psychology of afghan 80

افغانوں کی نفسیات

کیرو لکھتا ہے کہ پٹھان قوم اپنی جبلت کے لحاظ سے انفرادیت پسند ، آزاد طبیعت اور خود سر واقع ہوئی ہے ۔ پٹھان کا قول کا ذکر ان الفاط میں کرتا ہے کہ ہم نااتفاقی پر مطمین رہے سکتے ہیں ، ہم خطرے سے بے پروہ رہے سکتے ہیں ، ہم خون ریزی برداشت کرسکتے ہیں ، لیکن کسی شخص کی ماتحتی ہمیں قبول نہیںہوسکتے ہیں ۔

افغان قبائل ایک سردار کے تحت منعظم نہیں ہوتے ہیں ۔ جیسا کہ بلوچ یا بروہی قبیلوں میں ہوتا ہے ۔ جن کے یہاں اعمال از قسم مقدم و وڈیرہ وغیرہ سردار کے ماتحت ہوتے ہیں بلکہ پانی بھرتے ہیں ۔ ان کا جمہوری مزاج چھوٹے سے چھوٹے سے گروہ کا معتبر خود چنتا ہے ۔ بلوچوں میں توارث اہم سمجھا جاتا ہے ۔ لیکن افغانوں میں اکثر رد و بدل ہوتا رہتا ہے ۔ کمزور مظبوط سے دبتے چلے جاتے ہیں اور کور ذہن ذکی الفہم سے ۔ لیکن ایک دفعہ رسوخ حاصل کرلیا جائے تو اس کی بقاء قبائیلی حمایت کے بجائے اکژ خارجی پشت پناہی جیسے سرکاری دستگیری پر منحصر ہوتی ہے ۔ 

بالاالذکر ہوچکا ہے کہ افغانوں کی عصبیت خاندانی اور قبائیلی ہوتی ہے ۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ افغانوں نے مختلف حکومتوں کے قیام اور استحکام کے لئے بہت سی خذمات انجام دیں ہیں جنہیں ہم نظر انداز نہیں کرسکتے ہیں ۔ تاہم جہاں افغان اور پٹھان حکومتوں کے قیام میں جہاں یہ مدد گار ہوئے وہاں ان کی شکست و رنجیت میں بھی ان کا بہت بڑا حصہ رہا ہے ۔ برصغیر میں پٹھان حکمرانوں کی دعوت پر ان کی بڑے پیمانے پر آمد اور آباد کاری بھی ہوئی اور ان حکومتوں میں یہ بڑے بڑے عہدوں پر فائز رہے ۔ مگر ان کی شورش اور سازشوں کی وجہ سے یہ حکومتیں ذوال پزیر ہوئیں ۔ ان میں لودھی ، سوری کے علاوہ بنگال اور بہار کی پشتون حکومتیں قابل ذکر ہیں ۔ یہاں تک افغانستان کی ابتدائی ہوتکی حکومت بھی ان کی مخالفت کا شکار رہی ۔ جب کہ افغانستان کی بنیاد رکھنے والے ابدالی خاندان کی حکومت سازشوں اور مخالفتوں کی وجہ سے صرف تین پشت تک قائم رہی ۔ یہی حال افغانستان کی دوسری حکومتوں کا ہوا ۔

یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ جن حکومتوں کے استحکام میں ان کو شریک کیا گیا وہ حکومتیں انتشار کیوں ہوئیں ؟ جب کہ یہ بھاڑے کے سپاہی کی حثیت سے پسند کئے جاتے رہے ہیں اور ہم دیکھے ہیں یہ محمود غزنوی سے لے کر برصغیر کی حکومتوں میں ان کے لشکریوں کی کثیر تعداد تھی اور انہوں نے سپاہی کی حثیت سے کوئی قابل ذکر شورش یا ڈسیپلن کی خلاف ورزی نہیں کی ۔ انگریزوں نے بھی پٹھان سپاہیوں کی تعریف کی ہے ۔ اگرچہ ان کے آبائی علاقہ مسلسل شورش زدہ رہے ہیں ۔

یہ بھی حقیقت ہے برصغیر میں پشتون حکومتوں کے قیام کا سبب ان کی صلاحیتوں سے زیادہ وہاں حکومت کی عدم استحکام اور طوائف الملوکی ہے اور عدم استحکام کی بدولت ان کا اقتدار پر قبضہ ہوا ۔ جس کے لئے انہوں نے کوئی قابل ذکر جدوجہد نہیں کی ۔ ہمارے سامنے خلجی اور لودھی حکومتوں کے قیام کی مثالیں ہیں ۔ جلاالدین فیروز خلجی کے حالات نے کچھ ایسا رخ اختیار کیا کہ اقتدار خود اس کی گود میں آگرا اور اس کو کوئی قابل ذکر مذاہمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا ۔ اس طرح بہلول لودھی کو بھی اقتدار کے لئے کوئی جنگ یا جدو جہد نہیں کرنی پڑی اور سیّد خاندان کے آخری بادشاہ علاؤالدین نے اپنی مرضی سے خود اقتدار اس کے حوالے کر کے بدایوں میں سکونت اختیار کرلی تھی ۔

دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں کہ افغان جہاں اچھے سپاہی رہے ہیں وہاں انہوں نے ہمیشہ اپنے ہم نسلی بھائیوں کی حکومت کو گرانے میں اہم کردار ادا کیا ۔ جلال الدین فیروز خلجی نے اہم عہدوں پر بھتیجوں اور رشتہ داروں کو رکھا ۔ علاؤالدین خلجی اس کا بھیجا اور داماد تھا جس سے وہ بہت عزیزرکھتا تھا اس کو قتل کرکے تخت پر قبضہ کرلیا اور خلجی خاندان کی حکومت کے ذوال کا سبب خود خلجی بنے۔ دوسری مثال ہمارے سامنے مالوہ کے خلجیوں کی ہے جن کی ہے ۔ جس کی حکومت کو اکبر نے ختم کیا تھا ۔ جس کا بانی خود اپنے بہنوئی کو قتل کرکے فرمانروا بنا تھا ۔ اس کی حکومت کے استحکام کا باعث غالباً یہی تھا کہ افغان بڑے عہدوں پر فائز نہیں تھے ۔ برصغیر میں لودھی حکومت کے خاتمہ کے لیے پٹھان امیروں نے اس کے خلاف سازشیں کیں اور بابر کو حملے کی دعوت دی ۔ اس کے نتیجے میں لودھی حکومت کا خاتمہ ہوگیا ۔

افغانوں کا کوئی فرد یا گروہ باآسانی اپنے قبیلے سے علحیدہ ہوکر کسی دوسرے قبیلے میں شامل ہوجاتا ہے ۔ وہاں انہیں عموماً زمین اور دوسرے معملات میں شریک کرلیا جاتا ہے ۔ اس طرح کا اوغام نہ صرف افغان قبائل کے علاوہ بلوچوں اور بروہیوں میں بھی ملتا ہے ۔ جس آسانی سے یہ اپنے آبائی قبیلے کو چھوڑ کر دوسرے نسلی قبائل (بلوچ اور بروہی) میں شامل ہوجاتے ہیں ۔ اس طرح بھی ان کی خاندانی اور قبائیلی عصبیت کی نفی ہوتی ہے ۔

کراچی میں پٹھانوں کا دنیا کی سب سے بڑی آبادی ہے اور وہاں بہت سی آبادیاں صرف پٹھانوں پر مشتمل ہیں ۔ اس شہر میں انہوں نے اپنی محنت اور مسقل مزاجی سے قدم جمالیے اور بعض شعبوں میں مکمل طور پر چھاگئے ہیں ۔ ظاہر ہے یہ ایک دوسرے کی مدد اور تعاون اور اپنے بھائی بندوں کو آگے بڑھانے کے جزبے سے ہی ممکن ہے ۔ اس سے بھی ان کی قبائیلی اور خاندانی عصبیت کی نفی ہوتی ہے ۔ اگرچہ ان کی یہ روش ماضی کی روشنی میں اور افغانستان کی حالیہ برسوں میں یعنی روسیوں کے جانے کے بعد ان میں اختلافات کی صورت حال اس کی نفی کرتی ہے ۔ یہ ان کی زندگی دو مختلف اور متضاد مگر عجیب و غریب پہلو ہیں ۔ جس ایک تفصیلی بحث کی ضرورت ہے ۔      

    افغانوں کے آبائی علاقے تعلیم و ہنر اور فنون لطیفہ سے دور رہے ہیں اور یہ زندگی کے معملات میں روایتوں اور آبا اجداد کی تقلید پر عمل پیرا رہے ہیں ۔ اگرچہ یہ بظاہر مذہب پر عمل کرتے ہیں لیکن تعلیم کی دوری کی وجہ سے انہوں نے اپنی زندگی اس کو عملی زندگی میں نہیں اپنایا بلکہ عملی زندگی میں روایتوں کی پیروی کی ہے ۔ یہ اگرچہ اپنے عقائد اور روایات کے خلاف کسی دلیل اور حقیقت کو تسلیم نہیں کرتے ہیں ۔ اس سے جہاں ان میں خود سری اور انفردیت آگئی ہے وہاں یہ اپنے ارد گرد کی قوموں سے جو ان سے کہیں زیادہ تعلیم یافتہ اور مہذب ہیں ذہنی طور پر متاثر رہے ہیں ۔ جس کو یہ بظاہر تسلیم نہیں کرتے ہیں اور ان میں ایک طرح کی احساس کمتری غالب آگئی ہے ۔ کیوں کہ ارد گرد کی قومیں ان سے زیادہ ترقی یافتہ تہذیب اور تعلیم یافتہ ہیں اور یہ حقیقت ہے کہ کمتر تہذیب ہمیشہ ترقی یافتہ تہذیب کی تقلید کرتی ہے اور بظاہر ترقی یافتہ تہذیب کو تسلیم کرنے کے بجائے اپنی روایتوں کا پرچار کریں لیکن لاشعوری طور پر اس کی تقلید کرتے ہیں ۔ کسی تہذیب یافتہ قوم کو شکست دی جاسکتی ہے لیکن اس کی تہذیب کو نہیں ۔ اس کی سب سے بڑی مثال منگولوں کی ہے جنہوں نے مسلم اقوام کو شکست دے دی مگر ان کی تہذیب کے ہاتھوں شکست کھا گئے اور اسے اپنانے پر مجبور ہوگئے اور دو ہی نسلوں کے بعد نہ صرف مسلم تہذیب کو اپنایا بلکہ مسلمان بھی ہوگئے ۔ ہمارے سامنے مثالیں موجود ہیں کہ برصغیر میں پٹھانوں کی آبادیاں قائم ہوئیں تو انہوں نے خود کو بڑی حد تک مقامی لوگوں سے دور رکھا ۔ لیکن بالا آخر وہ بھی مقامی تہذیب کے ہاتھوں شکست کھا گئے اور جلد ہی ان میں اور مقامی لوگوں میں کوئی فرق نہیں رہا ۔     

 یہی وجہ ہے جب پٹھانوں کا سامنا دوسری تہذیب یافتہ اقوام سے ہوتا ہے تو بظاہر دوسروں سے الگ تھلک رہتے ہیں مگر لاشعوری طور پر ان کی پیروی کرتے ہیں اور یہ اپنے آبائی علاقہ سے نکل کر یہ نہایت تحمل مزاج اور امن پسند ہوجاتے ہیں اور یہ دوسرے لوگوں میں گھلنے ملنے کی کوشش بھی کرتے ہیں ۔ یعنی ان میں حالات کے مطابق ڈھالنے کی صلاحیت حیرت انگیز ہے ۔ مجھے ایک پٹھان نے مسکراتے ہوئے کہا پاکستان میں دو چیزیں ہر مقام پر ملیں گے ۔ ایک گندے شاپر اور دوسرے پٹھان ۔ یہ بات اس نے یہ بات مزاق میں کہی تھی مگر اس میں پٹھانوں کی نشادہی کی ہے ۔

ترقی یافتہ تہذیب کو اپنانے کی خواہش کتنی شدید ہوتی ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جو لوگ اپنی بیٹیوں کو اپنے آبائی علاقے میں ولور کے بدلے شادی کرتے ہیں ۔ وہ دوسرے علاقے میں اپنی بیٹیوں کی شادی میں کسی قسم کی زبان و قومیت کو نہیں دیکھتے ہیں ۔ کراچی میں رہنے والوں کی شادیوں پر بیشتر رسومات مقامی ہوتی ہے ۔ مثلاً ولور نہیں لیا جاتا ہے اور لڑکیوں کو جہز بھی دیا جاتا ہے اور اپنے آبائی روایت کے برعکس ان کے اپنے بیٹی اور دامادوں سے بھی خوشگوار تعلقات بھی قائم رہتی ہیں ۔ جب کہ وہ اپنے آبائی علاقہ میں بیٹیوں کو ولور کے بدلے دینے کے بعد اپنی بیٹیوں سے کسی قسم کے تعلقات نہیں رکھتے ہیں ۔

اس بالاالذکر بحث سے یہ بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ پٹھاں اپنے آبائی علاقے میں روایت پرست اور خود سر واقع ہوتے ہیں لیکن وہ اپنے آبائی علاقہ سے باہر جب ان کا سامنا دوسرے لوگوں سے ہوتا ہے تو یہ حالات کے پیش نظر خود کو ڈھال لیتے ہیں اور امن پسند اور قانون کی پاسداری کرتے ہیں ۔ یہاں سوال اٹھتا ہے کہ وہ اپنے علاقہ باہر دوسرے لوگوں کے ساتھ ایسا کیوں کرتے ہیں ؟

یہ سوال میں نے ایک پٹھان سے کیا جو ہنس مکھ اور مہربان طبیعت کا اور ایک بینک میں گاڈ تھا ۔ اس نے جواب میں کہا اس کی وجہ ہمارا آبائی ماحول ہے ۔ ہم اپنے علاقہ میں زندگی کے کسی معاملے میں نرمی دیکھائیں یا کسی روایت پر عمل نہیں کریں تو لوگ ہمیں پھاڑ کھائیں ۔ کیوں کہ ہمارا ماحول ایسا ہے کہ شریف سے شریف آدمی بھی تند خو اور سخت ہونے پر مجبور ہے ۔ جب کہ یہاں کچھ بھی ہوجائے تا بات آگے نہیں بڑھتی ہے ۔ یہ بہت بڑی حقیقت ہے اور بارہا دیکھا گیا ہے کہ جب نوے کی ڈھائی میں کراچی کے فسادات میں پٹھان مارے گئے تو پٹھانوں نے بات کو آگے نہیں پڑھایا یا کسی قسم کی انتقامی کاروائیاں ۔ یعنی ان میں خود کو حالات کو ڈھالنے کی زبردست صلاحیت ہے ۔  

پٹھان اپنے آبائی علاقہ میں پشتون ولی پر عمل پیرا ہیں ۔ لیکن پشتون ولی مکمل لاحمہ عمل نہیں ہے بلکہ ساتھ ساتھ وہ دوسرے مقامی رسم و رواج اور رسوم پر عمل کرتے ہیں ۔ یہ بھی پشتون ولی کی طرح لازمی ہیں اور لوگ ان پر سختی سے عمل کرتے ہیں اور اسی طرح اپنا تحفظ کرتے ہیں ۔ اس لئے وہ علحیدہ علحیدہ گروہ کی صورت میں رہنے کی صورت میں مجبور تھے ۔ کیوں کہ دوسروں کے ساتھ رہنے کے لئے ضروری ہے کہ کسی بااثر شخص کی پناہ حاصل ہو ۔ علاوہ ازیں مختلف قبائلی گروہ کے اکٹھے رہنے پر ان کے مفادات جب آپس میں ٹکراتے ہیں تو اس کا نتیجہ خون و خرابہ کی شکل میں نکلتا ہے ۔ کیوں کہ ان کے علاقہ میں کوئی حکومتی نظم و ضبط نہیں ہے اور حکومتیں بھی وہاں کے معملات کو قبائلی ملکوں اور جرگہ کے ذریعہ کنٹرول کرتی ہے ۔

لیکن علحیدہ علحیدہ گروہ کی صورت میں رہنا ان کی فطرت نہیں ان کی مجبوری ہے ۔ اس کا ثبوت ہمیں بلوچستان کے افغان علاقہ میں ملتا ہے ۔ جہاں انگریزوں کے قبضہ کے وقت کوئٹہ کے علاوہ کوئی آبادی شہر تو در کنار قبضہ کہلانے کی بھی مستحق نہیں تھی ۔ مگر انگریزوں کے قبضہ کے بعد جب امن و امان کی صورت حال بہتر ہوئی تو لوگوں میں اکٹھے رہنے کا رجحان پیدا ہوا اور وہاں کئی شہر اور قبضے وجود میں آگئے ۔ شاید یہی وجہ ہے حالات اور ماحول بدلنے سے ان کی فطرت میں تبدیلی آجاتی ہے ۔ اس بات کو شیر شاہ سوری خوب سمجھتا تھا ۔ اس نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ اس کا بس چلے تو ان قوموں کو پنجاب کے دوآبہ میں بسا دوں تاکہ ان کی خصلت میں تبدیلی آئے ۔

پٹھانوں میں احساس برتری اس وقت سر اٹھاتا ہے جب ان کا سامنا کسی ہم قوم سے ہوتا ہے ۔ یہ حقیقت ہے انہوں نے نہ ہی اپنے وطن میں کبھی کسی شخصیت کو اس وقت تک تسلیم نہیں کیا جب تک اس نے انہیں خارجی معملات میں الجھایا کر نہیں رکھا ۔ انہوں نے کبھی اپنے وطن میں توارث کی عظمت کو تسلیم نہیں کیا ۔ احمد شاہ ابدالی جسے وہ احتراماً بابا پکارتے ہیں اس کے خاندان کی حکمرانی بھی صرف تین پشت رہی ۔ اس کے جانشین ہمشیہ عدم استحکام کا شکار رہے ۔ احمد شاہ درانی کے بیٹوں اور پوتوں کو قبائلی بغاوتوں کے علاوہ اپنے بھائیوں اور دوسرے عزیزوں کی سازشوں اور بغاوتوں کا سامنا کرنا پڑا ۔ خلجی سلطان جلاالدین فیروز خلجی کو اس کے بھتیجے اور داماد نے قتل کرکے تخت پر قبضہ کرلیا تھا ۔ بہلول لودھی نے افغانوں کو حکومت میں شریک کرنے کے بہانے قابو میں رکھا ۔ اس طرح اس کے بیٹے سکندر لودھی نے بھی اپنے فہم و فراست سے پٹھانوں امیروں کو قابو میں رکھا ۔ مگر اس کے بیٹے ابراہیم لودھی نے انہیں زیردست سمجھا ۔ لہذا پٹھان امیروں نے اس کے خلاف سازشیں کیں اور بابر کو حملے کی دعوت دی ۔ اس کے نتیجے میں لودھی حکومت کا خاتمہ ہوگیا ۔

شیر شاہ سوری نے اپنے فہم و فراست سے اور سازشوں کے ذریعے ایک اتالیق سے ترقی کرکے بہار و بنگال کی پشتون حکومتوں کو زیر کرلیا اور اپنی طاقت بڑھایا تھا ۔ ہمایوں شیر شاہ کی سرزش کے لئے بنگال پہنچا ۔ شیر شاہ جو علاقائی حکمران تھا اور اس قابل نہیں تھا کہ ہمایوں سے دو بدو جنگ کرسکے ۔ لہذا اس نے ہمایوں کو اپنی اطاعت کا یقین دلایا اور ہمایوں مطمین ہوگیا ۔ شیر شاہ سوری نے ہمایوں کی غفلت کا فائدہ اٹھایا اور اس کے لشکر پر شب خون مارا ۔ جس سے ہمایوں کے لشکر میں انتشار اور بھگڈر مچ گئی اور مغل حکومت کا بنیادی ڈھانچہ مسحکم نہ ہونے کی وجہ سے اور اپنے بھائیوں کی دغابازی کی وجہ سے ہمایوں کہیں رک نہ پایا اور نہ ہی لشکر فراہم ہوسکا ۔

گلبدم بیگم نے اس کا خوب نقشہ کھنچا ہے ۔ ہمایوں نامہ کی مترجم مسز انٹیٹے ایس بیورج نے اس کا خلاصہ کچھ یوں پیش کیا کہ ۱۵۳۳ء میں مرزاؤں نے اس کے خلاف بغاوت کی ۔ ۱۵۳۵ء میں گجرات میں اس کے مخالف چڑھ آئے اور ۱۵۳۷ء میں گجرات ہمایوں سے چھن گیا ۔ ہمایوں کی حکومت میں جو بدنظمی اس علاقہ میں پیدا ہوئی تو اس نے شیر شاہ سوری کو موقع دیا کہ وہ دن بہ دن اونچا اٹھتا چلاجائے ۔ بنگال میں ہمایوں نے شیر شاہ سوری کے خلاف جو فوجی کاروائیاں کی اس کا آغاز اچھا ہوا مگر اس کا انجام برا ہوا ۔ خود ہمایوں کے دربار کے لوگ اس کے ذاتی کردار سے خوش نہیں تھے ۔ اس وجہ سے ۱۵۳۵ء میں مرزا ہندال کو بر اقتدار لانے کی سازش کی گئی ۔ اس نے اپنی حماقت سے صورت حال کو بگاڑنے کی خاطر عملاً کئی مہینے کاروبار سلطنت سے علحیدیگی اختیار کیے رکھی ۔<br>شیر شاہ سوری کے براقتدار میں آنے کا بڑا سبب مغلوں کی داخلی کمزوری اور ہمایوں کی لاپروائی تھی ۔ اس کی حکومت کے مستحکم ہونے میں اس کی قائدانہ صلاحیتوں سے زیادہ حالات تھے جس کا اس نے فائدہ اٹھایا ۔ اس کا دور حکومت مختصر لیکن شاندار تھا اور یہ پورا دور جدو جہد کا تھا ۔ اس نے مغلوں کو غیر اور غاصب کہہ کر اپنے بھائی بندوں کو اکھٹا کرلیا ۔ مگر اس کی موت کے بعد ہی یہ طلسم ٹوٹ گیا ۔ ایک بار پھر اس کے بیٹوں کے درمیان میں تخت نشینی کی جنگوں کے علاوہ درباری سازشیں ابھر آئیں ۔ یہی وجہ ہے مغلوں کو دوبارہ ہند پر قبصہ کرنے میں کوئی دشواری پیش نہیں آئی ۔ 

بالاالذکر ہوچکا ہے کہ انہیں استحکام کے لئے خارجی پشت پناہی کی صرورت ہوتی ہے ۔ ہمارے سامنے اس کی مثالیں بہلول لودھی ، شیر شاہ سوری اور احمد شاہ ابدالی ہیں ۔ بہلول لودھی نے انہیں حکومت میں شریک کرنے کے نام سے ، شیر شاہ سوری نے انہیں مغلوں سے نجات کے نام پر اور احمد شاہ ابدالی نے انہیں ایرانی حکومت سے آزادی اور افغانستان کے قیام کے لئے اپنے گرد اکٹھا کیا ۔ مگر ان کے جانشین انہیں کسی خارجی امور پر متوجہ کرنے میں ناکام رہے اور انہیں اس کا نتیجہ بھگتنا پڑا ۔

خارجی پشت پناہی کی اہم مثالیں ان کے قبائلی علاقہ کے ممبران قومی اسمبلی کی ہیں جو ہمیشہ حکومتی اراکین کے ساتھ ہوتے ہیں ۔ چاہے انہوں نے کسی بھی محرکات کی بناء پر اسمبلی کا الیکش جیتا ہو ۔ مگر وہ ہر گز اپوزیشن میں نہیں بیٹھتے ہیں ۔ چاہے حکومت کسی کی بھی ہو اور ان کی پالیسیاں چاہے کیسی ہی ہوں مگر وہ ہمیشہ حزب اقتدار کے ساتھ ہوتے ہیں ۔

افغانستان جہاں پشتو بولنے والوں کی اکثریت ہے اور وہاں کی تاریخ ہمارے سامنے ہے ۔ وہاں کی حکومتیں ہمشیہ بغاوتوں اور سازشوں کی بناء پر عدم استحکام کا شکار رہی ہیں اور افغانستان کی سالمیت محض اس لئے قائم رہی ہے کہ برطانیہ برصغیر پر قبضہ کرچکا تھا اور روس ترکستان کے علاقہ پر اور ان دونوں کو درمیان انہیں ایک بفر زون کی ضرورت تھی ۔ اور یہی وجہ افغانستان کو قائم رکھنے کا سبب بنی رہی۔

افغانستان کی تاریخ سے بخوبی واضح ہوتا ہے کہ داخلی استحکام کے لئے خارجی امور کا سہارا لیا جاتا رہا ہے ۔ بد قسمتی سے اس پالیسی نے ملک کو نقصان پہنچایا اور ملک ترقی اور تعلیم کے اعلیٰ مدارج طہ نہ کرسکا ۔ مگر مجبوری یہ تھی کہ خارجی عوامل کا سہارا نہ لینے والی حکومتیں داخلی عدم استحکام کا شکار ہوگئیں ۔ جب کہ افغانستان کے داخلی معملات میں برطانیہ اور روس کی ریشہ کاروائیاں جاری رہیں ۔ جس سے یہ ملک مزید عدم استحکام کا شکار بنا رہا ۔ خوش قسمتی سے افغانستان کی سا لمیت کو قائم رکھنا ان طاقتوں کی مجبوری تھی ۔ یہی وجہ ہے افغانستان کا وجود قائم رہا ۔

تہذیب و تدوین عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں