84

افرسیاب

ایرانی روایات کے مطابق تورانیوں کا افسانوی بادشاہ اوستا کی رو سے فرنگ رسین توری کومی مئو مروہ (کیخسرو) کا ایک حریف تھا ۔ جس نے کیخسرو کے باپ سیاہ درشن کو دغابازی سے قتل کردیا تھا ۔ اس نے آریائوں کی ہون یعنی شان وشوکت حاصل کرنے کی بے سود کوشش کی اور اسے انتقاماً کیخسرو نے قتل کردیا ۔ ممکن ہو وہ تاریخی شخصیت ہو اور تورانی قبائل کا (جو ایرانیوں کے ہم نسل سردار ہو اور اس نام کی پہلوی صورت فراسیاب تھی ۔ اس کا سلسلہ نسب توچ (تور ، تورانیوں کا جد امجد) بن فریدون تھا ۔ کہا جاتا ہے افراسیاب کی ترکازیوں کی ابتدا منش چہر کے عہد حکومت ہوئی ۔ یعنی اس موخرالذکر کو شکست دے کر افغانستان پر قبضہ کرلیا ۔ ازو (زو یا زاب) نے ایران کو اس کے تسلط سے رہائی دلائی ۔ 
افرسیاب نے دوبارہ شان و شوکر حاصل کرنے کی کوشش کی ۔ جسے اس نے ساتوں کشوروں میں تلاش کیا ۔ افرسیاب کی جائے سکونت ( پشتوں کا زیر زیر زمین قلعہ جہان فرنگ سین لوہے سے محصور رہتا تھا) کا بہ تفصیلی ذکر کیا گیا ہے ۔ آخر میں افراسیاب کیخسرو کے ہاتھ مارا جاتا ہے ۔ اس طرح آگے چل کر افسانے میں پشتوں کے زمانے کے بعد افراسیاب تورانیوں کی تمام جنگوں میں ان کا سردار بن گیا ۔ وہ نہ صرف کیانیوں کے خلاف بلکہ ان کے پیش روں کی تمام جنگوں میں ان کا سردار بن گیا ۔ گویا وہ منش چہر اوراُزر کا معاصر ہوگیا ۔ تاہم اس کے خاتمے کا تعلق پھر بھی قطعاً کیخسرو کے ساتھ رہا ۔
اسلامی مصنفین نے ان قومی روایات کے متعلق اپنی معلومات غیر مذہبی کتابوں بالمخصوص خودامی نامک (شاہنامہ) سے اخذ کیں ہیں ۔ ان ہاں بہت سی معلومات ملتی ہیں ۔ افراسیاب منش چہر سے طبرستان میں لڑا اور ہجران میں عہد و پیمان ہوگیا ۔ جس کی رو سے دریائے بلخ (آمو یا جیحوں) دونوں کے درمیان حد فاضل اختیار پایا ۔ سیاوش جس کو کیکاؤس نے افراسیاب کے خلاف فوج دے کر بھیجا تھا اس سے صلح کر لی ۔ جسے کیکاؤس نے تسلیم نہیں کیا ، سیاوش نے افرسیاب کے ہاں پناہ لی ۔ افرسیاب نے اپنی بیٹی وسفافرید شیاوش سے بیاہ دی ۔ (الطبری ، فردوسی ۔ فرنگیں) پھر اسے بھی حسد کی بناء پر قتل کرڈالا ۔ وسفافرید جس کے پیٹ میں کیخسرو تھا ، بچ گئی اور مشہور پہلوان گیو (بی ۔ داؤ) ایران لے گیا ۔ پھر رستم اور توس نے سیاوش کے انتقام میں توران کی سرزمین پامال کردالی ۔ کیخسرو کا عہد حکومت افراسیاب کے خلاف جنگوں سے معمور رہا ۔ آخری لڑائی کے بعد افراسیاب بھاگ کر آذر بئیجان میں رپوش ہوگیا ۔ لیکن کیخسرو نے اس اپنے ہاتھ سے قتل کیا ۔ 
چوں کہ تورانیوں سے مراد ترک لئے جاتے ہیں ۔ لہذا افرسیاب کو ترک مانا جاتا ہے ۔ شاہنامہ میں اس بات پر خاص زور دیا گیا ہے ۔ یہی وجہ ہے افغانستان و ایران میں آباد ہونے والے بہت سے ترک اسے اپنا مورث اعلیٰ قرار دیتے ہیں ۔ ترکوں کا افرسیابی حکمران خاندان مشہور ہے ۔ 
یہ دراصل عہد قدیم کی ان لڑائیوں کی داستانیں ہیں ۔ جب آمو دریا کے پار سے سیھتی و ترک قبائیل ایران پر حملہ آور ہوتے تھے ۔ یہ قبائیل نسلی اعتبار سے ایرانیوں کے ہم نسل تھے ، یہی وجہ ہے ان قبائیل کو جنہیں تورانیوں سے تعبیر کیا ہے ، اور انہیں افریدون کی اولاد بتایا گیا ہے ۔ ایرانیوں کو ان قبائیل کے حملوں نے عاجز کر رکھا تھا ۔ کسی بھی فرمانروا کے لئے ان قبائیل کے حملے کی روک تھام بہت بڑا مسلہ بنی رہتی تھی ۔ ان قبائیل سے جنگوں میں کتنے بادشاہ اپنی جانیں گنوا بیٹھے ۔ ان داستانوں میں ان سب کو ترک کہا گیا ہے ۔ مگر یہ سب ترک نہیں تھے ۔ خورس بھی ان قبائل سے لڑتا ہوا مارا گیا ۔ 

تہذیب و تدوین
عبدلمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں