27

اسفندیار کی اسیری

اسفندیار سے اس کی بہمن ہماء کی شادی حسب وعدہ کردی گئی اور نستور کو دس ہزار سوار دے کر حکم دیا گیا کہ ایاس و خلخ کے علاقہ کو غارت کر کے اپنے باپ کے خون کا بدلہ لے ۔ سپاہیوں کو مختلف انعامات و جاگیریں دی گئیں اور ایک بڑا آذر کدہ بنا کر نوش آذر یا خان گشتاسپ اس کا نام رکھا گیا اور جاماسپ کو اس کا موبد مقر کردیا گیا اور گشتاسپ بلخ چلا گیا ۔

اس جنگ کے بعد گشتاسپ نے اطراف کے ممالک کے احکام کو خط لکھ کر انہیں زرتشتی مذہب قبول کرنے کی ہدایت کی اور لوگوں کو زرتشتیت قبول کرنے پر مجبور کرنے کے لیے اسفندیار کو فوج دے کر روانہ کیا ۔ اطراف کے ملکوں میں شہزادہ اسفندیار کی دھاک پہلے ہی بیٹھی ہوئی تھی اور لوگ اس کا نام سن کر جوق در جوق اس مذہب داخل ہونے لگے ۔ روم و ہندوستان تک حلقہ بگوش ہوگئے اور گشتاسپ تک ژند و اوستا کے لیے درخواستیں پہنچیں تو ان میں نسخہ جات تقسیم کیے گئے اور جلد اسفندیار بھی فارغ ہوکر دارلسلطنت میں آگیا ۔ جنگ کے بعد تمام سلطنت کے معاملات گشتاسپ اور اسفندیار کی مرضی کے مطابق ہوتے تھے اور گشتاسپ تخت و تاج اسفندیار کے حوالے کرنے پر غور کر رہا تھا کہ ایک شخص کرزم یا کوارزم نے گشتاسپ کو اس کے بیٹے کے خلاف ورغلانہ شروع کیا اور گشتاسپ کو شہر یار سے اس حد تک بدگمان کردیا کہ گشتاسپ نے شہریار کو دربار میں بلا کر وہیں طوق و زنجیریں پہناکر ایک ہاتھی کی ننگی پیٹھ پر بیٹھا کر خراسان میں کوہ گنبدان یا کوہ اسفند میں قید کرکے اسے چار ستونوں سے بندھوا دیا اور کچھ آدمی اس کی حفاظت پر تعینات کردیے ۔

حیرت کی بات یہ ہے اس موقع پر زرتشت اور جاماسپ نے اپنے اثر و رسوخ کے باوجود شہزادے کی حمایت نہیں کی ۔

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں