78

اسلام میں فلسفہ معیشت

اسلامی قانون میں حالات اور ضروریات کے لحاظ سے احکام کی سختی کو نرم کرنے کی کافی گنجائش رکھی گئی ہے ۔ چنانچہ فقہ کے اصول میں ایک اصول یہ بھی ہے ’’ضرورتوں کی بناء پر بعض ناجائز چیزیں جائز ہو جاتی ہیں‘‘ اور ’’جہاں شریعت کی کسی حکم پر عمل کرنے میں مشقت ہو وہاں آسانی پیدا کردی جاتی ہے‘‘۔ قران الکریم اور احادیث نبوی میں بھی معتدد موقع پر شریعت کے اس قائدے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ۔ مثلاً 
لایکلف اللہ نفسا الا وسعھا ( البقرہ ، ۲۸۶ ) 
اللہ کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتاہے ۔
یرید اللہ بکم الیسر ولایر ید بکم العسر ( البقرہ ، ۱۸۵ )
اللہ تمہارے ساتھ نرمی کرنا چاہتاہے سختی نہیں کرنا چاہتا ہے ۔
وما جعل علیکم فی الدین من حرج ( الحج ، ۱۰ )
اس نے تمہارے ساتھ دین میں سختی نہیں کی ہے ۔ 
حدیث نبوی ہے ؛ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے پسندیدہ دین وہ ہے جو سیدھا سادہ اور نرم ہو ۔ اسلام میں ضرر اور ضرار نہیں ہے ۔
مولانا مودودی لکھتے ہیں جلب مصالح پر دفع مفاسد مقدم ہے ، شریعت کی نگاہ میں بھلائیوں کے حصول اور مامورات و وجبات ادا کرنے کی بہ نسبت برائیوں کو دور کرنا اور حرام سے بچنا اور فساد کو دفع کرنا زیادہ اہمیت رکھتا ہے ۔ اس لیے وہ مشقت کے مواقع پر مامورات میں جس فیاضی سے ممنوعات کی اجازت دینے میں نہیں برتتی ۔ سفر اور مرض کی حالتوں میں نماز ، روزے اور دوسرے واجبات کے معاملہ میں جتنی تخفیفیں کی گئی ہیں ، اتنی تخفیفیں ناپاک اور حرام چیزوں کے استعمال کے لئے نہیں کی گئیں ہیں ۔            
اسلامی نظام حیات جن ہدایات و تعلیمات پر مشتمل ہے ۔ ان میں بعض کا تعلق ایمانی عقائد سے ہے ، جو باقی سب ہدایات کے لیے اساس و بنیاد کی حیثیت رکھتی ہیں ۔ بعض کا تعلق بدنی اور مالی عبادات اور مکارم اخلاق سے ہے ، جو ایمانی اور دیگر ہدایات و تعلیمات کے درمیان بمنزلہ واسطہ و سیلہ کے ہیں ۔ بعض کا تعلق معاشرتی اور عائلی امور و مسائل سے ہے اور بعض کا معاشی امور و معاملات سے ہے ۔ بعض کا سیاسی اور حکومتی امور و مسائل سے ہے اور بعض کا تمدنی و تہذیبی شیون و احوال سے ہے ۔ غرضیکہ انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کا کوئی ایسا پہلو اور شعبہ ایسا نہیں جس کے بارے میں اسلامی نظام حیات کے بارے میں تفصیلی یا اجمالی ہدایت و تعلیم موجود نہ ہو ۔ اس کے اندر معاشی امور ومعاملات اور مسائل وحالات سے متعلق جو ہدایات و تعلیمات ہیں ان کا دوسرا نام اسلام کی اقتصادی ہدایات و تعلیمات ہے ۔ 
اس سلسلے میں دوسری قابل ذکربات یہ ہے کہ اسلام کی تمام تعلیمات خواہ وہ ایمانی عقائد سے تعلق ہوں یا عبادات اور اخلاق سے ، معاشرت کے متعلق ہوں یا معیشت سے ، سیاست و حکومت سے متعلق ہوں یاتمذن و ثقافت سے ، وہ سب آپس میں ایک دوسرے سے اس طرح مربوط و منعظم ہیں ، جس طرح کسی کل کے اجزاء مقصد کل کے تحت باہم دیگر مربوط و منعظم ہوتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے ان تعلیمات کے مجموعے کو لفظ نظام سے تعبیر کیا جاسکتا ہے ۔
معاشرت ، معیشت اور سیاست و حکومت سے متعلق اسلام کی جو عملی تعلیمات ہیں ان کا تعلق دوسری تعلیمات جو ایمانی عقائد اور دینی عبادات سے گہرا تعلق ہے ۔ اس وجہ سے اسلام کا اقتصادی نظام ، سرمایا دارنہ نظام اور اشتراکی نظام سے ایک علیحدہ شان رکھتا ہے ، کیوں کہ مذکورہ دونوں اقتصادی نظام سیکولر ہیں ۔ جن کا روحانی اقدار اور وحی و رسالت سے کوئی تعلق نہیں ہے اور ان کا مقصد محض انسان کی فلاح بہبود ہے ، خواہ وہ کسی طریقہ سے حاصل ہو ۔ وہ حرام و حلال اور جائز و ناجائز کے کسی فلسفہ اوردینی ضابطہ کے قائل اور پابند نہیں ہیں ۔ جب کہ اسلام کا اقتصادی نظام ایک خاص دینی فلسفہ اور احکام پر مبنی ہے ۔ اس کے اصول و ضوابط اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے تجویز کردہ اور ان کی مرضی کے تابع ہیں اور اس حوالے سے وہ ایک مسلمان کے لئے واجب العمل ہیں ۔ ایک مسلمان حلال و حرام سے متعلق احکام پر عمل کرتا ہے تو یہ سمجھ کرکرتا ہے کہ ایسا کرنا اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کے طور پر ضروری ہے ۔
مولانا طاسین لکھتے ہیں قران کی متعد د آیات میں مال کو لفظ خیر اور فضل سے تعبیر کیا گیا ہے تو اس کی وجہ اس کا وسیلہ خیر و بھلائی ہونا ہے اور جن آیات اور احادیث نبوی میں مال کی تحقیر اور مذمت کا پہلوہے تو وہ اس پہلو سے ہے کہ مال ذریعہ شر و فساد بنتا ہے ۔ ایک حدیث نبوی ﷺ کے الفاظ ہیں ’’صالح آدمی کے لیے صالح مال بہت اچھی چیز ہے‘‘ ۔ ایک حدیث کا مضمون ہے کہ اگر دنیاوی مال کی قدر منزلت اللہ کے نزدیک مکھی مچھر کے پر کے برابر ہوتی تو وہ کافروں کو ہر گز نہ دیتا ۔ خلاصہ یہ ہے کہ دنیاوی مال و متاع کے متعلق اسلام کا ایک خاص نقطہ نظر اور رویہ ہے اور اسلام کی تعلیمات سے اس کا گہرا تعلق ہے ۔  
اسلام کی ان تعلیمات کا مقصدیہ ہے کہ معمولی سے معمولی شکل اور ادنیٰ سے ادنیٰ معیار پر سہی ، لیکن ہر فرد کھانے پینے کے لئے غذا ، پہنے کے لباس اور رہنے سہنے کے لئے گھر میسر ہو ، نیز ہر ایک کے لئے اس کا بھی مناسب موقع ہو ۔ اگر وہ اپنی ذاتی ضروریات سے زائد رزق مال اور سامان معاش کمانایا حاصل کرنا چاہے تو کر سکے ۔ کیونکہ جس طرح ہر انسان یہ چاہتا ہے کہ اس کو اپنی شخصی حیات و بقاء کے لئے ضروری سامان و معاش اور رزق و مال حاصل ہو ۔ اس طرح یہ بھی چاہتا ہے کہ اس کے پاس اس کی شخصی ضرورت سے زائد رزق مال ہو تاکہ وہ مصارف خیر میں خرچ کرکے اخلاقی عظمت و برتری اور تقرب الہی حاصل کرسکے ، جو روحانی سکون و اطمینان کا بڑا ذریعہ ہے ۔
اسلام کی اقتصادی تعلیمات کی کچھ تفصیل یہ ہے کہ قران و حدیث نبی ﷺ میں حیات انسانی کے جو معاشی پہلوسے متعلق جو ہدایات اور تعلیمات ہیں تین طرح کی نظر آتی ہیں ۔ ایک وہ جن کی حیثیت اخلاقی مواعظ و ترغیبات کی سی ہے اور احسان و ایثار پر مبنی ہے ۔ احسان کے معنی ہیں کسی کا اپنی مرضی خوشی سے بطور ہمددی و خیر خواہی اپنی کوئی مفید مادی چیز دوسرے کو بغیر مادی معاوضہ کے دے دینا ۔ لہذا ان تعلیمات کا مقصد یہ ہوا کہ لوگ ہمدردی و خیرخواہی کے جذبہ سے رضاکارانہ طور پر اپنی مملوکہ اشیاء ایک دوسرے کو دینے کی روش اختیار کریں اور بغیر کسی مادی معاوضہ کے ایک دوسرے کا فائدہ پہنچائیں ۔ یہ اخلاقی و احسانی تعلیمات عمل کے لحاظ سے اختیاری ہیں جبری نہیں ہیں ۔ ان پر عمل کرنے یا نہ کرنے کے معاملے میں افراد کو اختیار ہوتا ہے کہ چاہیں تو ان پر عمل نہ کر یں ۔ 
دوسری وہ جن کی نوعیت مستقل اور حقیقی قوانین کی سی ہے ، عدل و قسط پر مبنی ہیں ۔ یہاں عدل و قسط کے معنی ہیں حقداروں کو ان کے حق کا ٹھیک ٹھیک اور پورا پورا ملنا ، لہذا ان تعلیمات کا مطلب ہوا کہ معاوضے کے معاملات میں ہر فریق کو اس کا حق برابر برابر اور پورا پورا ملے اور ہر فریق دوسرے کی چیز کا صحیح اور پورا معاوضہ ادا کرے اور کسی کی حق تلفی نہ ہو ۔ یہ مستقل قوانین کا درجہ رکھتی ہیں ، لہذا یہ عمل کے لحاظ سے اختیاری نہیں جبری و اجباری ہیں ۔ مسلمان پابند و مجبور ہیں کہ ان پر عمل کریں ۔ 
تیسری وہ جن کی پوزیشن عبوری اور وقتی احکام کی طرح ہے ۔ انہیں عبوری یا وقتی احکامات سے تعبیر کیا گیا ہے ، وقتی مصلحت پر مبنی ہیں ۔ وقتی مصلحت کا مطلب یہ ہے کہ نا موافق حالات میں دو بری چیزوں میں ایک کو اختیار کرناضروری و نا گزیر ہو تو اس کو اختیار کرلینا یا بڑی اچھائی کی خاطر چھوٹی اچھائی کو ترک کردینا ۔ لہذا ان تعلیمات یہ مقصد ہوا کہ جب حالات ایسے ہوں کہ ان میں سو فیصد صحیح چیز پر عمل کرنا ممکن نہ ہو تو اس پر عمل کر لیا جائے ، جو صحیح کے قریب تر اور نسبتاً بہتر ہو ۔ ان کی حیثیت عبوری و وقتی قوانین کی ہے ، عمل کے لحاظ سے یہ اجباری ہیں اختیاری نہیں ۔ یعنی جن حالات سے ان کا تعلق ہو ان پر عمل لازمی و ضروری قرار پاتا ہے ۔ کیوںکہ ان پر عمل کرنے سے معاشی ظلم و فساد میں کچھ کمی واقع ہوتی ہے اور معاشرے کی اجتماعی حالت نسبتاً سدھرتی اور بہتر بن جاتی ہے ۔ لہذا اس کا مقصد معاشرے سے ظلم و فساد ختم کرکے عدل و انصاف قائم کرنا ہے ۔ 
مولانا محمد طاسین صاحب نے تیسری تعلیمات میں ایسے احکام شامل کردیئے ہیں جو کہ پہلے ممنوع نہیں تھے اور بعد میں ان کی حرمت کے متعلق احکام آئے ۔ مثلأٔ سود اور مزارعت وغیرہ ۔ یہاں پر مجھے مولانا سے تھوڑاسا اختلاف ہے ، میں اس کے بارے میں آگے لکھوں گا ۔ تاہم مولانا طاسین صاحب سے پہلے اسلامی معاشی تعلیمات کے متعلق لکھنے والے انہیں بری طرح الجھا دیا کرتے تھے ۔ لہذا مولانا کا ہم مبتدیوں پر یہ احسان کچھ کم نہیں ہے کہ انہوں نے پہلی دفعہ ان تمام معاملات کو علیحدہ علیحدہ کرکے پیش کیا ہے ۔ 
راقم کی نگاہ میں یہ تقسیم کچھ اس طرح ہونی چاہیے ۔ اول فرائض ، دوم رضاکارانہ ، سوئم ممنوع ۔
فرائض جن کی ادائیگی ایک صاحب نصاب پر فرض ہے ، جس میں وہ تمام احکام آجاتے ہیں جو اسلامی اقتصادیات کے تمام معاملات جس میں زکواۃ ، عشر ، خراج اور دوسرے تمام محصول بھی شامل ہیں ۔ جو حکومت اپنے اخراجات پورے کرنے کے وصول کرتی ہے اور جن کو فقہ اور علماء جائز قرار دیا ہے ۔
رضارانہ جو کہ مولانا کی تقسیم کے مطابق رضاکارانہ ہے ۔ 
ممنوع یعنی وہ معاملات جن کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے حرام یا ممنوع قراردیا ہے ، ان میں سود مہار شامل ہیں ۔ ان میں سود سرفہرست ہے ، جس کی حرمت قران الکریم اور احادیث سے ثابت ہوتی ہے ۔

تہذیب و تدوین
(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں