57

اعتراضات

اس میں کوئی شک نہیں میری علمیت سطحی ہے اور میری بات بھی غلط ہوسکتی ہے اور میری بات کو اگر علمی بنیادوں پر غلط ثابت کیا جائے تو خوشی ہوتی ہے ۔ مگر لوگوں کو اعترضات کرنا بھی نہیں آتا ہے ۔ یہ بھی کوئی اعترض ہے کہ آپ غلط کہہ رہے ہیں ۔ جب میں پوچھتا ہوں ، ٹھیک ہے میں غلط ہوں مگر کس طرح ؟ مگر جواب میں ایک طویل خاموشی ۔ یا یہ کہا جاتا یہ بکواس یا خرافات ہے ۔ یعنی ان کے عقیدے اور معلومات خلاف ہو بکواس اور خرافات ہوتی ہے ۔ بہت سے لوگ اعترض اس طرح کرتے ہیں کہ ذکر کھیت کا ہو رہا ہے اور اعتراض کھلیان کا کریں ۔ اعتراض بھی سن کر بعض جگہ مجھے ہنسی اور بعض جگہ رونا آتا ہے ۔ بعض مجھ پر الزام لگاتے ہیں کہ میں کاپی پیسٹ کرتا ہوں ۔ مگر کسی کی یہ وضاحت نہیں کرتے ہیں ۔ اس طرح بہت سے لوگ ریفرنس مانگتے ہیں ۔ میری سمجھ میں نہیں آتا ہے یہ ریفرنس کا کیا کریں گے ۔ ان کی علمیت سے اندازہ ہوتا ہے اگر میں ان کو فلسفہ کی کتابوں کا حوالہ دوں تو یہ خاموش ہوجائیں گے ۔ ایک صاحب نے کسی مفتی صاحب کو مدد کے بلایا ۔ وہ جواب میں آئیں شائیں کرنے لگے اور کہنے لگے یہ کاپی پیسٹ ہے اور کوئی کتا بھونکے تو جواب میں میں تھوڑی بھونکوں کا ۔ اس جواب سے ان کی علمیت کا اندازہ بخوبی ہوتا ہے ۔  
ہمارے یہاں جو اپنے کو صاحب علم سجھتے ہیں وہ اکثر اپنے مسلک کی کتابوں کے رٹے لگائے جاتے ہیں یا مناظرہ کرنے والے ہوتے ہیں ۔ ان کو دوسری کتابوں یا سے علمیت واسطہ کیا ہوتا ہے ۔ میری فیس بکس کے دوستوں میں صاحب علم ، علما اور مفتی وغیرہ بھی ہیں مگر خاص کر مذہبی علما اعتراضات نہیں کرتے ہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے میں دلیل دیتا ہوں ۔ 
آخر میں یہ کہوں گا مجھے اپنی تعریف سے زیادہ سوالات سے خوشی ہوتی ہے ۔ مگر ہمارے یہاں سوالات کا دستور نہیں ہے ۔ صرف تعریفیں کی جاتی ہیں یا پھر بغیر کسی دلیل کے یہ کہا جاتا ہے کہ میں غلط ہوں ۔ میں نے سے درخواست کروں گا وہ مطالعہ کریں اور سوالات کرنا سیکھیں ۔ میں روزانہ پانسو کے لگ بھگ میسج اور فیس بکس پر کمنٹ کے جوابات دیتا ہوں ان میں مشکل سے ایک آدھ سوال ہوتا ہے ۔ اگر آپ سوال نہیں کریں گے تو صرف رٹے لگائیں گے جو علمی ذوال کا مظہر ہے ۔  
تحریر و تدوین 
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں