49

ارجاسب کا حملہ اور گشتاسپ کی شکست

اس کے بعد گشتاسپ رستم کے پاس زابلستان گیا اور اس کے سامنے مذہب زرتشتی پیش کیا ۔ جسے رستم نے اسے بلا تعمل قبول کرلیا ۔ رستم کے پاس گشتاسپ عیش و آرام میں گم ہوگیا یہاں تک دو سال گزر گئے ۔ اسفندیار کے قید ہونے سے رعایا میں بے چینی پھیل گئی تھی ۔ گشتاسپ کے دشمن ارجاسپ کو جب یہ خبر ملی کہ اسفندیار کو قید کرلیا گیا ہے اور گشتاسپ فوج کے ساتھ دو سال سے زابلستان میں ہے ۔ دارلسلطنت میں اس وقت صرف گشتاسپ کا ضعیف باپ لہراسپ اور سات سو پجاری جو ہر وقت آتش کدوں میں عبادت میں رہتے ہیں ۔ ارجاسپ نے اس خبر کی تصدیق کے لیے ایک جاسوس ستوہ کو بھیجا ۔ جس نے دارلسطنت کے خالی ہونے کی تصدیق کی ۔ ارجاسپ نے موقع سے فائدہ اٹھانے کا فیصلہ کیا ۔ 

 ارجاسپ نے ایک لاکھ فوج کہرام کو دے کر باختر روانہ کیا اور خود اس کے پیچھے پیچھے روانہ ہوا ۔ کہرام کو جو بھی فرد راستے میں ملا اسے تلوار کے گھاٹ اتارتا ہوا آبادیوں کو آگ لگاتا ہوا باختر پہنچ گیا ۔ اس وقت شہر فوج سے خالی تھا مگر پھر بھی ایک ہزار بازاری لوگ جمع ہوگئے اور ضعیف العمر گشتاسپ کا باپ لہراسپ زرہ پہن کر تورانیوں کے مقابلے میں آیا اور ایسا لڑا کہ اس پر اسفندیار کا گمان ہونے لگا ۔ اس لیے کہرام نے اس پر تیروں سے بارش کرکے اس کا بدن تیروں سے چھلنی کردا دیا ۔ لہراسپ تیروں کے زخموں سے چور ہوکر گر پڑا تو تورانیوں نے تلواروں سے اس کے بدن کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے ۔ اس کے بعد کہرام آتشکدہ آذر نوش پہنچا اور اوستا کو جلا کر اسی ہیربدوں کو مار ان کے خون سے مقدس آتش کدے کی آگ کو بجھایا ۔ زرتشت کے مکان کو آگ لگادی گئی اور وہ بھی مارے گئے ۔ گشتاسپ کی دو لڑکیوں ہماء اور بہ آفرید کو گرفتار کرلیا گیا ۔ اس ہنگامہ خیز حالات میں ایک عورت بچ کر زابلستان پہنچ گئی اور بادشاہ گشتاسپ کو اس سانحہ کی اطلاع دی ۔

گشتاسپ نے رستم سے رخصت ہوکر دارلسلطنت روانہ ہوا ۔ بعض پہلوی کتابوں سے پتہ چلتا ہے کہ گشتاسپ پہلے خراسان گیا اور شاہزادہ فرشیدورد اور اس کی فوج کو ساتھ لے کر بلخ آیا اور دشمن کے مقابل خیمہ زن ہوگیا ۔ ارجاسپ اس وقت تک نہیں پہنچا تھا لیکن اسے گشتاسپ کے مقابلے آنے کی اطلاع ملی تو وہ بھی پہنچ گیا ۔ تورانی اور ایرانی دونوں تین تین حصوں میں ایک دوسرے سے مقابلہ کے لیے تیار تھے ۔ تورانی کی سالاری کندر ، ارجاسپ اور کہرام کر رہے تھے ۔ ایرانیوں کی نستور ، گشتاسپ اور فرشیدورد کر رہے تھے ۔ لڑائی شروع ہوئی تین رات و دن مسلسل جاری رہی ۔ فرشیدورد سمیت گشتاسپ کے اٹتیس بیٹے اور ہزاروں ایرانی مارے گئے گشتاسپ کو شکست ہوئی اور وہ فرار ہونے پر مجبور ہوگیا ۔ جاماسپ نے گشتاسپ کو مشورہ دیا کہ یہ مہم اسفندیار کے بغیر سر نہیں ہوسکتی ہے ۔ لہذا اسے بلا کر فوج کی کمان اس کے ہاتھ میں دی جائے ۔ گشتاسپ اگرچہ بہت شرمندہ تھا لیکن وہ اسفندیار کا سامنا نہیں کرنا چاہتا تھا ۔ مگر وہ اسفندیار کو بلانے اور اس سے اس جنگ کے بعد تاج و تخت اس کے سپرد کرنے کا وعدہ کرنے پر مجبور گیا ۔ لہذا اس نے جاماسپ کو اسفندیار کو راضی کرنے کے لیے روانہ کیا ۔ 

ٍتہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں