61

ارجن

ہندو دیو مالا کی رو سے پانڈوں کا تیسر بھائی اور لڑکا کنٹی کے شکن سے پیدا ہوا تھا ۔ یہ اگرچہ پانچوں پاندو راجہ پانڈو کے بیٹے مانے جاتے ہیں لیکن یہ پانچوں مختلف دیوتاؤں سے پیدا ہوئے تھے ۔ ارجن بھی راجہ اندر سے پیدا ہوا تھا ۔ اس لیے یہ ایندری بھی کھلاتا ہے ۔ یہ بہادر سپاہی ، حوصلہ مند ، خوبصورت ، فیاض ، سب بہائیوں سے ہر دلعزیز اور قد آور تھا ۔ اس کی کمانداری اور تیر اندازی میں تعجب خیز تھی ۔ یہ مختلف طریقوں سے تیر اندازی کرتا تھا اور اس کی کمان سے نکلا تیر تباہی مچاتا ہوا جاتا اور دشمن کے دس ہزار سپاہی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو لیتے تھے ۔ یہاں تک وہ مادہ و باران کی رکاوٹ بن جاتا ۔ کبھی ہوا ، خاک ، آگ اور پانی اپنے تیروں سے پیدا کرتا ۔ اس میں سحری قوت اس قدر تھی کہ بلندی ، کبھی پستی ، کبھی لاغری اور کبھی فرفہی دیکھاتا ۔ کبھی دوسروں کی نظروں سے پوشیدہ ہوجاتا ۔ اس نے وردن سے سپاہگری کی تعلیم حاصل کی اور سپاہگیری کے کمال سے ہی اس نے دروپدی کو سوئمبر میں جیت لایا ۔

بارہ برس کی جلا الوطنی کے زمانہ میں جب کہ اس ایک عہد کے تحت اور عدول حکمی کے عوض اختیار کرنے پڑی تو پرسرام سے ملاقات کی اسی زمانہ میں ناگ خاندان کی شہزادی الوبی سے شادی کی تھی ۔ اس راج کماری کے بطن سے ایک لڑکا اروت تولد ہوا ۔ ارجن نے دوسری شادی مسی پور کے راجہ کی لڑکی انگدا سے شادی اس سے ایک لڑکا بہبروورہن پیدا ہوا ۔ دوراکا میں اس کی ملاقات سرکرشن سے ہوئی اور کرشن کی بہن سبھارا سے شادی کی ۔ اس کے بطن سے ایک لڑکا ابہی مینو پیدا ہوا ۔ ان شادیوں کے بعد اس نے اس نے اگنی دیوتا سے گانڈیو دھش حاصل کیا ۔ چونکہ کھانڈو جنگل کے جلنے کے وقت اگنی کو مدد دی تھی ۔ اس نے یہ دھنش اس لیے حاصل کیا کہ وہ اندر کے ہمرا جنگ کے وقت کام آئے ۔ جس وقت راجہ یوڈھشٹر نے قمار بازی میں اپنی ریاست ہاری اور پانچوں بھائی تیرہ برس کے لیے جلاوطن ہوئے اس وقت ارجن ترتھ کی یاترہ کے لیے ہمالیہ پہاڑ چلا گیا اور دل میں اس کے یہ خواہش تھی کہ وہ دیوتاؤں کو خوش کر کے سورگ کے ہتھیار لائے گا اور ان مدد سے کوروں سے جنگ لڑے گا ۔ وہاں اس کی شیوجی سے لڑائی چھڑ گئی ۔ کیون کہ اس وقت شیوجی ایک پہاڑی باشندے کے روپ میں تھے ۔ لیکن جلد ہی ارجن سمجھ گیا کہ یہ شیوجی ہیں ۔ اس نے وہیں شیوجی کی پوجا شروع کردی ۔ شیوجی اس کی پوجا سے خوش ہوئے اور اپنا طاقت ور ہتھیار بہ یشوبت اس کو دے دیا ۔ اس طرح اس نے اندر کو دیر ، ورن اور یم دیوتاؤں کو خوش کر کے ان سے بھی ہتھیار حاصل کیے ۔ بعد ازاں اندر ارجن کو اپنے رتھ میں بٹھا کر اپنے دارلسطنت امراوتی لے گیا ۔ جہاں کئی سال تک ارجن سپاہ گیری کی مشقیں کرتا رہا ۔ سمندر کے دیتوں کو مارنے کا فرض اندر نے ارجن کو سونپا ۔ ارجن فتحیاب ہوا ان دیتوں کو مار کر واپس امراوتی آیا ۔ اندر ارجن کی کارکردگی سے بہت خوش ہوا اور اسے ایک سونے کی زنجیر ، ایک تاج شاہی اور ایک سنکھ جس کی آواز بادلوں کی گرج کی طرح تھی تحفے میں دیے ۔

جالاوطنی کے تیرہ سال راجہ وراٹ کی ملازمت میں خواجہ سرا بن کر داخل ہوا اور رقص و سرور کی تعلم دینے لگا ۔ مگر راجہ کے طاقت ور دشمنوں مثلاً راجہ تبر گرت اور راجہ کورو کے کئی لڑاکوں سے تنہا لڑا اور انہیں شکت دی ۔ اس وقت سے کوروں سے جنگ کا اسباب پیدا ہوئے ۔ مہابھارت کی جنگ میں ارجن کے مدد گار سری کرشن تھے ۔ جنہوں نے ارجن کے رتھ کی کوچبانی کی اور جنگ سے قبل جب ارجن کے ہاتھ پیر اپنی رشتہ دار سے جنگ کی وجہ سے پھول گئے تو اس وقت سری کرشن نے وہ اپنا مشہور اپدیش دیا جو کہ بھوت گیتا کہلاتا ہے ۔

لڑائی کے دسویں روز بھشم کو سخت زخمی کیا ، بارویں روز سوسرمن کو مع اس کے چار بھائیوں کے شکست دی ۔ چودویں روز جیدرتھ کو قتل کیا ۔ سترویں روز اپنے بھائی یودہشٹر کی طنزیہ گفتگو سن کر ارجن نے طعش میں چاہا کہ اسے قتل کردے ۔ لیکن سری کرشن کے سمجھانے سے باز رہا ۔ اسی روز اس کی کرل سے جنگ ہوئی جس نے ارجن کو مارنے کی قسم کھائی تھا اور اس لڑائی میں ایک موقع پر ارجن زمین بوس ہوجاتا مگر اتفاقیہ کرن کا رتھ ہل گیا اور کرن بچ گیا اور کرن کو موقع مل گیا اس نے فائدہ اٹھایا اور کرل ماڑ ڈالا ۔

کوروں کی شکست کے بعد درون کے بیٹے اشوتتھاما نے معتد دلاورں کو جو باقی بچے تھے پانڈوں پر شب خون مارا اور پانڈوں کے بچوں کو مار ڈالا ۔ ارجن نے اشوتتھاما کا تعاقب کیا اور وہ قیمتی جواہر جس کو اشوتتھاما بطور تعویز سر پر باندھے رکھتا تھا چھین لیے ۔ جب کہ اس جنگ کے بعد راجہ یوڈشٹر نے یگیہ کے لیے اشو میدھ کا گھوڑا چھوڑا تو ارجن کثیر فوج کے ساتھ اس کے پیچھے روانہ ہوا ۔ بہت سے شہروں اور ملکوں سے گزرا اور بہت سی لڑائیاں جیتی اور ترگرت کے ملک میں داخل ہوا ۔ جہاں اس کی راجہ سے جنگ جھڑ گئی ۔ اس راجہ کے پاس ایک مشہور ہاتھی تھا ۔ اس کے بعد شوہوؤں سے جنگ آرا ہوا ۔ شہر منی پور میں اپنے بیٹے ببھرواہن سے لڑا اور مارا گیا ۔ لیکن اس کی بیوی الوپی نے ناگ سسز کے منتر سے اسے دوبارہ زندہ کیا ۔ اس کے بعد دکشن میں گیا اور وہاں پرنشدوں اور دراوڑوں سے لڑا ۔ پھر مشرق میں گجرات میں گھوڑے کو صحیح سلامت واپس لایا ۔

ہستناپور میں اس کی واپسی پر بڑا یگیہ اشومیدھا کیا گیا ۔ یادوؤں کی باہمی جنگ کے دوران سرکرشن نے ارجن کو دوارکا میں بلوایا ۔ جہاں پر اس نے وسدیو اور سری کرشن کی رسوم ماتم ادا کیں ۔ اس بعد ارجن نے دنیا سے اپنا تعلق ختم کرکے ہمالیہ چلا گیا ۔ اس کا ایک لڑکا اراوت جو راج کماری الوپی سے ہوا تھا ۔ دوسر بیوی راجہ منی پور کی راج کماری ببھرو واھن تھا جو منی پور کا راجہ بنا تیسری بیوی سبھدرا جو سری کرشن کی بہن تھی ایک لڑکا امنی مینو تھا ۔ یہ لڑکا مہابھارت کی جنگ میں مارا گیا ۔ لیکن ہستناپور کی سلطنت اس کے بیٹے پریکشت کو ملی ۔

ارجن کے بہت سے نام اور لقب ہیں ۔ ان بی بہتسو گڈاکیش ، دھنجی ، بشنو ، کری تن ، پاکس شاشنی ، پھالکن ، شوبہ ساچن ، شویت ورہن اور پارتھ ہیں 

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

2 تبصرے “ارجن

  1. السلام علیکم رحمۃ اللہ و برکاتہ
    جناب عالی مقام سے گزارش ہے کہ آپ ہمیں pdfمیں آپ کی تحریریں فراہم کر دیں کیونکہ نیٹ ورک ہر جگہ موجود نہیں ہوتا ہے
    شکریہ جزاک اللہ خیرا

اپنا تبصرہ بھیجیں