188

اقبال اور سرقہ

اگر ہم اقبال پر الزام لگائیں کہ انہوں نے سرقہ کیا ہے تو دنیا میں کوئی بھی تحریر ایسی نہیں ہے کسی نہ کسی سے متاثر ہوکر پیروی میں یا اختلاف سے وجود میں آئی ہو ۔ اس میں ادب اور فلسفہ بھی شامل ہیں اور جب کوئی زبان بولی سے زبان بنتی ہے تو اس کا ابتدائی ادب نقالی پر مشتمل ہوتا ہے ۔ اس سے فائدہ یہ ہوتا زبانوں کو جو ارتقا صدیوں میں طہ کرنا ہوتا ہے وہ دھائیوں میں طہ ہوجاتا ہے اور یہ عمل ہر زبان میں جاری رہا ، روبن کراسو کے بارے میں کہا جاتا ہے وہ ابن طفیل کی حئ بن یقان سے متاثر ہوکر لکھی گئی ۔ اردو کے ابتدائی شعرا کا کلام فارسی شعرا کی نقالی اورفارسی عربی کی نقالی اور یہ سلسلہ جاری رہتا ہے ۔ فلسفہ میں بھی نقالی اور پیروی کا عمل جاری رہا اور ہر دبستان اپنے پیشرو کی پیروی یا اختلاف سے وجود میں آتا ہے ۔ کیا اردو میں آگ کا دریا کیا سرشار کی پیروی نہیں ہے ۔ جب کہ فسانہ آزاد طلسم ہوش ربا کی پیروی ہے اور آگ کے دریا کی پیروی اداس نسلیں ہیں اور یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے ۔ اقبال سے اختلاف کیا جاسکتا ۔ مگر یہاں سوال یہ ہے اقبال ان افکار کو پیش نہیں کرتے تو ہم کیسے روشناس ہوتے ۔ کسی زبان میں نقالی نقالی سے خالی نہیں ۔ اگر اقبال نے انہیں پیش کیا ہے تو اس سے زبان میں ترقی اور نئے افکار سے ہم روشناس ہوئے اور مزید جستجو کرکے اس قابل ہوئے کہ اقبال سے اختلاف کرسکیں ۔
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں