68

افغان

افغان کے لغوی معنی افغانستان میں رہنے والے کے ہیں ۔ عموماً پشتو بولنے والے قبائل کے لئے استعمال ہوتی ہے ۔ بعض اوقات پٹھانوں اور افغانوں کے درمیان امتیاز کیا جاتا ہے ۔ افغان کی اصطلاح درانیوں اور ان متعلقہ قبائل کے لیے استعمال ہوتی ہے لیکن یہ محض نام کا فرق ہے ۔ یعنی ایرانی نام افغان قدرتی طور پر مغربی قبائل کے لئے استعمال ہوتا ہے اور پٹھان کا اطلاق جو مقامی نام کی بدلی ہوئی ہندی شکل ہے کا اطلاق مشرقی قبائل پر کیا جاتا ہے ۔

پشتون مورخین کا دعویٰ ہے کہ افغان جلا الوطن یہود نسل سے ہیں ۔ ان کے مطابق طالوت کے مرنے کے بعد اس کی دو حرموں سے دو بیٹے پیدا ہوئے ۔ حضرت داؤد نے ایک کا نام برخیا اور دوسرے کا نام ارمیا رکھا تھا ۔ آصف برخیا کا فرزند تھا ۔ جب کہ ارمیا کے بیٹے کا نام افغنہ تھا ۔ عہد عتیق کی کتابوں کے تراجم میں آصف کا نام اصاف اور افغنہ کا ترجمہ افگنہ کیا گیا ہے ۔ افغنہ سے افغان بن گیا اور افغان کے تمام نجیب قبیلے اسی افغنہ کی نسل سے ہیں ۔ جب بخت نصر نے انہیں شام سے نکالا تو بنی اسرائیل و بنی افغان غور کے نواحی پہاڑوں میں آباد ہوگئے ۔ ان میں سے ایک گروہ عرب میں آباد ہوگیا ۔ عرب کے لوگ انہیں بنی اسرائیل و افغان کہتے تھے ۔

اس طرح کے دعویٰ جو بے سروپا اور منتشر ہیں اور ان کی تاریخی ماخذ سے تصدیق نہیں ہوتی ہے اور ان سے مزید الجھنیں پیدا ہوتی ہیں ۔ یہی وجہ ہے بعض لوگوں نے انہیں یہود نسل مانتے ہوئے دوسری تاویلات پیش کیں ہیں ۔ مثلاً روشن خان کا کہنا ہے کہ جو قیدی بخت نصر یروشلم سے لایا تھا یہ ابتدا میں موسیان اور سلیمانان کے نام سے یاد کرتے تھے اور کچھ مدت کے بعد یہ افغان کے نام سے موسوم ہوئے ۔ جب یہ لوگ خراسان پہنچے تو افغان کے نام سے یاد کیا جاتا تھا ۔ اوغان اور عبرانی لفظ ’اب‘ جو اعزازی اور تعظیمی اسم ہے سے نکلا ہے ۔ یہ لفظ ’اب‘ مقرر بہادر اور نامور کے لئے بنی افغان میں استعمال ہوتا تھا ۔ مثلاً یواب ، اب یشے اور اخی اب وغیرہ ۔ دمشق کے ایک دریا کا نام ابانا جس کا قدیمی نام مہروی تھا ۔ بنی اسرائیل میں بہت سے نامور و منفرد لوگ تھے جن کے ناموں میں اب اعزاز کے طور پر شامل کیا گیا ۔ اگرچہ یہ لفظ اب منفرد ہے لیکن جلاالوطنی کے بعد دوسرے ملکوں خاص ایرانیوں جمع کے لئے یوں استعمال کیا ، ابان ، اباکان ، اب گان ، اب غان اور آخر میں عربی طرز پر افغان استعمال ہوا ہے ۔

روشن خان کے بیانات سے اس دعویٰ کی تردید ہوتی ہے کہ افغانوں کے مورث اعلیٰ کا نام افغنہ تھا ۔ مگر روشن خان نے کلمہ اب کے بارے میں جو جواز پیش کیا ہے وہ بھی غلط ہے ۔ عہد نامہ عتیق سے کہیں بھی پتہ نہیں چلتا ہے کہ یہ کلمہ اعزازی اور تعظیمی کلمہ ہے ۔ اگرچہ یہ ناموں میں استعمال ہوا ہے لیکن کہیں بھی یہ بطور اعزاز کے استعمال نہیں ہوا ہے ۔ بھر روشن خان کا کہنا ہے کہ یہ پہلے موسیان اور سلیمانان کہلاتے تھے اور ہم تھوڑی دیر کے لئے فرض کرلیں کہ روشن خان کی بات درست ہے تو کیا وجہ تھی انہیں ابان کے تعظیمی کلمہ سے پکارا گیا ۔ جب کہ بنی اسرائیل غلام بن کر آئے تھے ۔ ظاہر ہے یہ تمام دلائل تاریخ سے ماخذ ہی نہیں ہیں ۔ بابل میں جلاالوطن ہونے والے یہود شمار گمشدہ قبائیل میں نہیں ہوتا ہے ۔ لہذا اس پر تفصیلی بحث کی ضرورت ہے ۔

سب سے پرانی شہادت ایک ایرانی کتبہ میں جو تیسری صدی عیسوی کا ہے ۔ یہ کلمہ ابگان کی صورت میں ملتا ہے ۔ پرفیسر احمد دانی کا کہنا ہے کہ کلمہ افغان ، اوگان یا اباگان تیسری صدی عیسویں (عہد ساسانی) اور چھٹی صدی عیسویں میں ملتا ہے ۔ ایرانیوں نے یہ کلمہ افغان استعمال کرنا شروع کیا جو آج تک مروج ہے ۔

ہندی ہیت دان ورمہ مہرہ کی کتاب برہت سیمتہ میں یہ کلمہ اوگانہ کی شکل میں آیا ہے ۔ اس کے کچھ عرصہ کے بعد چینی سیاح ہیوانگ سانگ کی سوانح حیات میں یہ کلمہ ایپوکین (اوگن) کی شکل میں ملتا ہے جو کوہستان کے شمال میں آباد تھے ۔ فریدون کے زمانے میں ایک مشہور اور نامور پہلوان اوگان تھا اور بہادر و دلیر لوگوں کو اس نام سے تشبیہ دی جاتی تھی ۔ فردوسی نے اپنے شاہنامہ میں مشہور بہادروںکو اوگان سے تشبیہ دی ہے ۔ فردوسی نے یہ کلمہ اوغان کی دیا ہے ۔ ابن بطوطہ ان کا ذکر الافغان کے نام سے کرتا ہے ۔ تیمور اپنی تزک میں اوغانیوں کا ذکر کیا ہے کہ جب وہ بدخشان سے واپس آرہاتھا ۔ قلعہ ایری کے سردار شاہ اغوان کو قبیلہ کرکس کے سردار موسیٰ خان اوغان نے حملہ کرکے قتل کرڈالا ۔ جس پر تیمور نے اپنی فراست سے قابو پالیا ۔

قدیم ایران کے ہخامنشی خاندان کے بادشاہ دارا اول (چھْی صدی عیسوی) نے کتبہ نقش رستم میں خود کو ایرانی کا بیٹا اور آریا کی اولاد سے موسوم کیا ہے ۔ اس کتبہ میں آریہ کا تلفظ ’اُرِئی‘ آیا ہے ۔ یہی وجہ ہے ابتدا میں میرا گمان تھا کہ اس کلمہ کا تلفظ افغانستان کے علاقہ میں ’اُرِی‘ ہوگا اور اس میں غان نسبتی کلمہ لگ کر اوری غان ہوگیا اور کثرت تکرار سے ر خارج ہوگیا ۔ اس طرح یہ کلمہ اوغان بن گیا ۔ اس طرح یہ کلمہ اوغان بن گیا جو کہ افغان کے لئے ابتدا میں استعمال ہوتا تھا ۔ مگر میں ترکوں کے مطالع سے اس نتیجے پر پہنچا کہ ایسا ہونا یقینی نہیں ہے اور کلمہ اوغان اوغہ سے نکلا ہے ۔ جس کی ’گ‘ اور ’غ‘ سے مختلف شکلیں ہیں ۔

حدود العالم میں ہے کہ ننہار (ننگر ہار) موجودہ جلال آباد کا بادشاہ اپنے کو مسلمان کہتا ہے اور تیس بیویاں رکھتا ہے ، جو کہ مسلمان ، افغان اور ہندو ہیں ۔ اس فقرے میں مسلمان اور افغان کی تفریق معنی خیز ہے ۔ اس جملہ سے واضح ہوتا ہے کہ افغان مسلمانوں سے ہٹ کر ایک علحیدہ قومیت اور مذہب رکھتے تھے ۔

نوشیروان نے ہنوں کے خلاف ترکوں سے مدد لی تھی اور ان کی مدد سے ہنوں کو شکست دی  تھی ۔ مگر جلد ہی افغانستان پر ترک چھاگئے ۔ کتاب الاغانی کے مطابق رود گرگان کے ترکوں نے ایرانیوں کی زبان و مذہب اختیار کر چکے تھے ۔ وہ ساسانیوںکے زمانے میں غالباََ چھٹی صدی عیسوی میں ترک اس علاقہ کو فتح کرچکے ہوں گے ۔

 جو ترک قبائل بلاد اسلام کے قریبی ہمسائے تھے ۔ ان میں ایک قبیلہ غز تھا ۔ جسے اغوز بھی پکارا جاتا تھا اور اسی نسبت سے بلاد اسلام میں ترکی النسل قبائل کو اغوز کہا جاتا تھا ۔ اغوز یا غز قبیلے نے دوسرے ترک قبائل کے ساتھ غالباً چوتھی اور پانچویں صدی ہجری درمیان اسلام قبول کرلیا تھا ۔ (دیکھے ترک)

بعض تاریخوں جو افغانستان اور ایران پر چنگیز خان کے حملوں کے بعد لکھی گئیں ہیں ان میں افغان اور ایک دوسری قوم جرما کا افغانوں کے ساتھ ذکر ہے اور مغلوں کے ساتھ خلط ملط ہیں ۔ ایک قدیم کتاب محمود کتہی کی کتاب تاریخ آل مظفر جو کہ قلمی نسخوں میں حمد اللہ قزونی کی تاریخ گزیدہ کے ساتھ نقل ہوا ہے اور تاریخ گذیدہ کے ایک حصہ کے طور پر مانا جاتا ہے ۔ اس میں افغانوں اور مغلوں کو بالکل ایک ساتھ مکس کیا ہے اور بہت دفعہ ایک ہی سمجھے گئے ہیں ۔ مثلاً عماوالدین محمود نے دارا بجر کے علاقہ میں ہر طائفے کے سپاہیوں اکٹھا کیا اور اوغانی اور جرمای مغلوں کو دعوت دی ۔ دوسری جگہ لکھا ہے کہ جب اوغانیان اور رمائینان روانہ ہونے والے تھے تو روزیوں نے وہ بھی مغل اور کرمان کے گرمیسر اور سروسیر میں آباد ہیں ۔ ان کے پڑوسی ہیں کبھی اپنے اخلاس کو نہیں چھپایا اس لیے وہ محفوظ رہے گئے ۔ آخر میں لکھا ہے کہ اوغانیان اور مغلوں کے رواج کے مطابق اس کی پرستش کرتے اور بتوں کے نام پر قربانیاں دیتے ہیں ۔

غالب امکان یہی ہے کہ افغانستان میں رہنے والے ترک قبائل جنہیں اوغوز (جمع کے صعیفہ میں) اور فرد واحد کو اوغہ پکارا جاتا تھا ۔ یہ اوغہ رفتہ رفتہ ان قبائل کو کہا جانے جنہوں نے مقامی ثقافت ، زبان اور مذہب اختیار کرلیا تھا ۔ یہ کلمہ اوغہ جس کی جمع اوغان تھی رفتہ رفتہ تمام قبائل کو کہا جانے لگا اور لوگ بھول گئے کہ یہ ترک نژاد قبائل کے لئے یہ کلمہ استعمال ہوتا تھا ۔ یہی وجہ ہے تمام پشتو پولنے والے قبائل کو افغان بولا جاتا ہے ۔ جب کہ قدیم قبائل ان سے اپنا ایک الگ نسلی تشخص بتا تے ہیں ۔ اگرچہ یہ تفریق منشر اور الجھی ہوئی ہے ۔ آج بھی ہزارہ قبائل پٹھانوں کو اوغہ کہتے ہی ۔

ایران میں گان کا کلمہ اکثر نسبت کے لئے استعمال ہوا ہے ۔ مثلاً گرگان ۔ جب کہ افغانستان میں نسبت کے لئے یہ کلمہ غان آیا ہے ۔ یہ شہروں اور علاقوں کے ناموں میں عام استعمال ہوا ہے ۔ مثلاً لمغان ، شبرغان ، پغان ، دامغان اور کاغان وغیرہ ۔ اس طرح یہ کلمہ اوغہ + غان = اوغان ہوگیا اور یہ اوغان رفتہ رفتہ افغان ہوگیا کیوں کہ اکژ زبانوں میں ’و ‘ ’ف ‘ سے بدل جاتا ہے ۔

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں