہے ۔ دوم کوئی فرد واحد زبان میں تبدیلی نہیں لاسکتا ہے ۔ زبان میں تبدیلی تو پورا معاشرہ اور سیاسی سرگرمیوں کی وجہ سے آتی ہے ۔ اگر ہم یہ استدلال مان لین کہ سنسکرت کو پانی نے قواعد و نہوں کو پانی نے ترتیب دیئے تو یہ مانا پڑے گا کہ ویدی زبان بھی کوئی اصول و قواعد نہیں رکھتی تھی بلکہ منتشر الفاظوں کا مجموعہ ہے ۔ کیوں کہ سنسکرت نے برائے راست ویدک زبان سے اکتساب حاصل کیا ہے ۔ تیسری بات یہ ہے کیا یہ زبانیں جو پراکرت کہلاتی تھیں کیا کوئی قواعد یا اصول نہیں رکھتی تھیں ؟ اگر نہیں رکھتی تھیں تو پھر یہ زبانیں کیوں کر کہلاتی تھیں ۔ پھر سنسکرت کے ابتدائی کتبوں میں جو سنسکرت ملی ہے وہ ایک فصیح زبان نہیں بلکہ ان میں ایک ابتدائی زبان ہے ۔ 
ویدی جو کہ آریاؤں کی زبان تھی مذہبی بندوشوں پر رفتہ رفتہ مذہب تک محدود ہوگئی تھی ۔ یہی وجہ ہے برصغیر میں سب سے قدیم کتبات جو ملے ہیں وہ سنسکرت کے نہیں بلکہ پالی کے ہیں ۔  موریوں کے زمانے میں عام لوگوں کی اور ادبی زبان پالی زبان تھی ۔ جب کہ ابتدائی کتبات کی زبان بھی ناقص ہے ۔ مگر اشوک کے کتبات اسی زبان میں لکھے ملے ہیں بہتر ہوگئی ۔ پالی بھی آریائی زبان ہے لیکن سنسکرت سے مختلف زبان ہے ۔ 
ہم دیکھتے ہیں کہ برہمنوں کو عطیات جو مختلف راجاؤں نے دیئے تھے ان کتبات دوسری قبل عیسوی سے چوتھی عیسوی تک ملے ہیں ۔ ان کتبوں کی زبان ابتدا میں پالی میں تھی اور آخری عہد میں سنسکرت ہوگئی تھی ۔ اگرچہ دوسری صدی عیسویں کے کتبوں میں جو سنسکرت ملی ہے وہ ابتدائی زبان تھی اور یہ ابھی ادبی یا عوامی زبان بنے کے قابل نہیں تھی اور یہ ایک طبقہ کی زبان معلوم ہوتی ہے ۔ چوتھی صدی عیسوی میں وسط ہند پر گپت خاندان تخت پر بیٹھا اور اس خاندان نے سب پہلے سنسکرت کو علمی اور درباری زبان کے لیے استعمال کیا تھا اور اس دور سنسکرت کے ادبی شہکار تصانیف کئے گئے ۔ سنسکرت کو مقبولیت حاصل ہوئی تو بدوھوں نے اپنی مذہبی تصانیف بھی اسی زبان میں لکھیں ہیں ۔ لیکن سنسکرت کو کبھی بھی عوامی زبان نہیں بنی ۔ اس کے نتیجے میں سنسکرت تیزی سے اونچے طبقہ کی زبان بن گئی جس کو صرف تعلیم یافتہ آدمی سمجھ سکتے تھے اور اس زبان کی کی رسمی تعلم برہمنوں کے ہاتھ میں رہی ۔ چوتھی صدی کے بعد یہ زبان خطوط ، احکامات ، عام اطلاعات ، عدالتی فیصلوں میں بھی استعمال ہونے لگی ۔ سنسکرت میں افعال کے جو عجیب و غریب دعائیہ فقرے پائے جاتے ہیں اس لیے اس پر ہمیشہ ایک پروہتی زبان کی چھاپ لگی رہی ۔ اس میں روز مرہ کے استعمال کے سادہ فعل اور مستبل کا بھی فقدان ہے ۔ جب کہ ہم دیکھتے ہیں ارتھ زبان انتہائی صاف ستھری اور عہد جدید کی معلوم ہوتی ہے ۔
اس سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے ۔ تقریبا چار صدی قبل مسیح برہمنوں کو ویدی زبان زبان کو ترقی دینے کی کوشش کی اور ویدی زبان میں مقامی بولیوں کے الفاظ شامل کیے جانے لگے اس سے سنسکرت میں الفاظ اور محاوروں میں اضافہ ہونے لگا تھا اور اس میں بھی ایک زندہ زبان کی حثیت سے اس میں تنوع نظر آنے لگا اور مگر یہ سلسلہ چھوتھی صدی عیسوی تک جاری رہا ۔  
برصغیر میں سب سے قدیم کتبے اشوک کے ملے ہیں جو کہ پالی زبان کے ہیں اور وہ خروشتی اور براہمی رسم الخط تھا اور دیو ناگری برہمی سے وجود میں آئی ہے ۔ سنسکرت کا قدیم سے قدیم دیو ناگری کا نسخہ وید کا ہے جو ۱۴۶۵ء؁ کا جو کہ ۲۰۰۲ء؁ میں بھارت کی حکومت نے سرکاری طور پر یونسکو کو دیا تھا کہ یہ سنسکرت کا سب سے قدیم نسخہ ہے اور اس کی تفصیلات گوگل کے سرچ میں موجود ہیں ۔ جب کہ براہمی رسم الخط سے دیو ناگری رسم الخط نکلا ہے ۔ ایسی صورت میں پانی اور چانکیہ کی کی شخصیت ہی مشکوت ہیں کہ ان کی ہستی حقیقی تھی یا محض ذہنی اختراع ہے ۔ 
ارتھ شاستر 
جب ہم ارتھ ساشتر کا جائزہ لیتے ہیں تو ہمیں چندر گپت اور پاٹلی پتر کا کا کوئی حوالہ نہیں ملتا ہے ۔ اس کتاب میں چھوٹی چھوٹی ریاستوں کے علاوہ کوئی بڑی سلطنت نظر نہیں آتی ہے اور نہ ہی اس میں تاریخ کے حوالے کوئی بات نہیں ملتی ہے اور نہ ہی اس کتاب مولف کوئی حوالہ نہیں نہیں دیتا ہے کہ ہم اس کے عہد کو پرکھ سکیں ۔ اس کے باوجود اس تصنیف کو ایک اہم تاریخی دستانز مانا جاتا ہے اور پروفیسر ایف ایم ٹامسن نے اسے تاریخی ماخذ کے اعتبار سے سنسکرت کی سب سے زیادہ قیمتی تصنیف کہتے ہیں ۔ 
اس کتاب میں جو چونکا دینے والی بات ہے کہ اس میں مولف بہت سے علوم و فنون پر حاوی نظر آتا ہے جو ناممکنات میں ہے ۔ کسی ایک یا چند علوم کے بارے میں جاننا اور بات ہے مگر حاوی ہونا ممکنات میں سے نہیں ہے اور ان میں سے بہت علوم بعد میں وجود میں آئے اور مولف ان پر اس طرح بات کرتا ہے کہ وہ قدیم زمانے سے ان میں رائج رہے ہیں ۔   
اس کتاب میں مولف شروع سے ہی یہ فرض کرلیتا ہے کہ وہ اصول جن کی اس نے تشریح کی ہے محض ایک چھوٹی سی سلطنت میں کام آئیں گے جو اور اپنے جیسی چھوٹی چھوٹی سلطنتوں سے گھری ہوئی ہو اور یہ سب آپس میں یا کھلم کھلا یا خفیہ ایک دوسرے سے برسر نزاع و پرخاش ہوں ۔ 
اس طرح اس کتاب میں ہمسایہ سلطنتوں میں دائمی امن و صلح ناممکن تسلیم کی گئی ہے اور اس بتایا گیا ہے کہ جو راجہ زیادہ طاقتور ہو وہ دوسرے پر فوج کشی کرے اور جس کی طاقت رفتہ رفتہ زیادہ ہو رہی تو وہ بلا پس و بیش صلح کے معاہدے کو توڑ دے ۔ کوئی بادشاہ جو فاتح کی سلطنت کی سلطنت کے قریب قریب واقع ہو اس کا دشمن ہوتا ہے ۔ سیاست کے پیج و خم بہت بعد کی بات ہے اس زمانے میں صرف طاقتور کے آگے کمزور خم ہوتا تھا ورنہ اس کے خلاف فوج کشی کی جاتی تھی ۔ اس طرح کے بیانات سے کوٹلیہ کی شخصیت اور اس شاستر کو مشکوک بنادیتی ہے ۔ مگر کوٹلیہ کا یہ شاستر نہ صرف سیاست پر حاوی ہے بلکہ یہ ایک مکمل نظام حیات اور معلومات کا خزانہ ہے ۔ اس میں امن جنگ کے جملہ مسائل کے علاوہ قواعد اور انشا تک مسائل دیئے گئے ہیں ۔ یعنی یہ کتاب بادشاہوں کا دستور العمل ہے ۔ دوسرے سیاسی ، انتظامی ، عسکری سماجی اور اخلاقی مضوعات و مطالب کے ساتھ اس میں جتایا گیا ہے ۔ اس میں ایسے بہت سے علوم کے بارے میں تفصیلات دی گئیں ہیں جو کہ اس زمانے میں موجود ہی نہیں تھے ۔ مثلاً بادشاہ کی طرف سے ہونے اجزا ہونے والے فرامین ، مراسلات وغیرہ کا طریقہ کہ تحریریں کس کس نوعیت کی ہوتی ہیں اور ان کے لیے کیا کیا پیرائے اختیار کرنے چاہیں ۔ مثلاً وہ لکھتا ہے ۔
گروؤں کا قول ہے کہ شامن (الفظ) صرف شاہی فرمان کے لیے استعمال ہوسکتا ہے ۔ شاہی فرمان بڑی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں ۔ صلح اور اعلان جنگ دونوں کا دارو مدار شاہی فرمان پر ہوتا ہے ۔ اس لیے جو کوئی اعلیٰ منصبی صلاحیت رکھتا ہو ہر طرح کے آداب و رسوم سے واقف ہو ، انشاکا ماہر ہو اور پڑھنے کا ماہر ہو وہی فرمان نویسی پر مقرر ہوگا ۔ 
وہ راجہ کے حکم کو غور سے سن کر معاملہ کو اچھی طرح سمجھ کر حکم کو ضبط تحریر میں لائے گا ۔ جو تحریر مالک کے لیے ہو اس میں اس کے ملک ، دولت ، خاندان اور نام (القاب) درج ہوں گے ۔ جو آدمیوں کے لیے ہو اس میں ان کے ملک کا نام مناسب الفاظوں سے لیا جائے گا ۔ 
ذات ، گوت ، خاندان ، سماجی مرتبہ ، عمر ، علم (شروتما) منصب ، دولت کردار ، اوصاف (شیلا) خونی رشتوں وغیرہ مقام اور وقت (غالباً تحریری تاریخ) رقم کرنے کے بعد فرمان نویس مکتوب الیہ کے مرتبہ کے مطابق مناسب الفاظ میں مسودہ تیار کرے گا ۔ مضمون و مطالب کی ترتیب (ارتھ کرم) مناسبت (سمبندھ) تکمیل ، شستگی ، وقار اور وضاحت فرمان کی ضروری خصوصیات ہیں ۔
مضمون کے نکات کو ان کی اہمیت کے لحاظ سے مناسب ترتیب کے ساتھ لکھنا ، یہ حسن ترتیب ہے ۔ 
جب مندرجات آگے آنے والے حقائق سے متناقص نہ ہوں ، مسلسل اور آخر تک باہم مربوط رہیں ، اسے مربوط تحریر کہا جائے گا ۔ 
الفاظ ضرورت سے زائد نہ ہوں نہ کم ، مضمون کو دلیل و نظیر کے ساتھ موثر طور پر ادا کیا جائے اور جہاں زور دینے کی ضرورت ہو زور دیا جائے تو اسے تکمیل کہیں گے ۔ 
حسن تحریر کے ساتھ معقول بات خوش آئندہ طریقے سے کہی جائے تو یہ نون شتگی ہے ۔ یہ تو ارتھ ارتھ شاستر کا بیان ہے ۔ اب ہم دور کی زبان کا جائزہ لیں ۔ 
رائے بہادر مہا مہوپا دھیائے گوری شنکر ہیرا چند اوجیا عہد وسطیٰ میں ہندوستانی تہذیب میں  لکھتے ہیں کہ سنسکرت کی نشو کا رجحان اصلاح زبان کی طرف نہیں تھا بلکہ ذخیرہ الفاظ کی توسیع اور زبان میں رنگینی اور بلاغت پیدا کرنے کی طرف تھا عہد وسطیٰ میں اس کا ذخیرہ الٖفاظ بہت بڑھ گیا ۔ اس لیے اس زمانے میں لغتیں تصنیف کی گئی اور ان معنوں کے علاوہ مترادف الفاظ دیئے گئے تھے ۔ اس میں بدھ اور سنسکرت اور دیسی پراکرتوں کے الفاظ بھی جمع کر دیئے گئے ۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے بعد میں سنسکرت میں لطافت پیدا کرنے کی بہت کوشش کی گئی ۔ اس سے اس کا ذخیرہ الفاظ بہت بڑھ گیا ۔ سنسکرت لکھنے کے مختلف طرز ایجاد کی گئیں ۔ خدائے سخن کالی داس ، بھاس ، اشوگھوش وغیرہ اپنی سحر انگیزیوں سے سنسکرت ادب کو مالا لال کرچکے تھے اور سنسکرت میں یہ ترقی کا سلسلہ ۶۰۰ عیسوی کے بعد بھی جاری رہا اور اس دور کے بعد سنسکرت کے بڑے بڑے ادیب پیدا ہوئے ۔ جن کی نظم و نثر میں تصنیف کیں اور سنسکرت کو مالا مال کیا ۔ یہ سلسلہ جو چوتھی صدی عیسوی سے شروع ہوا تھا ۔ اس دور میں نئی تصانیف کے علاوہ سنسکرت میں تراجم بھی کیے گئے ۔ برتھ کتھا ، پنجتر ، ش؛وگ سنگرہ ، بیتال ، پچیس ، سنگھاسن بتیسی اور وغیرہ ہیں ۔ ان میں بشتر کا ماخذ بدھی کتھائیں تھیں ۔   
یعنی اس زمانے سے پہلے سنسکرت میں میں اس قدر فضاعت اور بلاغت کا رواج نہیں تھا ۔ اشوک کے کتبات اور اس زمانے کی دوسری تحریریں پڑھ لیں اس سے بخوبی اندازہ ہوجائے گا اس زمانے کا انداز تحریر کیا تھا ؟ وہ دور وہ تھا جب صرف اپنی بات دوسرے تک پہنچانا اہم تھا ۔ اس زمانے میں اتنی بلاغت پر توجہ نہیں دیتا تھا اور نہ اس زمانے میں راجہ اور پنڈتوں کے علاوہ کسی اور کے القابات نہیں ہوتے تھے ۔ بلکہ ساتویں صدی عیسوی میں بان اپنے ناٹک لکھتا ہے کہ اس کے راجہ کا شجرہ اس کے منتری سے لمبا ہے ۔ جب ساتویں صدی عیسوی کا تھا تو ایک ہزار سال پہلے ایسی کتاب جس میں فصاحت و بلیغ کیسے لکھی گئی ؟       
یہ طرز تحریر پانی کی دیا کرن کا ہوسکتا ہے جو کہ ارتھ شاستر کی طرح ایک جعلی تصنیف ہے ۔ مگر یہ تفصیلات اور ہموار طرز تحریر سنسکرت کے کتبات اور اس کے بعد کی تحریروں یعنی پندرویں صدی عیسویں سے پہلے ہمیں نظر نہیں آتا ہے ۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وشنویہ گپت چانکیہ کوٹلیہ اور پانی کی شخصیات حقیقی نہیں ہیں ۔ انہیں برہمنوں نے سنسکرت اور براہمنیت کی کی قدامت ثابت کرنے کے لیے صاف ستھری زبان میں جو کہ پندرویں صدی عیسویں کے بعد تصایف ہیں کیا ۔ کتابوں کی زبان اور اس کے علوم پکار پکار کر اعلان کر رہی ہیں کہ ان کتابوں کی جو تاریخ بتائی جاتی ہے اس کے بہت بعد کی ہیں ۔ سوچنے کی بات ہے کہ سب انگریز اس سرزمین پر آئے تو سر ولیم جونز نے قدیم کتبے ایک نامعلوم زبان میں لکھے دیکھے اور اسے مختلف پنڈتوں سے اسے پڑھانے کی کو شش کی مگر کوئی نہیں پڑھ نہیں سکا ۔   
روایت کے مطابق ۶۰۰ عیسویں تک دیاکرن کی تکمیل ہوچکی تھی ۔ پانئی کی دیاکرن پر کانیائن اور پتنجلی اپنے بارنک اور مہابھاشیہ لکھی تھی ۔ یہاں تک ہندوؤں میں دیاکرن کا مطالعہ اہم ہوچکا تھا اور اس پر سات تفسیریں لکھیں گئیں ۔ پنڈت ہونے کے لیے دیاکرن میں ماہر ہونا ضروری تھی ۔ اس لیے اس پر بہت سی کتابیں لکھی گئیں تھیں ۔ اس زمانے سنسکرت کی اکثر تصانیف چمپو (چم و نثر ملی ہوئی) ہیں ۔ اس طرح ارتھ شاستر بھی چمپو میں لکھی گئی ہے ۔
بان کی لکھی ہوئی کتاب ہرش چرت ساتویں صدی میں لکھی ہوئی سنسکرت کی مایہ ناز تاریخی و شاعرانہ تصنیف ہے ۔ اس میں اس زمانے (ہرش) کے حالات پر روشنی پڑتی ہے ۔ لیکن اس کا بیان نہایت مشکل اور بندوشیں سے پر ہے ۔ بان بھٹ کی دوسری کتاب کادمبری بہترین تصانیف ہے ۔ جس نامکمل ہونے کی وجہ سے اس پٹن بھٹ نے مکمل کی تھی ۔ ان مصنفوں نے نثر میں اتنی خوبیاں پیدا کردی تھیں کہ جو کسی اور مصنف نے پیدا نہیں کی اور یہ مثل مشہور ہوگئی کہ ساری دنیا کے ادیب بان کے آتش خوار ہیں ۔ اس دور میں ادب کے خاص ارکان یعنی صنائع ، رنگ اور لہجہ وغیرہ پر کئی کتابیں تصنیف کی گئیں ۔ اس چھند شاستر (علم عروض) پر بھی کئی کتابیں لکھیں گئیں ۔ تاہم ان کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے یہ محفوظ نہیں رہے اور تلف ہوگئے ۔ دور وسطیٰ سنسکرت کی اعلیٰ تصانیف لکھی گئی اور اسے عروج حاصل ہوا ۔
سب سے قدیم نسخہ جو اب تک دستیاب ہوا ہے وہ ختن سے ملا ہے جو خروشتی رسم الخط میں سیاہ سیاہی سے لکھا ہوا ہے اور یہ غالباً سن عیسوی سے کچھ پہلے یا بعد کا ہے ۔ یہ بدھی نظموں کا مجموعہ ہے ۔ اس کے بعد کا نسخہ کیپٹن باور کو چاء (جنوبی ہند) کے قریب موضع منگئی سے سے ملا ہے ۔ یہ سانپ کو قابو میں کرنے کے منتر اور طبی نسخے ہیں ۔ یہ خیال کیا جاتا تھا کہ سنسکرت قدیم ہے اس لیے اس زبان بھی علیٰ ہونے ہونی چاہیے مگر اس کی سنسکرت ناقص اور پالی سے میل کھاتی ہے ۔ اس لیے یہ خیال کیا گیا یہ نسخہ جس سے نقل کیا گیا ہے وہ پالی سے قدیم ہے ۔ مگر اس کا کیا کیا جائے ابتدائی سنسکرت کے جو کتبات برہمنوں کو عطیات کے بارے ملے ہیں ان کی زبان پر بھی حیرت کا اظہار کیا جاتا تھا ۔ 
اس سے صاف ظاہر ہے کہ سنسکرت جو گپتا خاندان کے دور چند صدی قبل عیسوی میں ویدک زبان میں مقامی بولیوں کے اختلاط سے وجود میں آئی تھی اور اس نے پالی اور دوسری پراکرت کے الفاظوں سے اپنا ذخیرہ بڑھایا اور اس قابل ہوئی کہ یہ ادبی زبان بن سکے اور یہ کبھی عوامی زبان نہیں رہی ۔ بلکہ یہ مذہبی طبقہ اور ان کے اثر کی وجہ شرفا میں مروج ہوئی ۔
اشوک اعظم جس کے بہت سے کتبہ اور آثار پورے برصغیر میں بکھرے ہوئے ہے ہیں مگر ہندوستان میں دو سو سال پہلے تک اشوک تک کو کوئی نہیں جانتا تھا اور نہ ہی برہمن انہیں پڑھ سکتے تھے ۔ فیروز شاہ تغلق اور اکبر نے انہیں پڑھوانے کی کوشش کی کہ ان پر کیا لکھا ہے اور کوئی عالم یا پنڈت ایسا نہیں ملا کہ انہیں پڑھ سکے جو کہ براہمی زبان میں لکھے تھے ۔ انگریزوں کی آمد سے پہلے اشوک اور براہمی رسم الخط کوئی جانتا تھا ۔ جمیس پرنسیپ نے بڑی جانفشانی اور جہد کے بعد انہیں پڑھنے میں کامیاب ہوا ۔ مگر یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ یہ کس کے کتبے ہیں ۔ لنکا کی تحقیقات سے یہ معلوم ہوا کہ یہ کتبات اشوک کے ہیں ۔ اگر یہ کتاب براہمی رسم الخط ہوتی تو اس کو پڑھنے اور سمجھنے میں برسوں لگ جاتے ۔ مگر حیرت ہے اس کتاب اسے موجودہ سنسکرت اور نہایت آسان زبان میں لکھا گیا تھا کہ فوراً پڑھ لیا گیا  ۔ پھر سوچنے کی بات ہے کہ اشوک کا جس نے عہد قدیم میں بھارت کو متحد کرکے ایک ایسی سلطنت قائم کی تھی جس کی نظیر مغلوں سے پہلے تک نہیں ملتی ہے ۔ اس کا نام برہمنوں کے شاستروں میں صرف جگہ گم نام بادشاہ کی حثیت سے آیا ہے ۔ جب اس عظیم بادشاہ کا نام بھی محفوظ نہیں رہا تو پانی اور کوٹلیہ چانکیہ کی کتب کس طرح محفوظ رہیں ۔ لہذا پانی اور کوٹلیہ کی شخصیات جعلی ہیں اور انہیں پندویں صدی عیسوی کے بعد لکھا گیا ہے ۔ 
رائے بہادر مہا مہوپا دھیائے گوری شنکر ہیرا چند اوجیا عہد وسطیٰ میں ہندوستانی تہذیب میں لکھتے ہیں سنسکرت میں دیکر زبانوں کی لفظوں کی ترکیب یا زبان کے قواعد میں کوئی تغیر نہیں ملتا ہے ۔ کیوں کہ پانی نے اپنے دیاکرن کے سخت قاعدوں نے سنسکرت کو جکڑ رکھا تھا اور کسی عالم یا شاعر کو یہ حوصلہ نہین ہوا کہ وہ پانی کے سخت اصولون سے منحرف ہو ۔ کیوں کہ پانی کو لوگ مہارشی سمجھتے اور اس سے عقیدت رکھتے تھے ۔ اگرچہ پتنجلی نے پانی کے سوتروں میں بعض غلطیاں دیکھاتے ہوئے یہ کہہ کر اپنی جان بچائی تھی کہ پانی کے مطالب کو سمجھنا میری استعداد سے بالاتر ہے ۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر پانی کی شخصیت اور اس کی تصنیف دیا کرن کو تسلیم کیا جائے تو سنسکرت کے قدیم نسخوں میں اس قدر ابتدائی زبان کیوں ہے ؟  
رائے مزید لکھتے ہیں کہ لیکن خیال رہے سنسکرت کا رجحان سنسکرت کا رجحان سنسکرت کی نشو کا رجحان اصلاح زبان کی طرف نہیں تھا بلکہ ڈخیرہ الفاظ کی توسیع اور زبان میں رنگینی اور بلاغت پیدا کرنے کی طرف تھا عہد وسطیٰ میں اس کا ذخیرہ الٖفاظ بہت بڑھ گیا ۔ اس لیے اس زمانے میں لغتیں تصنیف کی گئی اور ان معنوں کے علاوہ مترادف الفاظ دیئے گئے تھے ۔ اس میں بدھ اور سنسکرت اور 

تہذیب و تر تیب
(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں