63

اردو رسم الخط کا ارتقاء

اردو نے ابتدا میں ہی عربی رسم الخط اپنایا ہے عربی حروف ا ، ب ، ت ، ث ، ج ، ح ، خ ، د ، ذ ، ر ، ز ، س ، ش ، ص ، ض ، ط ، ظ ، ع ، غ ، ف ، ق ، ک ، ل ، م ،ن ، و ، ہ اور ی ہیں ۔ یہ کل اٹھائیس حروف ہیں ان میں اگر ء کا بھی اضافہ کرلیں تو یہ انتیس ہوجاتے ہیں ۔ اردو اپنی لسانی خصوصیات کی بنا پر عربی اور فارسی سے مختلف ہے ۔ اس کی تمام آوازوں کے اظہار کے لیے عربی یا فارسی کے حروف اس کی ضرورتوں کو پورا نہیں کرسکتے تھے اس لیے نئے حروفوں کا وضع کیا جانا ناگریز تھا ۔ لیکن ان نئے حروف کی صورت فارسی اور عربی کے حروف سے مختلف مقرر کرنا مناسب نہیں تھا ۔ فارسی میں جب بھی نئے حروف بنائے گئے تو نقطوں مرکزوں کے اضافے سے کام چلایا گیا تھا ۔ اردو دانوں نے بھی نقطوں کی کمی بیشی سے ہی اپنی ضرورتوں کو پورا کرنے کی کوشش کی ۔ 
مسلمانوں بر صغیر میں آئے تو ان میں فارسی رسم الخط مقبول تھا اور اس میں وہ لکھا کرتے تھے ۔ اس لیے فارسی میں موجود چار پ ، چ ، ژ ، گ ، کو بھی استعمال کرتے تھے اس طرح کل تنتیس حروف استعمال کرتے تھے ۔ مرزا غالب اپنی تحریروں میں عام طور پر پ ، ث ، چ اور ش پر تین نکتہ لگاتے تھے ۔ لیکن ان کے معاصر میں یہ رجحان کم ملتا ہے ۔ 
خاص کر ک اور گ میں تمیز ہی نہیں رکھی جاتی تھی اور اس پر مقررہ مرکز لگانے کا انیسویں صدی کی پہلی چوتھائی میں شروع ہوا ہے ۔ بہادر شاہ کے استاد سید محمد امیر رضوی جو میر پنجہ کش کے نام سے جانے جاتے تھے ان کی ایک وصلی پر درج شعر کچھ یوں ہے ۔
میر معذور موکئی افسوس
بزم سی دور ہوکئی افسوس 
اس میں ک اور گ دونوں پر ایک ہی مرکز بنایا گیا ہے ۔  
اس غالب کی دو تحریروں کا عکس ہے جو کہ مرقع غالب کے بالترتیب ا اور ۷ میں 
تم سے نگہون تو کس سے کہون ۔ عکس نمبر ا
اوس سے کریز نہین تب نے آکہیرا ۔ عکس نمبر۷ 
ان میں نون غنہ پر نکتہ ہے اور ک پر دو اور گ پر ایک ہی مرکز بنا ہوا دیکھا جاسکتا ہے ۔ اس طرح بہ اور نہ کو کبھی الگ اور کبھی ملانے کا سلسلہ بھی رہا ہے ۔ اس کے علاوہ غالب کی آخر عمر کی تحریروں پر ڈ پر دو نقطہ ملتے ہیں ۔ یہ دو نقطہ سترویں صدی کی بعض تحریروں میں بھی ملتے ہیں 
غالب کا نسخہ عرشی جو بیاض غالب میں شایع ہوچکا ہے ۔ اس نسخے کی خصوصیت یہ بتائی جاتی کہ اس ژ کو ہر جگہ ز اور گ کو ک لکھا گیا ۔ اصل میں اس طرح فارسی میں لکھا جاتا تھا اور وہیں سے اردو میں آئے تھے ۔  
اردو کی ابتدائی دور میں ھ سے مخلوط آوازوں کا کوئی واضح تصور ہی نہیں تھا ۔ بہادر شاہ ظفر کے دور تک یہ رجحان رہا تھا ۔ مثلاً نواب صدر الدین فائز کا کلام چھپ چکا ہے پروفیسر سید مسعود حسین رضوی ادیب نے اس کی خصوصیت یہ بتائی ہے کہ بھی کی جگہ بی ، سبھی کی جگہ سبی اور سبھوں کی جگہ سبوں لکھا ہے ۔ اس طرح تھی کو تی اور تھا کو تا ہے ۔ توہی کی جگہ توئی اور وہ کو دو لکھا ہے ۔ گاف پر ہر جگہ ایک ہی مرکز ہے ۔ ٹ ، ڈ اور ڑ کو ہر جگہ ۔ ت ، د اور سکھی کو سکی ، اندھیاری کو اندیاری ، انکھیاں کو انکیاں اور تمہاری کو تماری لکھا گیا  ہے ۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ اس زمانے میں اردو کی تحریروں عام طور پر وہی حروف استعمال کرتے تھے جو کہ عربی اور فارسی میں موجود تھے ۔ حالانکہ ان کو بہت پہلے ملا دادو اور ملک محمد جائسی نے ان مخلوط حروف کا استعمال شروع کر دیا تھا اور لکھنو میں ان کا استعمال شروع ہوچکا تھا ۔ 
عربی اور فارسی میں ہائے مخلوط کا کوئی تصور نہیں ملتا ہے لیکن ہندوستان میں ان آوازوں کی بہت اہمیت ہے اور اس کا احساس بھی ہوچکا تھا ۔ یہ بات قابل ذکر ہے اردو کی مخلوط تین مخطلوط آوازیں لھ ، مھ اور نھ دیوناگری رسم الخط میں نہیں ہیں ۔ لھ ، کلھاڑی ۔ مھ ، تمہیں ، کمھار ، نھ ، ننھا ، ننھیال وغیرہ ۔ ہندی میں حروف کو بعض آوازوں کو آدھا لکھا جاتا ہے ۔ اردو میں بھی یہ طریقہ اپنایا گیا آدھے حروف کو لکھ کر اس میں ھ کو ملا کر ان آوازوں کو نکالا گیا ۔ اس لیے ان مخلوط آوازوں کے لیے نئے حروف تہجی ترتیب نہیں دیئے گئے ۔   
اردو میں نوں غنہ کا اس کثرت سے ہے کہ یہاں ایک مستقل حروف ناگریز ہوچکا تھا اور یہ پہلے ن کی شکل میں لکھا جاتا تھا ۔ انیسویں صدی کے آخر تک اسے ایک حروف کی حثیت ہوگئی تھی اسے بیسویں صدی کے وسط تک لکھا بدستور ن کی شکل میں لکھا جاتا رہا ۔ آپ اس وقت کی اردو کی چھپی ہوئی کتب میں ن کی شکل میں دیکھیں گے ۔ وسط کے بعد اس کو موجودہ یعنی ں کی شکل میں لکھنے کا رواج شروع ہوا ۔   
تین مزید مقامی آوازیں جو اردو نے اختیار کیں ہین ، وہ ٹ ، ڈ اور ڑ ہیں ۔ شروع شروع میں ت ، د ، ر سے ان آوازوں کو ظاہر کیا جاتا تھا ۔ پھر محمد شاہ کے بعد ان پر تین تقطہ بنائے گئے ۔ پدمات کے نسخہ میں ڈر اور ڑ پر تین نقطے ہیں ۔ فضل کربل کتھا کے نسخے میں بھی یہی صورت نظر آتی ہے ۔ بقول گوپی چند نارنگ کے اس سے ظاہر ہوتا کہ اس وقت چھوٹے ط کا وجود نہیں تھا ۔ مگر اس سے قباحت یہ ہوتی تھی کہ ٹ ڑ کی صورت ث اور ژ شے مشابہ ہوگئی تھی ۔ اس لیے ایک نقطہ کا اضافہ کیا گیا ۔ پدمات میں بھی ہمیں چار نقطہ ملتے ہیں ۔ یہ چار نقطہ مرزا غالب اور دہلی کی تحروں میں بھی ملتی ہے ۔ بعد میں اوپر کے دو نقطوں کو ملا کر ایک لکیر بنادی گئی اور ڈ ، ڑ پر صرف دو نقطہ رہ گئے ۔ دو نقطے اکثر لکیر کی شکل میں لکھا جانے لگا ۔  
مرزا ضمیر کے رسالے میں ہے کہ اورنگ زیب کے دور تک ٹ پر چار اور ڈ پر چار نقطہ بنائے جاتے ۔ غالب نے بھی کہیں کہیں ڈ پر دو نقطے بنائے ہیں ۔ اردو ٹائپ جب جاری ہوا تو اس چھوٹے ط کی جگہ چار نقطے استعمال کئے گئے تھے ۔ مگر فورٹ ولیم کالج نے چار نقطوں کی جگہ چھوٹے ط کا استعمال شروع کیا ۔ جسے اہل علم نے پسند کیا اور اب یہ حروف اسی طرح لکھے جاتے ہیں ۔      

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں