67

اقبال اور اندلس کی میراث

یوم اقبال کی مناسبت سے میں نے یہ سوچا کہ اقبال پر لکھی ہوئی کسی کتاب کا تعارف و تبصرہ کیا جائے ۔ اقبال پر کتابیں لکھنے کا سلسلہ ان کی زندگی میں ہی شروع ہوگیا ہوگیا تھا اور یہ سلسلہ اب تک مسلسل جاری ہے ۔ لہذا اقبال پر لکھی گئی کتابوں کی کمی نہیں ہے ۔ اب تک اقبال پر بلا مبالغہ مختلف زبانوں میں سیکڑوں کتابیں لکھی جاچکی ہیں اور ہر کتاب ایک سے بڑھ کر ایک ہے ۔ لہذا اقبال پر لکھی گئی کسی کتاب کو منتخب کرنا میرے لیے آسان نہیں تھا ۔ میری خواہش تھی کہ تبصرہ اور تعارف کے لیے ایسی کتاب کو منتخب کروں جو دوسری کتابوں سے الگ اور منفرد ہو ۔ اسی تلاش اور جستجو میں میرے ہاتھ پروفیسر مظفر حسین کی وارئچ کی کتاب ’اقبال اور اندلس کی اسلامی میراث‘ ہاتھ لگی اور مجھے یہ کتاب اقبال پر لکھی گئی دوسرے کتابوں سے منفرد الگ نظر آئی ۔ اس کتاب میں پروفیسر صاحب نے اقبال کے کلام اور ارشادات پر اس خوبی سے تشریح و تفہیم پیش کیں کہ کلام اقبال اور ان کے خطبات کے بہت سے چھپے ہوئے گوشوں کے محاسن منظر عام پر آگئے ۔ لہذا تعارف اور تبصرے کے لیے اس کتاب کو منتخب کیا ۔
اس کتاب میں پروفیسر صاحب نے اقبال کے اندلس کے بارے میں احساسات جو کہ ان کے کلام میں نمایاں ہیں کو پیش نظر رکھ کر ان کے جذبات و حساسات کی بڑی خوبصورت تفہیم کی ہے ۔ بلاشبہ کتاب پڑھ کر پرفیسر صاحب کی تحقیق اور عرق ریزی کی جو داد دی جاسکتی ہے کہ اس کا اندازہ کتاب پڑھ کر ہی کیا جاسکتا ہے ۔ اس کتاب میں اقبال پر لکھی گئی دوسری کتابوں کی طرح ان کے کلام اور فلسفہ کی تشریح و تفہیم نہیں کی گئی ہے جیسا کہ اقبال کے دوسرے شارحین نے کی ہے بلکہ اس کتاب میں اقبال نے اندلس کے حوالے سے جو کچھ بھی نظم و نثر میں کہا ہے اس کی وجوہ پروفیسر صاحب نے پیش کیں ہیں ۔ اس کتاب کو پڑھنے سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اقبال نے اندلس کے حوالے سے اتنا کچھ کیوں کہا ہے یا اسے اتنی زیادہ اہمیت کیوں دی ہے ؟ اور اس کے مطالہ سے قاری کو مسلمانوں ذوال کا سبب اور یورپ کی ترقی وجوہات کا بخوبی اندازہ ہوتا ۔
اقبال مسلمانوں عہد ذوال میں پیدا ہوئے تھے اور ان کی زندگی میں مسلمان پوری دنیا میں پستی و کسم پرسی کی حالت میں تھے اور اقبال نے اندلس کے بارے جو کچھ کہا ہے اس سے اقبال کا ہر شیدائی واقف ہے ۔ مگر اقبال نے کسی اور علاقہ سے زیادہ ہی اندلس کو اہمیت دی ہے اور اس کا نوحہ لکھا ہے ۔ اقبال نے اگر اندلس کا ماتم کیا تو غلط نہیں کیا ہے ۔ اس کی بنیادی وجہ یہ نہیں تھی کہ اس علاقہ پر مسلمانوں نے حکومت کی تھی بلکہ ان کو اس کا ادراک ہوگیا تھا کہ کہ اندلس کے ذوال وجوہ ہی مسلمانوں ذوال و پستی کی وجوہات ہیں ۔ یہ ایک بہت بڑی حقیت ہے ہے اور اس حقیقت سے بہت کم مسلمان آشنا ہوئے ۔ اس لیے اقبال جب یورپ گئے تو خاص طور پر اندلس بھی گئے اور وہاں مسلمانوں عہد گزشتہ کا خود مشاہدہ کیا کہ وہ سرزمین جہاں مسلمانوں نے آٹھ سو سال تک حکومت کی اور وہاں سے علم کے وہ سوتے ابھرے جس نے یورپ کو علم و ترقی سے روشناس کرایا ۔ جس زمانے میں پیرس اور لندن کی سڑکیں کیچڑ سے لتھری ہوتی تھیں اس وقت اندلس کی صاف و شفاف سڑکیں جو رات کو چراغوں سے روشن ہوتی تھیں ۔ وہاں کی جامعات میں تمام یورپ سے لوگ تعلیم حاصل کرنے آتے اور انہوں نے واپس جاکر یورپ میں علم کی شمع روشن کی اور یورپ ترقی پر ڈالا ۔ یہی درد ہے جو اقبال کی نظموں میں اور خطبات میں جگہ جگہ دیکھائی دیتا ہے ۔ یہ وہی احساسات اور کرب تھا جس کو اقبال جگہ جگہ بیان کیا ہے ۔ لہذا پروفیسر صاحب نے اس کتاب میں اندلس کو اقبال کی نگاہ سے مسلمانوں کے ذوال کو دیکھا ہے اور اس کو پھر پور اور خوبصورت انداز میں پیش کیا ہے کہ اقبال کے نذدیک اندلس کے ذوال مسلمانوں کا ذوال تھا اور اقبال ایسا کیوں سمجھتے تھے ۔
پروفیسر صاحب نے اس کتاب میں اندلس کی مختصر مگر جامع تاریخ لکھی ہے ۔ اس میں مسلمانوں کے نفوذ سے لے کر ان کے ذوال کی داستان ہے اور اس کے علاوہ اندلس تاریخ ہی نہیں بلکہ وہاں کے مختلف علوم کے علاوہ نسلی و لسانی اثرات پر بھی روشنی ڈالی ہے ۔ اہم بات یہ ہے اس کتاب میں ذوال اندلس کے بعد مسلمانوں کی نو آبادیاں جو یورپ کے مختلف علاقوں میں قائم رہیں اور اٹھاویں صدی تک آباد رہیں ان کے بارے میں نہایت قابل قدر معلومات سے روشناس کرایا ہے ۔
اندلس کے ذوال کے بارے میں ہر دور میں عربی شعرا نے مرثیہ لکھے ہیں ۔ پروفیسر صاحب کا ان بھی ذکر اس لیے کیا کہ اس سے اندلس کے مسلمانوں کی بے بسی اور دوسرے مسلم حکومتوں کی بے حسی ہمارے سامنے آتی ہے ۔ یہی نہیں بلکہ پرفیسر صاھب نے اندلس کے مسلمانوں کے علمی سرگرمیوں فلسفہ پر روشنی ڈالی ہے کہ اس نے آئندہ کے یورپ پر کیا اثرات ڈالے کہ انہوں نے یونانی فلسفہ کے تصورات کا خاتمہ کیا ۔ جس سے یورپ میں عملی سائنس نے فروق پایا اور اس کے ثمرات سے یورپ مستفید ہوئے اور ایک نئی جدید تہذیب کی بنیاد رکھی گئی ۔ جب اندلس اپنے عروج پر تھا اور وہاں کی علمی فضاء ایسی تھی کہ یورپ میں کہا جاتا تھا کہ علم حاصل کرنا ہے تو عربی سکھو ۔ یورپ بھر سے لوگ طب ، فلکیات ، ریاضی اور دوسرے علوم سیکھنے کے لیے عالم فاضل اندلس کا رخ کرتے تھے ۔ یہی وجہ یورپی دانشوروں نے اعتراف کیا کہ دور جدید کی سائنسی ترقی کے موجد عرب ہیں ۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یورپ کی یونیورسٹیاں صدیوں تک عربوں کی لکھی گئی کتب بطور نصاب استعمال ہوتی رہی ہیں ۔ اور تو اور ان یونیور سٹیوں میں عربی لازمی زبان کے طور پر رائج رہی ہے ۔ یورپ کے بہت سے مشہور سائنس دانوں جن کے نام سے مختلف نظریات منسوب ہیںوہ دراصل اندلس کے مسلمانوں کے نظریات ہیں ۔ مختلف لوگوں نے جب عربی کتابوں کو اپنے نام سے ترجمہ کے بجائے اپنی تالیف بتایا تو وہ نظریات ان کے نام سے منسوب ہوگئے ۔ حلانکہ کے وہ اندلسی مسلمانوں کے نظریات تھے ۔ پروفیسر صاحب نے انہیں اجاگر کرنے کے ساتھ یہ بھی بتایا کہ یورپی دانشورں کی باوجود کہ انہوں نے عربوں سے اکتساب حاصل کیا ، مگر انہوں نے عربی علوم سے انصاف سے کام نہیں لیا ہے ۔ اقبال نے مختلف حوالوں سے اندلس کی عظیم شخصیات کا تذکرہ کیا ہے ، پروفیسر صاحب ان شخصیات کی مختصر سوانح عمری پیش کی اور ان کے کارناموں کو اجاگر کیا ہے ۔ اس طرح اس کتاب کی اہمیت بہت بڑھ گئی ہے اور ہمارے سامنے وہ تصویر سامنے آتی ہے کہ اقبال نے اندلس کو اتنی زیادہ اہمیت کیوں دی ہے ۔
اقبال کی اندلس سے انسیت و اہمیت اقبال کے شیدائیوں کے لیے کوئی بات نئی نہیں ہے ۔ مگر شاید وہ یہ نہیں جانتے ہیں کہ اقبال کو مسلمانوں کے ذوال کے بارے میں یہ احساس تھا کہ مسلمانوں کے ذوال کی وجہ ان میں علمی انحطاط ہے اور اس کا اظہار انہوں نے اپنی نظموں میں بھی کیا ہے ۔ اقبال اندلس کے ذوال کو عام لوگوں کی طرح نہیں دیکھتے تھے ۔ ان کی بصیرت نے دیکھ لیا تھا کہ اندلس و مسلمانوں کے ذوال کی وجہ کیا تھا تھی ۔ ان کی نگاہوں میں مسلمانوں کی علمی سرگرمیاں تھیں اور یہ ان کے عروج کا سبب تھا اور ان کے ذوال کا سبب علمی سرگرمیوں سے دوری ، تصوف و وحدت الوجود اور تقدیر پر ایمان تھا ۔ اندلس اس کی عمدہ شاندار مثال تھی ، جس کا ماضی شاندار ماضی تھا اور اس کے ذوال کے وجوہات ان کی علم سے دوری تھی اور اندلس اقبال کے نذدیک مسلمانوں کے عروج و ذوال کا پیمانہ تھا ۔ اندلس اس لحاظ سے بھی اہم تھا کہ اس پر مسلمانوں نے آٹھ سو سال حکومت کی اور یہاں سے مسلمانوں کا نام و نشان تک مٹا دیا گیا ۔ یہی وجہ ہے اقبال کے اندلس نوحہ ہی نہیں لکھا بلکہ انہوں نے مسلمانوں کو یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ مسلمانوں نے عروج کیسے حاصل کیا اور انہیں ذوال کیوں نصیب ہوا ۔
یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے ۔ یہ سب باتیں اقبال کے عام و فہم انداز میں کیوں نہیں کہیں ، بلکہ کچھ اشعار کی شکل میں اور کچھ خطابات کی شکل میں جو عام لوگوں فہم سے بالاتر تھے اور ان کے کیوں تشریح اور تفہیم کی ضرورت پیش آتی ہے ؟
اقبال کوئی عام آدمی نہیں تھے ۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے وہ مسلمانوں کے ایک بڑے لیڈر تھے اور انہیں زندگی میں ہی مقبولیت حاصل ہوگئی تھی ۔ مگر ہمیں نہیں بھولنا چاہیے کہ اقبال ایک شاعر اور فلسفی تھے جتنے بڑے شاعر یا فلسفہ تھے اتنے بڑے لیڈر نہیں تھے ۔ اس لیے اقبال نہ ہی عام لوگوں کی طرح باتیں کرتے تھے نہ ان کی طرح ان کی سوچ سطحی نہیں ہوتی تھی ۔ لہذا ان کی نگاہ کی بلندی اور بصیرت وہ کچھ دیکھتی تھی جسے بہت کم لوگ دیکھ پاتے ہیں ۔ لہذا ان کی نظروں میں جو عمیق و گہرائی تھی اس کو پیش کرنا آسان نہیں ہے اور اس کی تشریح تفہیم وہ خود کرتے تو ایک ایک نقطہ اتنی وسعت رکھتا ہے کہ اس کے لیے ایک زندگی ناکافی ہوتی ہے اور اس طرح اقبال چند نکات میں کھو کر رہ جاتے ۔ یہی وجہ ہے اقبال تشریح و تفہیم سے گریز کیا اور اس کام کو آنے والی نسلوں پر چھوڑ دیا ۔ پروفیسر صاحب نے اقبال کے اس نقطہ اقبال کو خوبصورت انداز میں پیش کیا ۔ اس کے لیے پروفیسر صاحب کو جتنی بھی داد دی جائے وہ کم ہے ۔
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں