72

اسلامی قانون

اسلامی قانون کوئی ساکن اور منجمد قانون نہیں ہے ، کہ ایک خاص زمانہ اور خاص حالات کے لیے اس کو جس صورت میں مدون کیا گیا ہو اسی صورت پر وہ ہمیشہ قائم رہے اور زمانہ اور حالات بدل جانے پر بھی اس کی صورت میں کوئی تغیر نہ کیاجاسکے ۔ جو لوگ اس قانون کو ایسا سمجھتے ہیں وہ غلطی پر ہیں ، بلکہ ہم کہیں گے وہ اسلامی قانون کی روح کو نہیں سمجھے ہیں ۔ 
اسلامی شریعت کی بنیاد دراصل حکمت اور عدل پر رکھی ہے ۔ تشریع (قانون سازی ) کا اصل مقصد بندگان خدا کے معاملات اور تعلقات کی تنظیم اس طور پر کرنا کہ ان کے درمیان مزاحمت اور مقابلہ کے بجائے تعاون اور ہمدرانہ اشتراک عمل ایک دوسرے کی شخصیت کے نشو ونما میں مدد گار ہو یا کم از کم ان کی ترقی میں مانع و مزاحم بن کر موجب فساد نہ بن جائے ۔ 
اس غرض کے لیے اللہ تعالیٰ نے فطرت انسانی اور حقائق اشیاء کے اس علم کی بنا پر جو اس کے سوا کسی کو حاصل نہیںہے ، زندگی کے ہر شعبہ میں چند ہدایات دی ہیں اور اس کے رسول ﷺ نے اسی کے دیئے ہوئے علم سے ان ہدایات کو عملی زندگی میں نافذ کرکے ہمارے سامنے ایک نمونہ پیش کردیا ہے ۔ 
یہ ہدایات اگرچہ ایک خاص زمانے اور خاص حالات میں دی گئیں تھیں اور ان کو ایک خاص سوسائٹی کے اندر نافذ کرادیا گیا تھا ، لیکن ان کے الفاظ سے اور ان طریقوں سے جو رسول اللہ ﷺ نے ان کو عملی جامہ پہنانے میں اختیار فرمائے تھے ، قانون کے چند ایسے ہمہ گیر اصول نکلتے ہیں ، جو ہر زمانے اور حالت میں انسانی سوسائٹی کی عادلانہ تنظیم کے لیے یکساں مفید اور قابل عمل ہیں ۔ اسلام میں جو چیز اٹل اور ناقابل تغیر اور تبدل ہے وہ یہی اصول ہیں ۔ 
اب ہر زمانے کے مجتہدین کا کام ہے کہ عملی زندگی میں جیسے جیسے حالات اور حوادث پیش آتے جائیں ، ان معاملات کو اس طور پر نافذ کریں کہ شارع کا اصل مقصد پورا ہو ۔ شریعت کے اصول جس طرح غیر متبدل ہیں ، اس طرح وہ قوانین غیر متبدل نہیں ہیں جن کو انسانوں نے ان اصولوں سے مرتب کیا ہے ، وہ تمام ازمنہ و امکنہ اور احوال و حوادث کے لیے ہیں اور خاص حالات اور خاص حوادث کے لیے ۔ 
پس اسلام میں اس امر کی پوری وسعت رکھی گئی ہے ، کہ تغیر حوال ۱ور خصوصیات حوادث کے لحاظ سے احکام میں اس اصول کے تحت تغیر کیا جاسکے اور جیسی جیسی ضرورتیں پیش آتی جائیں ان کو پورا کرنے کے لیے قوانین مرتب کیے جاسکیں ، اس معاملے میں ہر زمانے اور ہر ملک کے مجتہدین کو اپنے زمانی اور مکانی حالات کے لحاظ سے استنباط احکام اور تفریع مسائل کے پورے اختیارات حاصل ہیں اور ایسا ہر گز نہیں ہے کہ کسی خاص دور کے اہل علم کو تمام زمانوں اور تمام قوموں کے لیے وضع قانون کا چارٹر دے کر دوسروں کے پورے اختیارات کو سلب کرلیا گیا ہو ۔ لیکن اس کے معنی یہ بھی ہر گز نہیں ہیں کہ ہر شخص کو اپنے منشا اور اپنی اہواء کے مطابق احکام کو بدل ڈالنے اور اصول کو توڑ موڑ کر ان کی الٹی سیدھی تاویلیں کرنے اور قوانین کو شارع کے اصل مقصد سے پھیرنے کی آزادی حاصل ہو ۔ اس کے لیے بھی ایک ضابطہ اور چند شرائط ہیں ۔ 
فروعی قوانین مدون کرنے کے لیے سب سے پہلے جس چیز کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ شریعت کے مزاج کو اچھی طرح سمجھ لیا جائے ۔ یہ بات صرف قران الکریم کی تعلیم اور نبی ﷺ کی سیرت میں تدبر کرنے سے ہی حاصل ہو سکتی ہے ۔ ان دونوں چیزوں پر جس شخص کی نظر وسیع اور عمیق ہو گی وہ شریعت کا مزاج شناش ہو جائے گا اور ہر موقع پر اس کی بصیرت اس کو بتا دے گی کہ مختلف طریقوں میں کون سا طریقہ اس شریعت کے مزاج سے مناسبت رکھتا ہے اور کس طریقہ کو اختیار کرنے سے اس کے مزاج میں بے اعتدالی پیدا ہو جائے گی ۔ اس کی بصیرت کے ساتھ احکام میںجو تغیر و تبدل کیا جائے گا ، وہ نہ صرف مناسب اور معتدل ہوگا بلکہ اپنے محل خاص میں شارع کے اصل مقصد کو پورا کرنے کے لیے اتنا ہی بجا ہوگا جتنا کہ شارع کا حکم ۔    
مزاج شریعت کو سمجھنے کے بعد اہم شرط یہ ہے کہ زندگی کے جس شعبہ میں قانون بنانے کی ضرورت ہو اس کے متعلق شارع کے جملہ احکام پر نظر ڈالی جائے اور ان میں غور و فکر کرکے معلوم کیا جائے کہ ان سے شارع کا مقصد کیا ہے ، شارع کس نقشہ پر اس شعبہ کی تنظیم کرنا چاہتا ہے ، اسلامی زندگی کی وسیع تر اسکیم میں اس شعبہ کا خاص مقام کیا ہے اور اس مقام کی مناسبت سے اس شعبہ میں شارع نے کیا حکمت عملی اختیار کی ہے ۔ اس چیز کو سمجھے بغیر جو قانون بنایا جائے گا یا پچھلے قانون میں جو حذف و اضافہ کیا جائے گا وہ مقصود شارع نہ ہو گا اور اس سے قانون کا رخ اپنے مقصد سے منحرف ہو جائے گا ۔ قانون اسلامی میں ظواہر احکام کی اہمیت اتنی نہیں ہے جتنی مقاصد احکام کی ہے ۔ فقیہ کا اصل کام یہی ہے کہ شارع کے مقصود اور اس کی حکمت و مصلحت پر نظر رکھے ۔ بعض خواص مواقع ایسے آتے ہیں جن میں ظواہر احکام پر (جو عام حالات کو مد نظر رکھ کر دیئے گئے تھے) عمل کیا جائے تو اصل مقصد فوت ہو جائے ۔ ایسے وقت میں ظاہر کو چھوڑ کر اس طریق پر عمل کرنا ضروری ہے ، جس سے شارع کا مقصدپورا ہو تا ہو ۔ قران الکریم میں امربالمعروف و نہی عن المنکر کی جیسی کچھ تاکید کی گئی ہے ، معلوم ہے نبی ﷺ نے بھی اس پر بہت زور دیا ہے ۔ مگر اس کے باوجودآپ ﷺ نے ظالم و جبر امراء کے مقابلے میں خروج سے منع فرمادیا ۔ کیوں کہ شارع کا اصل مقصد تو فساد کو اصلاح سے بدلنا ہے ۔ جب کسی فعل سے اور زیادہ فساد پیدا ہونے کا اندیشہ ہو اور اصلاح کی امید نہ ہو تو اس سے احتراز بہتر ہے ۔ علامہ ابن تمییہ کے حالات میں لکھا ہے کہ فتنہ تاتار کے زمانے میں ایک گروہ پر ان کا گزر ہوا ، جو شراب و کباب میں مشغول تھا ۔ علامہ کے ساتھیوں نے ان لوگوں کو شراب سے منع کرنا چاہا مگر علامہ نے ان کو روک دیا اور فرمایا اللہ نے شراب کو فتنہ و فساد کا دروازہ بند کرنے کے لیے حرام کیا ہے اور یہاں یہ حال ہے کہ شراب ان ظالموں کو ایک بڑے فتنے یعنی قتل نفوس اور نہب اموال سے روکے ہوئے ہے ۔ لہذا ایسی حالت میں ان کو شراب سے روکنا مقصود شارع کے خلاف ہے ۔ اس سے معلوم ہوا ہے کہ حوادث کی خصوصیات کے لحاظ سے احکا م میں تغیر کیا جاسکتاہے ۔ مگر تغیرایسا نہیں ہونا چاہیے جس سے شارع کا اصل مقصد الٹا فوت ہو جائے ۔ 
اس طرح بعض احکام ایسے ہیں جو خاص حالات کی رعایت سے خاص الفاظ میں دیئے گئے تھے ۔ اب فقیہ کا کام یہ نہیں ہے کہ تغیر احوال کے باوجود انہی الفاظ کی پابندی کرے ۔ بلکہ اس کو ان الفاظ سے شارع کے اصل مقصد کو سمجھنا چاہیے اور اس مقصد کو پورا کرنے کے لیے حالات کے لحاظ سے مناسب احکام وضع کرنا چاہیں ۔مثلاًً نبی ﷺ نے صدقہ فطر میں ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو یا ایک صاع کشمش دینے کا حکم فرما یا ۔ اس کا مقصدیہ نہیں ہے کہ اس وقت مدینہ میں جو صاع رائج تھا اور یہ اجناس جن کا حضور ﷺ نے ذکر فرمایا ۔ یہی بعینہ منصوص ہیں ۔ شارع کا اصل مقصد صرف یہ ہے کہ عید کے روز ہر شخص کو اتنا صدقہ دے کہ اس کا ایک غیر مستطیع بھائی اس صدقے میں اپنے بال بچوں کے ساتھ کم از کم عید کا زمانہ خوشی کے ساتھ گزار سکے ۔ اس مقصد کو کسی دوسری صورت سے پورا کیا جاسکتا ہے جو شارع کی تجویز سے اقرب ہو ۔ 
پھر یہ بھی ضروری ہے کہ شارع کے اصول تشریع اور طرز قانون سازی کو خوب سمجھ لیا جائے ، تاکہ موقع و محل کے لحاظ سے احکام وضع کرنے میں انہی اصولوں کی پیروی کرے اور اسی طرز کی تقلید کی جا سکے ۔ یہ چیز اس وقت تک حاصل نہیں ہوسکتی جب تک انسان مجموعی طور پر شریعت کی ساخت اور پھر فردأٔ فردأٔ اس کے حکام کی خصوصیات پر غور نہ کرلے ۔ شارع نے کس طرح احکام میں عدل اور توازن قائم کیا ہے ۔ کس کس طرح اس نے انسانی فطرت کے ساتھ رعایت کی ہے ۔ دفع مفاسد اور جلب مصالح کے لیے اس نے کیا طریقے اختیار کئے ہیں ۔ کس ڈھنگ پر وہ انسانی معاملات کی تنظیم اور ان میں انضباط پیدا کرتا ہے ۔ کس طریقہ سے وہ انسان کو اپنے بلند مقاصد کی طرف لے جاتا ہے اور ساتھ ساتھ اس کی کمزوریوں کو ملحوظ رکھ کر اس کے راستے میں مناسب سہولتیں بھی پیدا کرتا ہے ۔ یہ سب امور تفکر اور تدبر کے محتاج ہیں اور ان کے لیے نصوص قرانی کی لفظی و معنوی دلالتوں اور نبی ﷺ کے افعال و اقوال کی حکمتوں پر غور کرناضروری ہے ۔ جو شخص اس علم اور فقہ سے بہرہ ور ہو وہ موقع و محل کے لحاظ سے احکام میں جزوی تغیر و تبدل بھی کرسکتا ہے ۔ 
احوال و حوادث کے جو تغیرات و احکام میںجو تغیر یا جدید احکام وضع کرنے کے مقتضی ہوں ان کو دو حیثیتوں سے جانچنا ضروری ہے ۔ ایک یہ حیثیت کہ وہ حالات بجائے کون سی قوتیں کام کررہی ہیں ۔ دوسری یہ حیثیت کہ اسلامی قانون کے نقطہ نظر سے ان میں کس کس نوع کے تغیرات ہوئے ہیں اور ہر نوع کاتغیراحکام کس طرح کا تغیر چاہتا ہے ۔ 
مثال کے طور پر اسی مسلہ سود کو لیجیے جو اس وقت زیر بحث ہے ۔ معاشی قوانین کی تدوین جدید کے لیے ہم کو سب سے پہلے زمانہ حال کے معاشی دنیا کا جائزہ لینا ہوگا ۔ ہم گہری نظر سے معاشیات ، مالیات اور لین دین کے جدید طریقوں کا مطالعہ کریں گے ۔ معاشی زندگی کے باطن میں جو قوتیں کام کررہی ہیں ان کو سمجھیں گے ۔ ان نظریات اور اصول سے واقفیت حاصل کریں گے اور ان اصول و نظریات کا ظہور جن عملی صورتوں میں ہو رہا ہے ان پر اطلاع حاصل کریں گے ۔ اس کے بعد ہم یہ دیکھیں گے کہ زمانہ سابق کی بہ نسبت ان معاملات میں جو تغیرات واقع ہوئے ہیں ان کو اسلامی قانون کے نقطہ نظر سے کن اقسام پر منقسم کیا جاسکتا ہے اور ہر قسم پر شریعت کے مزاج اور اس کے مقاصد اور اصول تشریح کی مناسبت سے کس طرح کے احکام جاری ہونے چاہیے ۔ 
وہ تغیرات جو درحقیقت تمدنی احوال کے بدل جانے سے رونما ہوئے ہیں اور جو دراصل انسان کے علمی و عقلی نشوو ارتقاء اور خزائن الہی کے مزید انکشافات اور مادی اسباب و وسائل کی ترقی اور حمل و نقل اور مواصلات کی سہولتوں اور زرائع پیداوار کی تبدیلی اور بین الا قوامی تعلقات کی وسعتوں کے طبعی نتائج ہیں ۔ ایسے تغیرات اسلامی قانون کے نقطہ نظر سے طبعی اور حقیقی تغیرات ہیں ۔ ان کو نہ تو مٹایا جا سکتا ہے اور نہ مٹانا مطلوب ہے ، بلکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان کے اثر سے معاشی معاملات میں جو نئی صورتیں پیدا ہوگئی ہیں ، ان کے بدلے ہوئے حالات میں مسلمان اپنے عمل کو ٹھیک ٹھیک اسلامی طرز پر ڈھال سکیں ۔
آنحضرت ﷺ صحابہؓ اور تعابعین کے دور کے بعد بھی ان نکات پر جو وقفاً وقفاً پیدا ہوتے رہے ہیں ان پر قانون سازی ہوتی رہی ہے اور ان کے ماخذ قران و حدیث اور اجماع رہے ہیں ۔ یعنی نو پیدا شدہ مسائل پر وقت کے تقاضوں کے مطابق ترمیم ہوتی رہی ہے ۔ مثلأٔ حضرت عمرؓؓ نے سواد کی زمینیں صحابہؓ کے مشورے سے مملکت کی ملکیت قرار دیں ۔
ابتدا میں فقہا کے نزدیک ’دریائے شور‘ (سمندر) غیر اسلامی مقبوضات میں ہے ۔ یعنی سمندر کی حیثیت فقہاء کے نزدیک دارلحراب کی تھی ۔ یعنی وہاں قتل اور لوٹ مار کی کوئی بندش نہیں تھی ، مگر دور جدید میں فقہاء کا اجماع ہے ، کہ اس طرح سمندر سے کفار کے حق میں خود دستبردار ہو جانا ہے ۔
ایسا ہی ایک ایسا مسئلہ جس میں سنار اصل سے زائد سونا نفع اور مزدوری میں طلب کرتے تھے ۔ کیوں کہ دینار سونے کے اور درہم چاندی کے ہوتے تھے ۔ اس طرح یہ وزن کا ایک پیمانہ بھی تھا ۔ سونے کے کسی زیور جس کا وزن دس دینار ہوتا اور سنار اس کے بارہ دینار طلب کرتے ، جو اصولی طور پر جائز ہے ، لیکن شرع میں جائز نہیں ۔ کیوں کہ ایک جیسی اشیاء کے تبادلے میں کمی و بیشی سود ہے ۔ اس لئے فقہاء نے اس کا یہ حل نکالا کہ اس کی ادائیگی یا تو درہموں میں کی جائے یا آٹھ دینار سونے کے بدلے آٹھ دینار اور باقی چار دینار سونے اور اس کی مزدوری کی مد میں درہم دیتے تھے ، کیوں کہ مختلف اشیاء کے تبادلے میں کمی و بیشی سود نہیں ہے ، اس لئے یہ ادائیگی جائز ہوتی تھی ۔ 

تہذیب و تدوین
(عبدالمعین انصاری(

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں