66

اردشیر اول یا ارتخشتر اول

ساسانیوں سے ایران کی تاریخ کا تیسرا دور شروع ہوتا ہے ، جو شاندار بھی ہے اور صیح معنوں میں تاریخی بھی ۔ اس خاندان کی ابتدا ارد شیر اربکان سے ہوتی ہے ، جس کے باپ کا نام بابک Papak اور دادا ساسان Sasana تھا ۔ ساسان اصطخر کے ایک مندر کا پجاری تھا ۔ اشکانی حکومت کے زمانے میں ایران بہت سی چھوتی چھوتی نیم آزاد ریاستوں میں مستقم تھا ۔ ان میں ایک ریاست نسیایہ کی تھی ، جس کے حکمران کو بازنگی Sasana کہتے تھے ۔ ساسان کی بیوی ایک بازنگی امیر کی بیٹی تھی ، بابک اسی کے بطن سے تھا ۔ اشکانی حکومت کی کمزوری نیز اپنی مذہبی پیشوائی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ساسان نے سیاسی طاقت حاصل کرنی شروع کی ۔ بازنگی کی ریاست نے اسے یہ موقع فراہم کیا ۔ چنانچہ ساسان کا بیٹا بابک بازنگی خاندان کو ختم کرکے خود امیر بن گیا ۔ بابک کے بعد اردشیر Artaxerxes حاکم بنا ، جو باپ داد سے بھی حوصلہ مند تھا ۔     
اردشیر نے حکمران بنتے ہی اپنی طاقت کو مستحکم کرنا شروع کیا اور اشکانی حکمران اردوان پنجم Artabarus 5th کے خلاف بغاوت کرتے ہوئے کرمان ، اصفہان اور سوسہ کو اپنی ریاست میں شامل کرلیا ۔ اردشیر اور اردوان کے درمیان دو جنگیں ہوئیں ، پہلی جنگ تو بے نتیجہ رہی ، مگر آخری جنگ میں اردوان مارا گیا اور اشکانی حکومت ختم ہوگئی ۔ 
اردشیر نے اپنی سلطنت وسیع کرنے کی کوشش کی اور قسمت نے اس کا ساتھ دیا اور ہر قدم پر اسے کامیابی نصیب ہوئی ۔ اس نے مشرق میں پنجاب تک کے علاقے فتح کئے ، پھر مغرب کی طرف توجہ دی اور جنوبی عراق پر قابض ہوگیا ۔ شمالی عراق پر پیش قدمی صورت میں رومیوں سے جنگ ناگزیر تھی ۔ چنانچہ اس نے شمالی عراق اور آرمینا کو رومی بالادستی سے آزاد کرانے کی کوشش کی ۔ رومی سلطنت کابادشاہ سور الگزندڑ Severus Alexander تھا ، اس نے ایران کی بڑھتی ہوئی طاقت کے پیش نظر مصالحت کی کوشش کی ۔ اس نے اردشیرکو ایک تہدیدی مگر مصالحانہ خط لکھا کہ وہ اپنی حدود سے آگے نہیں بڑھے ۔ اردشیرنے اس کا سخت جواب دیا اور شمالی عراق پر حملہ آور ہوا ۔ اس کے مقابلے میں قیصر روم ایک بڑا لشکر لے کر آیا اور نیز آرمینا کے حکمران خسروکو ہدایت کی کہ وہ صوبہ ماد پر حملہ کردے ۔ مگر رومیوں کو شکست ہوئی اور خسرو مارا گیا ۔ آرمینا Armina کے ساتھ شمالی عراق میں نصیبن اور حران کاعلاقہ ساسانی مملکت میں شامل ہوگیا ۔ رومیوں سے آخری جنگ ھرمز کے مقام پر ہوئی ، اس کے بعد الگزنڈر نے صلح کرلی ۔ اردشیرکی موت کے بعد اس کا بیٹا شاپور Shapur تخت نشین ہوا ۔

تہذیب و تدوین
عبدلمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں