91

اصول فقہ

علت
شرعی حکم کے لئے حکمت کے اصول کو علت کہا جاتا ہے ۔ حکمت سے مراد مصلحت کی تحصیل یا اس کی تکمیل یا مفسدہ کا دفع یا اس کی تقلیل ۔ گویا حکم کی مشروعیت کو جس وصف کے ساتھ وابستہ کیا جائے اسے علت کہتے ہیں ۔ سبب اور حکم کے درمیان علت کا توسط ضروری ہے ۔ 
وہ معتدد امور جو معقول معنی نہیں ہیں اور جن پر قیاس جاری نہیں ہوتا ہے ۔ ان میں حکم کا مدار جس وصف پر ہوتا ہے ۔ احناف اسے علت نہیں بلکہ سبب کہتے ہیں ، اس لئے علت میں وصف حکم کے ساتھ ایسی مناسبت ضروری ہے جو سمجھ میں آسکے ۔ 
علت کی متعد شرائط میں سے چند شرائط حسب ذیل ہیں ۔
(۱) ظاہر ہو - یعنی علت کو ایسا واضع ہونا چاہیے کہ جس کا ادراک ممکن ہو سکے ۔ مثلاً صغیر پر ولایت کے ثبوت کے لئے علت صغیر یا حرمت میں نشہ ۔
(۲) منضبط ہو - یعنی اس طرح محدود ہو کہ اشخاص ، زمان اور احوال کے اختلاف سے مختلف نہ ہو ۔ مثلاً ٔمقتول کی میراث سے محرومی میں وارث کو اپنے مورث کو قتل کرنا کہ یہ مضبوط اور محدود وصف ہے ، جو قاتل اور مقتول کے اختلاف سے مختلف نہیں ہو تا ہے ۔ یا حرمت خمرمیں وہ شدد جو سکر کی حد کو پہنچ جائے وصف محدود ہے ۔    
(۳) متعدی ہو - اصل پر مقصود نہ ہو ، یعنی صحت قیاس کے لئے علت کا تعدیہ سب کے نزدیک بالاتفاق شرط ہے ۔ مثلاً رمضان میں مسافر یا مریض کے لئے فطر کی اباحت ، کہ چوں کہ اس اباحت کی علت سفر یا مرض ہے جو صرف مسافر یا مریض میں پایا جاتا ہے ۔ اس لئے جو شخص اعمال شاقہ میں مشغول ہو اسے مسافر اورمریض پر قیاس نہیں کیا جاسکتا ۔
(۴) حکم میں موثر ہو - اس کی تعبیر اس طرح کی جاتی ہے کہ حکم کے لئے باعث اور مناسب ہو اور حکم جس مقصد کے لئے شروع ہوا ہے اس کے لئے محرک اور مقتضیٰ ہو ۔ 
(۵) نقض - کسی موقع پر علت سے حکم سے تخلف کو نقض کہتے ہیں ۔ نقض سے علت باطل ہوجاتی ہے یا نہیں اس میں اختلاف ہے ۔ لیکن اکثر اصولین کے نزدیک کسی مانع کی وجہ سے نقض جائز ہے ۔
(۶) کسر - کسی حکمت کے ماتحت نہ کہ کسی علت کی وجہ سے ، حکم کے تخلف کو اصطلاحاً کسر کہتے ہیں ، کسر سے علت باطل ہوتی ہے یا نہیں اس میں بھی اختلاف ہے ۔ جمہور کا مسلک یہ ہے کہ باطل نہیں ہوتی ہے ۔ مثلاً سفر کی حکمت مشقت ہے ، یہ حکمت صنائع شاقہ میں موجود ہے ، لیکن حکم رخصت موجود نہیں اور اس سے علت رخصت باطل نہ ہوگی ۔  
(۷) ترکیب - بعض حضرات کے نزدیک علت کے لئے یہ شرط ہے کہ وہ ذات وصف واحد ہو ۔ مثلاً تحریم خمر کی تعلیل نشہ ہے ، لیکن جمہور علت کے لئے اس شرط کے قائل نہیں ۔ چنانچہ محدد سے وجوب قیاس کی تعلیل قتل عمد عددان سے کی جاتی ہے اور یہ علت مجموعہ اوصاف ہے ۔ 
مسالک علت 
 علت کی دریافت کے طریقوں کو مسالک علت کہتے ہیں ۔ 
مسالک علت کی تعداد میں اختلاف ہے جن میں چند حسب ذیل ہیں ، جو عام اصول کی کتابوں میں ملتے ہیں ۔
اجماع ، نص ، ایما ، مناسبت ، سیروتقسیم ، طر یا دوران ، شبہ ، تنفیح مناط ۔ ان میں سے اول الذکر تین مسالک اصل یا نقلی اور باقی استنباطی ہیں ۔
(۱) اجماع - علت کی دریافت کایہ طریقہ ہے کہ کسی عصر میں اس پر اجماع ہوجائے کہ فلاں وصف کی علت ہے ۔ مثلاً مال میں ِ صغیر پر ولایت کے لئے صفر کا علت ہونا ۔ 
جمہور اصلین اجماع کو مسالک علت مانتے ہیں ۔ اجماع کیلئے ضروری نہیں ہے کہ وہ قطعی ہو ، ظنی اجماع بھی مسالک علت ہوسکتا ہے ۔ 
(۲) نص صریح - نص صریح کی علت کی دلالت کی دو صورتیں ہیں ۔
(۱) نص صریح ایسے الفاظ پر مشتمل ہو جو صرف علت کے لئے وضع کیے گئے ہیں اور جن میں علت کے سوا کوئی احتمال نہ ہو ۔ مثلاً لعلۃ کذا ، لسبب کذا ، لاضل یا من اجل کذا ، کی ، اذن ۔    
(۲) نص میں ایسے الفاظ ہو ں جو صرف علیت کے لئے وضع نہیں کئے گئے ہوں اور ان میں علت کے سوا دوسرا احتمال بھی ہو ۔ مثلاً لام ، باء ،فاء ، وغیرہ ۔ نص کی دونوں صورتوں میں پہلی صورت اعلیٰ سمجھی جاتی ہے اور جمہور اصولین انہیں مانتے ہیں ۔
(۳) ایما - احناف اسے مستقل مسلک علت نہیں مانتے ہیں بلکہ اس مسلک نص کے تحت درج کرتے ہیں ۔ اس کی متعدد صورتیں ہیں جنہیں جمہور اصولین تقریباً تسلیم کرتے ہیں اور اسے علت کی دلالت پر ایک مستقل مسالک سمجھتے ہیں ۔
(۴) مناسبت - فقہاء کا اس پر اتفاق ہے کہ نص (حکم) کے تمام اوصاف کا حکم میں اثر نہیں ہوتا ہے اور نص میں جتنے اوصاف ہیں وہ کل کے کل علت نہیں بنتے ہیں ۔ مثلاً رسول اللہﷺ نے کوئی بات کسی اعرابی سے فرمائی تو وصف اعرابی کا حکم پر کوئی اثر نہیں پڑے گا ۔ 
(۵) سیر و تقسیم - اوصاف کا وصف یہ تقسیم کہلاتا ہے اور ان اوصاف کو پرکھنا کہ ان میں سے جن اوصاف میں علت بننے کی صلاحیت نہیںہوتی ہے انہیں دلائل سے باطل کیا جاتا ہے اور جو وصف باقی رہے جاتا ہے وہ علت کے لئے متعین ہوجاتا ہے ۔
(۶،۷) طرد اور دوران - وجود وصف سے وجود حکم طرد ہے اور انتفاء وصف سے انتفاء حکم عکس ہے اور دوران طرد و عکس کا دوسرا نام ہے ۔ مثلاً خمر جب سکر ہو تو حرام ہوتی ہے اور جب اس کا اثر زائل ہوجائے تویعنی کے سرکہ بن جائے تو یہ حرام نہیں رہتی ہے ۔ تو معلوم ہوا کہ تحریم وجواً عدماً سکر کے ساتھ دائر ہے ۔
(۸) شبہ - شبہ اس وصف کو کہتے ہیں جو مناسب لذتہ نہیں ، لیکن اس میں مناسبت کا وہم ہوتا ہے ۔
(۹) تحقیق ، تنقیح اور تخریج مناط - یعنی علت پر تین طرح سے نظرڈالی جائے ۔ اس کی تحقیق میں ، اس کی تنقیح میں ، اس کی تخریج میں ۔ مثلاً اعرابی کا قصہ ، وقاع کہ اگرچہ نص علت کی طرف ایسا کرتا ہے ، لیکن غیر معتبر اوصاف کے حذف کے ذریعہ علت معینہ کی دریافت رائے اجتہاد کی محتاج ہے ۔ اس کی صورت یہ ہے کہ اس حکم میں متعدد اوصاف سامنے رکھے جائیں ، اس کا اعرابی ہونا ، اس کا شخص معین ہونا ، اس زمانہ یا اس مقام پر یا اس خاص دن میں ہونا ، موطوعتہ کا ذوجہ یا معین عورت ہونا ۔ ان تمام اوصاف کا تاثیر میں کوئی دخل نہیں لہذا نہار رمضان میں وقاع یہ وصف موثر ہوگا ۔   
تحقیق مناط - نص یا اجماع استنباط سے علت معلوم ہو جانے بعد آحاد صور یعنی جزیات میں وجود علت کی معارفت کی کوشش کرنے کو تحقیق مناط کہتے ہیں ۔ مثلاً تحریم شرب خمر کے لئے ، شدت مطربہ کے وصف علت کے لئے ، اثباط یا محدد میں وجوب قصاص کے لئے ، قتل عمد عددان کا علت ہونا ۔    
تنقیح مناط - وصف کے ساتھ مختلط غیر معتبر اوصاف کے حذف و الغاء کے ذریعہ اس وصف کی تعیین میں نظر جس کے علت ہونے پر تعیین کے بغیر نص دلالت کرتا ہے ۔ 
تخریج مناط - نص یا اجماع کسی حکم پر دلالت کریں تو اس حکم کی علت کے اسباب میں نظر و اجتہاد تخریج مناط کہلاتا ہے ۔     
مصلحت
اسلامی قانون کا اہم اصول ہے ۔ الخوارزمی نے مصلحت کی تعریف یوں کی ہے کہ ’’مصلحت سے مراد شرعی مقاصد کا تحفظ ہے ، یعنی انسانیت سے مفاسد کو دفع کرنا‘‘۔ 
امام غزالی مصلحت کی تعریف اس طرح کرتے ہیں ’’مصلحت سے مراد کسی کار آمد اور نفع بخش چیز کی تعریف کرنا یا کسی ضرر رساں چیز کو دفع کرنا ہے ۔ لیکن اس سے ہمارا مقصد واضع نہیں ہوتا ہے ، کیوں کہ منفعت کی تلاش اور مضرت کا دفعیہ ایسے مقاصد ہیں کہ خلقت کے لحاظ سے ان کا مقصد نیکی کا حصول ہے اور یہ بھلائی ہے ، جس میں پانچ چیزیں شامل ہوتی ہیں ، دین کا تحفظ ، زندگی کا حفاظت ، عقل و دانش کا تحفظ ، اخلاق و مال کا تحفظ ۔ جو کچھ ان پانچ اصولوں کے تحفظ کا یقین دلائے وہی مصلحت ہے اور جو ان کے تحفظ میں ناکام رہے وہ مفسد ہے اور اس کو دفع کرنا مصلحت ہے ۔ 
مصالح تین طرح کے ہوتے ہیں ۔ 
(۱) جن کے اعتبار کی شریعت نے شہادت دی ہے ۔
(۲) جن کے غیر معتبر ہونے میں کسی کو اختلاف نہیں ہے ۔
(۳) تیسرے وہ کہ شریعت نے نہ ان کے اعتبار کی شہادت دی ہے اور نہ عدم اعتبار کی عام طور پر انہی کو مصالح مرسلہ کہا جاتا ہے ۔ اس لئے قدرے تفصیل کی ضرورت ہے ۔ 
مصلحت کے سلسلے میں حسب ذیل امور پر سب کا اتفاق ہے ۔
(۱) شریعت اسلامیہ کے تمام احکام مصالح پر مبنی ہیں ۔
(۲) عبادات مثلاً وضو ، تعداد صواۃ و رکعات ، ایام مخصوصہ میں صوم اور حج کی فرضیت با الفاظ دیگر مقاریر شریعہ میں مصلحت مرسلہ پر بنائے احکام کی گنجائش تو قیاس تک کی گنجائش نہیں ہے ۔     
(۳) اگر کسی کے مصلحت کی اعتبار کی شہادت شریعت کی کسی اصل خاص سے ملتی ہو تو وہ مقبول ہے اور کسی مصلحت کے عدم اعتبارکی شہادت کسی اصل خاص سے ملتی ہے تو وہ مردود ہے ۔  
اختلاف اس میں ہے کہ معاملات میں جو با اتفاق آئمہ اربعہ معقول ہیں ، اگر کسی مصلحت کی سند اور شہادت کسی اصل خاص سے نہ ملتی ہو تو کیا اس پر بھی احکام کی بناء جائز ہوگی ؟  
امام مالکؒ اور حنابلہ ایسی مصلحت کا اعتبار کرتے ہیں ، امام ابوحنیفہؒ اور امام شافعیؒ اعتبار نہیں کرتے ہیں ، لیکن مصالح مرسلہ کے قبول و عدم قبول کا تعلق ہے ہمیں دونوں طرح کی روائتیں ملتی ہیں ، فرق صرف یہ ہے کہ امام مالکؒ اور امام احمدؒ نے مصالح سے زیادہ کام لیا ہے دوسروں نے کم ۔
علی حسب اللہ نے چند ایسی مثالوں کا ذکر کیا ہے جن میںامام ابو حنیفہؒ اور امام شافعیؒ نے مصالح مرسلہ سے کام لیا ہے ۔ جب کہ شوکافیؒ لکھتے ہیں کہ مالکیہ کی ایک جماعت نے امام مالکؒ کی طرف ان کی قبولیت کے انتساب کو غلط کہا ہے اور قرطبیؒ لکھتے ہیں کہ امام شافعیؒ اور اکثر احناف کی طرح امام مالکؒ بھی ان پر اعتماد نہیں کرتے ہیں ۔ امام شافعیؒ کی طرح امام غزالیؒ نے بھی مصالح مرسلہ پر سخت تنقید کی ہے ۔ 
مصالح مرسلہ کے قبول و عدم قبول کو منسوب کا یہ اختلاف دراصل مصالح مرسلہ کے مفہوم کے تعین میں اختلاف کا نتیجہ ہے ۔ اگر مصالح مرسلہ ان مصالح کو کہتے ہیں جنہیں اعتبار شارع کا لحاظ کئے بغیر محض اپنی عقل سے کسی مصلحت کو سمجھ کر حکم کو دائر کیا جائے تو ایسے مصالح کو کوئی قبول نہیں کرتا ہے ۔  
قرطبیؒ اور مالکیہ کی ایک جماعت نے امام مالکؒ کی طرف جو مصالح کے عدم قبول کو منسوب کیا ہے وہ اسی مفہوم کے لحاظ سے ہے ۔ مصالح مرسلہ امام شافعیؒ اور امام غزالیؒ کی تنقیدیں اسی لحاظ سے ہیں اور اگر مصالح مرسلہ ان مصالح کو کہتے ہیں کہ جنہیں مرسل ملائم یا مناسب مرسل کہتے ہیں تو سب انہیں قبول کرتے ہیں ۔ چنانچہ ابن حاجبؒ لکھتے ہیں کہ مرسل ملائم کو امام مالکؒ اور امام شافعیؒ بھی قبول کرتے ہیں اور ابن ہمامؒ لکھتے ہیں کہ مرسل ملائم کا قبول کرنا احناف کے لئے ضروری ہے ۔ صاحب مسلمہؒ لکھتے ہیں کہ مرسل ملائم جمہور احناف قبول کرتے ہیں ۔  
اگر مصالح مرسلہ ان مرسلہ کو کہتے ہیں جنہیں غریب مرسل کہتے ہیں اور ان کے اعتبار کی شہادت کسی اصل خاص سے نہیں ملتی ہو لیکن وہ شریعت کے عام مقاصد کے موافق ہو تو امام مالکؒ کے یہاں ان کی قبولیت کے لئے تین شرائط ہیں ۔
(۱) مصلحت میں اور مقاصد شرع میں ملائمت ہو اور شریعت کی کسی اصل اور کسی دلیل کے معارض نہ ہو ۔ 
(۲) معقول ہو کہ جب اہل عقول کے سامنے آئے تو وہ اسے قبول کرلیں ۔                       
(۳) مصلحت ضروریات اور حاجیات سے متعلق ہو ، تحسنیات سے متعلق نہ ہو ۔  
اگر مصالح ضروریات کے متعلق ہیں تو سب انہیں قبول کرتے ہیں ۔ چنانچہ ابن ہمامؒ لکھتے ہیں کہ مناسب اگر ضروریات خمس میں سے کسی کی حفاظت سے متعلق ہے تو احناف و شوافع سب کے نزدیک اس پر عمل لازم ہے اور اگر وہ مصالح حاجیات سے متعلق ہیں تو امام مالکؒ انہیں قبول کرتے ہیں ۔ لیکن احناف اور شوافع انہیں قبول نہیں کرتے ہیں ۔ امام غزالیؒ ایسے مصالح کو قبول کرنے کے لئے تین شرائط عائد کرتے ہیں کہ وہ ضروری ، قطعی اور کلی ہوں ۔ لیکن قرطبیؒ کہتے ہیں ان شرائط کے ساتھ کسی کا اختلاف نہیں ہونا چاہیے ۔ ضروری سے مراد ضروریات خمس میں سے ہو ، یعنی حفظ دین ، حفظ نفس ، حفظ عقل ، حفظ مال اور حفظ نسب ہے اور قطعی سے مراد اس مصلحت حصول یقینی ہو اور کلی سے مراد ہے اس کا فائدہ تمام مسلمانوں کے لئے عام ہو ۔  
لیکن یہ مصلحت کلی ضروری نہیں ہوئی تو معتبر نہ ہو گی ۔ اس طرح یہ مصلحت کلی نہ ہو تب بھی معتبر نہ ہوگی اوراگر یہ مصلحت قطعی نہ ہوئی تب بھی یہ معتبر نہ ہو گی ۔ 
گو مصالح کے مرسلہ کے سلسلے میں اگر اختلاف ہے تو ان مصالح کے بارے میں جو حسب ذیل تین قیود کے ساتھ ہوں ۔
(۱) ان کے اعتبار کی سند شریعت کی کسی اصل کے ساتھ نہیں ملتی ہو ۔ 
(۲) وہ مصالح شریعت کی کسی خاص اصل سے نہیں ملتی ہو ۔
(۳) ان مصالح کا تعلق حاجیات سے ہو ۔  
 اس کے علاوہ جتنی صورتیں ہو سکتی ہیں وہ متفق علیہ ہیں یا ان کے رد پر سب کا اتفاق ہے ۔ 
 عرف و عادۃ       
عرف و عادت کی دو قسمیں ہیں ، ایک وہ جو تمام بلاد اسلام میں عام ہو اور اس پر تمام ارباب حل و عقد متفق ہوں ، اسے عرف و عام یا عادت عام کہتے ہیں ۔ یہ اجماع کی ایک صورت ہے ، جس کی حجت میں آئمہ اربعہ میں کسی کا اختلاف نہیں ہے ۔ 
دوسری وہ جو تمام بلاد اسلام میں عام نہیں ہو اور اس پر تمام اہل حل و عقد کا اتفاق نہ ہو بلکہ کسی ایک بلد اور اس کے ارباب حل و عقد میں رائج ہو ۔ اسے عرف خاص یا عادت خاصہ کہتے ہیں ۔ 
متقدین احناف صرف عرف عام کا اعتبار کرتے ہیں عرف خاص کا نہیں ۔ لیکن بلخ ، بخارا اور خوارزم کے مشائخ اور ابو للیث اور ابو علی نے عرف و خاص کا اعتبارکیا ہے ۔ بالکل یہی صورت شوافع کے یہاں معلوم ہوتی ہے ، اس لئے ’العادۃ محکمۃ‘ کے اصول کا علامہ سیوطیؒ نے بیع کے چند فتووں کے ساتھ ابن اصلاح اور عراقی کے دو فتووں کو نقل کیا ہے ۔ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ شوافع عادت خاصہ کا اعتبار کرتے ہیں ۔ 
امام شافعی کے بارے میں علی حسب اللہ لکھتے ہیں ، انہوںنے اپنے مذہب جدید کے بہت سے احکام کی بناء اہل مصر پر رکھی ہے اور اہل عراق اور اہل حجاز کے عرف پر مبنی احکام کو چھوڑ دیا ہے ۔ 
گویا عرف و عادۃ خواہ عام ہو یا خاص احناف اور شوافع دونوں کے یہاں معتبر ہے ۔ 
عرف و عادۃ کو ماخذ قانون دینے کی لازمی شرط یہ ہے کہ وہ عرف کتاب اللہ اور سنت ﷺ کے خلاف نہ ہو ۔ کیوں کہ نص شریعی کا قانونی وزن بہر حال عرف سے زیادہ ہے ۔ لیکن اگر عرف شرعی دلیل کے مخالف ہو تو اس کو رد کردینے میں کوئی شبہ نہیں ہے ۔  
عرف صالح قول کے لئے فقہانے بعض شرائط پیش کیں ہیں ۔
(۱) - عرف نص شرعی سے معارض نہ ہو ۔
(۲) - قانون سازی کے وقت عرف باقی ہو ۔
(۳) - عرف غالب و عام ہو ۔ 
(۴) - معاشرے میں اس کا پورا کرنا ضروری تصور کیا جائے ۔
(۵) - معاملہ کرنے والوں نے اس کے خلاف کوئی شرط عائد نہ کی ہو ۔   

تہذیب و تدوین
(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں