143

اسلامی فقہ کے ماخذ

کتاب اللہ
اسلامی قانون کی بنیاد قران و سنت پر ہے ۔ قران پر اس لیے کہ یہ خدا کا کلام ہے ۔
شاہ ولی اللہ مضامین قران کو پانچ علوم میںتقسیم کرتے ہیں ، ان میں ایک علم احکام ہے ۔ یعنی عبادات ، معاملات ، تدبیر منزل اور سیاست مدینہ میں کون کون سے امور واجب یامستحب یا مباح یا مکرو ہ یا حرام ہیں ۔ شاہ ولی للہ نے اس علم کو فقہہ کا دائرہ کار قرار دیا ہے اور ہمارا موضع بحث یہی علم احکام ہے ۔    
قران کریم میں دو طرح کی آیات ہیں ، محکامات اور مشابہات ، چنا نچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ۔ ’’ منہ آیات و متشابہ ہن ام الکتاب و اخر متشابہات ‘‘ ( آل عمران ۔۳ ) 
لیکن محکم و متشابہ کی تعریف کیا ہے اور اس میں کون کون سی آیات یا مضامین ، اس میں کس قسم کے تحت آتے ہیں ۔ اس کے بارے میں علماء کے مختلف اقوال ملتے ہیں ۔
ہمارا موضع بحث چونکہ محکامات ہے ، اس لیے ہم اس کی بعض اہم تعریفات درج کرتے ہیں ۔
۱ ۔محکم وہ ہے جس کی مراد معلوم ہے ۔
۲ ۔محکم وہ ہے جس کے معنی معلوم ہیں ۔                
۳ ۔ محکم وہ ہے جس کی دلیل اس طرح واضح ہو کے اس میں نسخ کا خدشہ نہ ہو ۔
۴ ۔ محکم وہ ہے جس کی تاویل ایک کے سوا مزید احتمال کا خدشہ نہ ہو ۔
     ۵ ۔ محکم وہ ہے جس کے معنی معلوم ہوں ۔ مثلأٔ نمازوں کی تعداد اور روزوں کا رمضان کے ساتھ مخصوص ہونا ۔
۶ ۔ فرائض ، وعد محکم ہیں ۔ 
۷ ۔محکم وہ ہے جس سے عمل متعلق ہو ۔
۸ ۔ ناسخ محکم ہے ۔
۹ ۔ محکم وہ ہے جس کے کسی علم کی تحصیل کسی جلی یا خفی دلیل سے ممکن ہو ۔
سنت (حدیث)
اسلامی قانون شریعت کی بنیاد قران و سنت پر ہے ۔ قران پر اس لیے کے وہ خدا کا کلام ہے ۔ سنت اس لیے کہ وہ قران کا بیان ہے ۔
سنت کے لغوی معنی طریقہ اور عادت کے ہیں اور شریعت کی اصطلاع میںیہ کلمہ جب عبادات میں استعمال ہوتا ہے تو اس سے وہ نوافل مراد ہوتے ہیں ، جو رسول اللہﷺ سے منقول ہیں اور جب اس کلمہ کو اولہ شرعیہ کے مواقع میں استعمال کرتے ہیں تو اس سے مراد لیتے ہیں ، قران کے سوا وہ قول و فعل اور تقریر جس کا صدور رسول اللہ ﷺ سے ہوا ہے ۔ 
حدیث کے لغوی معنی اخبار کے ہیں ۔ بعد میں ہر وہ قول یا فعل یا تقریر جو رسول اللہ ﷺ سے منسوب ہوا ہے حدیث کہلانے لگا ۔ سنت کے لغوی معنی طریقہ کے ہیں ۔ یہ پھر اس دینی طریقہ کے لیے مخصوص ہو گیا ، جس کو رسول اللہ ﷺ نے اختیار کیا ۔ 
سنت اعمال نبوی کے لیے خاص ہے ، جب کہ حدیث قول و عمل دونوں کے لیے عام ہے ۔ لیکن اکثر محدثین خصوصاً متاخرین کا صحیح قول یہ ہے ، حدیث و سنت دونوں ایک دوسرے کے مترادف ہیں اور ایک دوسرے کی جگہ استعمال کئے جا تے ہیں ۔
پہلی صدی کے لوگوں کا اس پر اتفاق تھا کہ تشریح میں قران کے بعد پہلا درجہ ہے ۔ دوسری صدی یا امام شافعیؒ کے زمانے میں یا اس سے کچھ پہلے ایسے لوگ پیدا ہوئے جو اس پر یقین نہیں رکھتے تھے ۔ ان میں سے بعض لوگ سرے سے ہی تشریح میں سنت کی حجت کے قائل نہ تھے ۔ بعض صرف اس سنت کو حجت ماتنے تھے جس کی تائید قران سے ہوتی ہے ، بعض اخبار احاد کو قبول نہ کرتے تھے ۔ جب کہ اس کے مقابلے میں ہر دور میں قابل اعتماد اہل علم سنت کو تشریح کا مستقل ماخذ مانتے ہیں ۔
شاہ ولی اللہؒصاحب کا کہنا ہے کہ سنت کی دو حثیتیںہیں ۔ ایک یہ ہے کہ وہ قران کا بیان ہے اور رسول اللہ ﷺ قران کے مبین ہیں ، اس لیے وہ قران فہمی کے لیے حدیث و سنت کی طرف رجوع کرنے کو ضروری قرار دیتے ہیں ۔ 
دوسری یہ ہے کہ وہ خود تشریح کا مستقبل ماخذ ہے اور تحریم و تحلیل جس طرح اللہ کی طرف سے ہوتی ہے اسی طرح رسول اللہ ﷺ کی طرف سے ہوتی ہے ۔ 
شاہ ولی اللہ کا کہنا ہے کہ چونکہ سنت قران کا بیان ہے اور خود بھی تشریح کا مستقل ماخذ ہے ، اس لیے احادیث کی پیروی ضروری قراردیتے ہیں ۔ ان کے نزدیک سنت کی پیروی رشد و ہدایت اور اس سے اعراض ضلالت اور خسران کا سبب ہے ۔
اجماع
امت مسلمہ کا عقیدہ ہے کہ احکام شریعت مصالح اور عمل پر مبنی ہیں ۔ اس سے کتاب و سنت سے ایک تیسری قسم ملتی ہے ، جسے قیاس کہتے ہیں ۔ شارع نے کسی حکم کی کوئی علت بیان کردی ہے یا شارع کے کلام سے یا اجتہاد کے ذریعے کوئی علت مستبنط ہوتی ہے تو اس علت میں اشتراک کی وجہ سے ان امور کو جو نص سے ثابت نہیں ہیں ، یعنی غیر منصوص ہیں ان احکامات کے ساتھ ملحق کر دیا جاتا ہے جو نص سے ثابت ہیں اور منصوص کہلاتے ہیں ۔ اسی کو کو قیاس کہتے ہیں ۔ 
مسلمانوں کے سواد اعظم کے نزدیک یہ مسلم ہے کہ امت مسلمہ کے تمام اگر کتاب و سنت یا قیاس سے مستنبط حکم پر متفق ہوجائیں تو خطا سے محفوظ ہوتے ہیں ۔ اس طرح ایک چوتھی اصل پیدا ہوئی ،جو کہ اجماع کہلاتی ہے اور یہ قیاس سے بھی قوی الاصل ہے ۔ اس طرح اولہ احکام چار ہوئے ۔ کتاب ، سنت ، اجماع اور قیاس ۔ اولہ احکام کی حثییت سے ان چاروں پر امت کے سواد اعظم کا اتفاق ہے ۔ 
اجماع کے بارے میں علماء اصول کے نظریات مختلف ہیں ۔ اس لئے ہر مکتبہ فکر نے اجماع کی تعریف اپنے انداز سے کی ہے ۔ چنانچہ کتب اصول میں ’’مجتہدین‘‘ کے بجائے ’امۃ محمد‘ اور ’ امر شریعی ‘ کے بجائے ’امر من الامور‘ خاص طور پر قابل زکر ہیں ۔ لیکن چار باتوںپر سب متفق ہیں ۔ 
(۱)  مجتہدین کا اتفاق ہو ۔
(۲)  مجتہدین ایک ہی عصر کے ہوں ۔ 
(۳)  ان مجتہدین کا تعلق امت محمدیہ سے ہو ۔ 
(۴)  اتفاق کسی شرعی امر پر ہو ۔
شیعہ ، خوارج اور نظام متزلی کے سوا مسلمانوں کی اکثریت اس پر متفق ہے کہ اجماع  ایک شرعی حجت ہے ۔ اس پر عمل واجب ہے اور اس کی مخالفت حرام ہے ۔ امام بزدویؒ کا کہنا ہے کہ جس نے اجماع کا انکار کیا اس نے اپنا دین باطل کیا ، اس لئے تمام اصول دین کا مرجع اور مدار مسلمانوں کے اجماع پر ہے ۔ عامۃ المسلمین اس پر متفق ہے کہ اجماع ایک شرعی حجت ہے ۔ سنت سے منحرف اقلیتی فرقوں کا اجماع کو نہ ماننا باآسانی سمجھ میں آتا ہے ، کہ جب تک وہ اجماع کے منکر نہ ہوں وہ اپنے لیے جداگانہ مسلک نہیں قائم کرسکتے ہیں ۔  
علماء اصولین نے اجماع کی حجت پر منقول و معقول ہر قسم کے دلائل پیش کئے ہیں ۔ منقول دلائل میں کتاب اللہ کی آیات ۴۔۱۱۵ ، ۲۔۱۴۳ ، ۳۔۱۰۰ اور ۴۔۵۹ سے استدلال کیا جاتاہے ۔ اگرچہ بعض علماء مثلاً سرخسیؒ اور صدر شریعہؒ نے ان کے علاوہ بعض دوسری آیات سے استدلال کیا ہے ۔
اجماع کی حجت کے بارے میں جن حدیثوں سے استدلال کیا جاتا ہے وہ اتنی کثیر ہیں جنہیں شمار نہیں کیا جا سکتا ہے ۔ یہ احادیث مشہور ہیں اور کسی نے ان سے انکار نہیں کیا ہے اور یہ اس امر کے لئے ثبوت ہیں کہ اجماع ایک قطعی اور قریب ترین طریقہ سنت ہے ۔
اجماع سے جو حکم ثابت ہو اس کی اتباع واجب ہے اور اس کی مخالفت حرام ہے اور جو لوگ اجماع کے قائل ہیں ان میں ایک قلیل جماعت کے سوا سب کا اس پر اتفاق ہے کہ کسی شرعی حکم پر اجماع کے لیے سند کا ہونا ضروری ہے ۔ کیوں کہ دین میں سند کے بغیر کوئی حکم لگانا خطا ہے اور امت خطا پرمجتمع نہیں ہو سکتی ہے ۔ البتہ ایک قلیل جماعت اس بات کی قائل ہے کہ اس کے لیے کسی سند کی ضرورت نہیں ۔ جو لوگ اجماع کے لیے سند ضروری قرار دیتے ہیں ان میں یہ اختلاف نہیں ہے کہ یہ سند قطعی ہو ۔ مثلاً کتاب اللہ یا خبر متواتر تو وہ اجماع کی سند یقینی ہے ۔ البۃ بعض لوگ کہتے ہیں کہ سند کے لیے ضروری ہے کہ وہ قطعی ہو کیوں کہ اجماع حجت قطعیہ ہے تو سند قطعی ہونی چاہیے ۔ لیکن جمہور اس بات پر متفق ہیں کہ اجماع کی سند ظنی بھی ہو سکتی ہے ۔ 
جو لوگ اس کے قائل ہیں کہ سند ظنی ہوسکتی ہے ان کا اس پر اتفاق ہے کہ اخبار آحاد اجماع کی سند بن سکتی ہیں ۔ لیکن یہاں اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ بعض اشاعرہ کے برخلاف اکثر فقہاء و متکلمین کے نزدیک اجماع اس دلیل یا سند پر نہیں ہوتا ہے بلکہ اس حکم پر ہوتا ہے جو اس دلیل سے ثابت ہو ۔ مثلاً حکم صحت کی دلیل کوئی خبر واحد ہو تو اجماع اس خبر واحد کی دلیل نہیں ہوگا ، بلکہ صرف حکم صحت کی دلیل ہوگا ۔ خبر کی صحت و عدم صحت کے شریعت میں نقل کے مستقل اصول ہیں ۔ اگر کوئی خبر اس اصولوں پر پوری اترے گی تو صحیح ہوگی ورنہ نہیں ۔ اجماع سے صرف صحت حکم کا تعلق ہے خبر کی صحت و عدم کا تعلق نہیں ہے ۔ 
اس میں اختلاف ہے کہ اجتہاد اور قیاس بھی اجماع کی سند بن سکتا ہے یا نہیں ۔ اس سلسلے میں چار اقوال ہیں ۔ 
(۱)  قیاس اجماع کی سند نہیں بن سکتا ہے ۔
(۲)  قیاس خواہ جلی ہو یا خفی اجماع کی سند بن سکتا ہے ۔ 
(۳)  قیاس جلی سند بن سکتا ہے خفی نہیں ۔
(۴)  صرف قیاس ہی سند بن سکتی ہے ، اس کے سوا کوئی اور چیز سند نہیں بن سکتی ہے ۔
صحیح مذہب یہ ہے کہ اجتہاد و قیاس اجماع کی سند بن سکتے ہیں ۔ اس کا وقوع ہوا ہو اور یہ حجت بھی ہو ۔
شاہ ولی اللہ کا کہنا ہے کہ کتاب و سنت اور قیاس تینوں چیزیں سند بن سکتی ہیں اور جس اجماع کی کوئی شرعی سند نہ ہو تو اسے وہ دین میں تخریب کا سبب قرار دیتے ہیں ، ان کا کہنا ہے یہود و نصارہ کے بہت سے اجماعات اسی قبیل کے ہیں ۔
جو لوگ اس کے قائل ہیں کہ اجماع کے لیے کسی دلیل یا سند شریعی یعنی کتاب و سنت اور قیاس میں سے کسی چیزکی ضرورت نہیں ہے ۔ وہ یہ کہتے ہیں کہ اجماع بذات خود ہی حجت ہے ۔ اگر اس کے لیے کسی چیز کی ضرورت ہو تو یہ دلیل خود اثبات حکم کی دلیل ہوگی اور اجماع کا کوئی فائدہ نہیں ہے ۔
لیکن واقعہ یہ ہے سند شرعی کے ساتھ اجماع کے مستقل فائدے ہیں ، سند کی دو صورتیں ہو سکتی ہیں ۔ ایک قطعی مثلاً کتاب اللہ آیات یا خبر متوا تر ، دوسری خبر واحد یا قیاس ، اگر سند قطعی ہے تو اجماع کا فائدہ یہ ہے کہ اس کی مزید تائید ہوجاتی ۔ بالکل اس طرح جس طرح ایک حکم کے دو نصوص ہوں ۔ مثلأٔ کتاب اللہ کا نص ہو اور خبر متواتر نصوص سے ثابت ہو تو اس کے باقی نصوص تاکید کا فائدہ بخشتے ہیں ۔
اگر سند ظنی ہو تو اس کے دو فائدے ہیں ۔ انقعاد اجماع کے بعد نہ کسی دلیل کی حاجت ہوتی ہے نہ اس دلیل سے حکم کاثبوت ہوتا ہے ۔ یہی وجہ ہے دلیل بعض اوقات پیش نہیں کی جاتی ہے انعقاد اجماع سے پہلے اس دلیل کے ظنی ہونے کی وجہ سے اس کی مخالفت جائز ہے ، لیکن انعقاد اجماع کے بعد یہ دلیل قطعی ہوجاتی ہے اور اس کی مخالفت حرام ہوتی ہے ۔  
خلاصہ یہ ہے کہ اجماع کی سند ظنی ہے تو اجماع سے قطعیت ظاہر ہوتی ہے اور قطعی ہونے پر اجماع سے تاکید ہوجاتی ہے ۔ غرض اجماع کیلئے دلیل یا سند ہونا ضروری ہے ، خواہ یہ کتاب و سنت ہو یا قیاس ۔ دلائل شرعیہ کے موجود ہوتے ہوئے مثالوں سے اجماع کی ضرورت واضح ہوتی ہے ۔ اجماع کے انعقاد کے بعد بعض اوقات دلیل یا سند کی حفاظت نہیں کی جاتی ہے ۔ اس لئے اصحاب فقہہ اس بات کیلئے مجبور ہیں کہ اجماع کو ثالت اصل کے طور پر مانیں ۔ ورنہ جب اصل دلیل محفوظ نہیں تو حکم کو اجماع کے علاوہ آخر کس دلیل سے ثابت کریں گے ۔ شاہ ولی اللہؒ کے نزدیک بھی اجماع کے لئے سند ضروری ہے لیکن اس کی بقا ضروری نہیں ہے ۔ 
بظاہر یہ بات عجیب سی معلوم ہوتی ہے کہ انعقاد اجماع کے بعد اصل دلیل محفوظ رہے ۔ لیکن واقع یہ ہے کہ تجرباتی دنیا میں ایسا ہوتا ہے اور اسے وہ لوگ اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں جنہیں افتاء کا تجربہ ہو ۔ عام طور پر شامی ، عالمگیری اور دوسری کتب فتاوی پر اعتماد کی وجہ سے مفتی کو مسائل مستخضر ہوتے ہیں ، لیکن دلائل مستخضر نہیں ہوتے ہیں ۔ کیوں کہ کتب فتاوی مسائل سے بحث کرتی ہیں دلائل سے نہیں اور اگر کسی مفتی سے دلیل دریافت کی جائے جو کتب فتاوی پر اعتماد کی وجہ سے اسے مستخضرہیں ، دفتیکہ وہ ان کتابوں کی مزاحمت نہ کرے جن میں دلائل بھی کئے گئے ہیں تو وہ جواب نہیں دے سکتا ہے اور اجماع پر اعتماد کی وجہ سے سند فراموش ہوگئی ہو تو اب یہ ممکن نہیں رہا ہے کہ اسے کہیں سے ڈھونڈا جائے ۔ ورنہ وہ اگر موجود ہوتی تو اسے فراموش شدہ کیوں قرار دیا جاتا ۔ 
قیاس
کتاب و سنت سے تیسری اصل نکلی ہے اسے قیاس کہتے ہیں ۔ شارع نے کسی حکم کی کوئی علت بیان کردی ہے یا شارع کے کلام سے اجتہاد کے ذریعے کوئی علت مستنبط ہوتی ہے تو اس علت میں اشتراک کی وجہ ان امور کو جو نص سے ثابت نہیں ہیں ، یعنی غیر منصوص ہیں ۔ ان احکام کے ساتھ ملحق کردیا جاتا ہے ، جو نص سے ثابت ہیں اور منصوص کہلاتے ہیں ، اسی کو قیاس کہتے ہیں ۔ 
اہل ظاہر کے نزدیک قیاس شرعی حجت نہیں ہے ۔ لیکن صحابہؓ اور تعابینؒ میں اسلاف اور امام مالکؒ ، امام ابو حنیفہؒ ، امام شافعیؒ ، امام احمد بن حنبلؒ اور اکثر متکلمین کے نزدیک قیاس ایک شرعی حجت ہے اور امت مسلمہ کا سواداعظم قیاس کو چوتھی اصل مانتا ہے اور کتاب و سنت اور اجماع میں جو حکم نہ ملے ، اس کے اثبات کے لئے قیاس کو بنا قرار دیتا ہے ۔
اسلام کے ابتدائی دور میں رائے کو قیاس شرعی کے معنی میں استعمال کیا جاتا تھا ۔ لیکن جب لوگوں نے رائے خالص اور قیاس شرعی میں امتیاز کرنا چھوڑ دیا اور ہر قسم کی رائے کو شرعی احکام کے اثبات کے دخیل بنادیا تو بعد کے دور میں ضروری ہوا کہ رائے اور قیاس کو ایک دوسرے سے جدا کرکے ان کا اصطلاحی فرق واضح کیا جائے ۔  
قیاس اور رائے میں فرق یہ ہے کہ اپنا وہ خیال جو کسی اصل شرعی یعنی کتاب و سنت پر اور اجماع پر مبنی ہو وہ قیاس ہے اور جو کسی اصل شرعی پر مبنی نہ ہو وہ رائے ہے ۔ شاہ ولی اللہ کے نزدیک رائے اور قیاس اور اہل رائے اور اہل قیاس کے درمیان جن امور سے فرق واضح ہو وہ حسب ذیل ہیں ۔ 
(۱) رائے یہ ہے کہ حرج یا مصلحت کے کسی ایسے مظنہ کو جس کاشارع نے اعتبار نہ کیا ہو اپنی طرف سے حکم ٹہرائے جائے اور قیاس یہ ہے کہ حکم منصوص سے علت کا استخراج کر کے اس پر حکم دائر کیا جائے ۔
(۲) رائے سے نہ نفس فہم وعقل مراد ہے نہ وہ رائے جس کا سنت پر اعتماد بالکل نہ ہو اور نہ استنباط اور قیاس پر قدرت مراد ہے ۔ بلکہ رائے سے مراد ہے کسی حکم کو معلوم کرنے کے لئے احادیث اور آثار کی پیروی کے بجائے اپنے متبوع کے حصول اور اس کے کلام سے تخریج کے طور پر اس مسئلہ کا حکم معلوم کیا جائے ۔
(۳) قیاس دین کی چوتھی اصل ہے ، جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی مسئلہ دین کے ان تین اصولوں کتاب ، سنت اور اجماع میں سے کسی اصل میں موجود ہو ، جو قیاس پر مقدم ہیں تو اس میں قیاس کو دخل نہ ہوگا ۔ 
گویا اصحاب رائے کا اعتماد سنت رسول ﷺ اور آثار صحابہؓ کے بجائے اپنے اسلاف کے کلام اور ان کے اصول پر ہوتا ہے اور وہ آخبار احاد کو جو قیاس پر مقدم ہے ۔ اپنے وضع کردا اصولوں کے مقابلے میں ترک کردیتے ہیں اور یہ طریقہ انہوں نے خوارج سے لیا ہے ۔ گویا اصحاب رائے کا اعتماد سنت رسول ﷺ اور آثار صحابہؓ کے بجائے اپنے اسلاف کے کلام اور ان کے اصول پر ہوتا ہے ۔ گویا اصحاب رائے کا اعتماد سنت رسول ﷺ اور آثار صحابہؓ کے بجائے اپنے اسلاف کے کلام اور ان کے اصول پر ہوتا ہے ۔  
رائے سے مراد وہ رائے نہیں جس کااعتماد سنت پر بالکل نہ ہو یا دیگر الفاظ میں سنت سے اس کا کوئی تعلق نہ ہو ۔ کیوں کہ اس قسم کی رائے کا کوئی امام یا عالم تو کیا عام مسلمان بھی قائل نہیں ہے ۔ البتہ رائے کا اطلاق اس پر ہو تا ہے کہ احادیث و آثار کی پیروی کے بغیر الردالی الاصول سے کام لیا جائے ۔    
قیاس کے چار ارکان ہیں ، اصل ، حکم اصل ، فرع اور وصف جامع ۔
۱ - اصل = علماء کا اس بارے میں اختلاف ہے کہ قیاس میں ’اصل‘ کے کیا معنی ہیں ۔ مثلاً ہم تحریم میں نبیند کو خمر پر قیاس کریں ، جو حدیث رسولﷺ ’حرمت الخمر لعینہا‘ میں منصوص علیہ ہے تو یہاں اصل آیا نص یا خمر میں یا خمر میں ثابت شدہ حکم یعنی حرمت خمر ؟ بعض متکلمین کے نزدیک نص اصل ہے ۔ معتزلہ اور قاضی ابوبکر ؒ یہی کہتے ہیں ۔ فقہاٗ کے نزدیک خمر ، یعنی محل اصل حکم ہے ۔ بعض فقہاٗ کے نزدیک خمر میں ثابت شدہ حکم اصل ہے ۔ امام رازی کا یہی قول ہے ۔ 
علامہ آمدیؒ اور ابن برہانؒ نے اسے لفظی نزاع قرار دیا ہے ۔ لیکن سب کا اس پر اتفاق ہے کہ علت اصل نہیں ہوتی ہے ۔        
۳ - حکم اصل = حکم اصل کی معتدد شرائط ہیں ، جس میں دو اہم شرائط حسب ذیل ہیں؛-
۱- حکم اصل کے معنی معقول ہوں ۔ 
۲- اس شرط کے مطابق وہ امور جن کے معنی معقول نہیں ہیں ان پر قیاس درست نہیں ہوگا ۔ مثلاً اعداد رکعات ، مقاویر زکواۃ حدود اور کفارات وغیرہ ۔
مقادیر شرعیہ کے غیر معقول ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اگر چہ یہ علت و مصلحت پر مشتمل ہیں ، لیکن ان کی علت و مصلحت سمجھ میں نہیں آتی ہے اور قیاس میں جوں کہ علت مشترکہ کی بنیاد پر اصل کے حکم کا فرع کی طرف رجوع کیا جاتا ہے ۔ لیکن جب وجہ ہی نہیں معلوم ہو تو اصل کے حکم کا تعدیہ کس بنیاد پر ہو ۔ 
۳ - فرع = اس میں اختلاف ہے کہ فرع کیا ہے ۔ نفس حکم متنازعہ فیہ یا محل حکم متنازع فیہ ۔ جو لوگ اس کے قائل ہیں کہ خمر میں اصل حکم ہے ، ان کے نزدیک نبیندمیں جو حکم ہو گا وہ فرع ہوگا اور جو یہ کہتے ہیں کہ اصل محل ہے ان کے نزدیک محل فرع ہوگا ۔ علامہ شوکانیؒ لکھتے ہیں کہ بہر حال فقہاء محل وقاق کو اصل کہتے ہیں اور محل خلاف کو فرع ۔
۴ - وصف جامع = فرع کے حکم کے لئے اصل ہوتا ہے اور اصل کیلئے فرع ۔ فرع کے حکم کے لئے فرع اس لئے ہوتا ہے کہ فرع کا حکم اس پر مبنیٰ ہوتا ہے اور اصل کے حکم کے لئے فرع اس لئے ہوتاہے کہ اس سے مستنبط ہوتا ہے ، لہذا نص یا حکم یا محل کے تابع ہوتا ہے ۔ واضع رہے کہ وصف و ضامع کا اصل کاحکم کے لئے فرع ہوتا ہے ۔ یہ اکثریت کے لحاظ سے ہے ، ورنہ کبھی حکم اصل کے لئے وصف جامع فرع نہیں ہوتا ہے ۔ مثلأٔ اسی صورت میں جب کہ وصف جامع منصوص ہو ۔

تہذیب و تدوین
(عبدالمعین انصاری(

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں