60

الگزینڈر ہیڈلی آزاد

اردو کے مشہور یورپی شاعر اور غالب کے شاگر

الگزینڈر ہیڈلی نام اور آزاد تخلص تھا ۔ باپ کا نام جیمس ہیڈلی تھا اور ان کے خاندانی حالات کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں ہوسکیں ۔ ان کے والد انیسویں صدی دہلی آئے تھے اور ایک مسلمان عورت سے شادی کی تھی ۔ جس کی وجہ سے ہندستانی معاشرت اختیار کی ۔ اس لیے آزاد کی پرورش اسلامی طرز پر ہوئی اور مقامی صحبت میں ان میں شعر و سخن کا ذوق پیدا ہوا اور کچھ فطرتاً بھی انہیں شاعری کا مزاق رکھتے تھے ۔ اس لیے اٹھارہ برس کی عمر میں شعر کہنے لگے ۔ جلد ہی ان کی کلام کی شہرت ہوگئی ۔ آزاد نے نواب زین العابدین عارف دہلوی کے شاگرد تھے اور کبھی کبھی مرزا غالب سے بھی خطوط کے ذریعہ اصلاح لیتے تھے ۔ آزاد نے اپنے استاد عارف کی تعریف میں ایک قصیدہ اوران کی وفات پر ایک مرثیہ معہ تاریخ وفات لکھا ۔ جو ان کے دیوان میں موجود ہے ۔

آزاد کو فن طب میں عبور حاصل تھا اور خصوصاً پرانے امراض میں ان کی شہرت تھی ۔ آزاد کے بارے میں مشہور تھا کہ یہ مریضوں کو دوائیں مفت دیا کرتے تھے ۔ اس فیاضی کے نتیجے میں ان کا تمام سرمایا ختم ہوگیا تو مجبوراً ملازمت کرنی پڑی اور انہوں نے ریاست الور میں توپ خانہ کے کپتان کے طور پر ملازمت کرلی ۔ لیکن اس ملازمیت کے ایک سال بعد ہی ۲۷ جولائی ۱۸۶۱ء میں آزاد نے بتیس سال کی عمر میں انتقال کیا ۔ اس طرح ان کا سن ولادت 1829ء بنتا ہے ۔

آزاد فطرتاً شاعری کا ذوق اور ہمہ گیر طبعیت رکھتے تھے اس لیے انہوں نے ہر صنف کلام پر خوب طبع آزمائی کی ۔ آپ کے کلام مضامین کی لطافت ، الفاظ کی تلاش اور محاورات ترکیبیں قابل داد ہیں ۔ آپ نے نئے اسلوب پر تشبہیں اور استعارے استعمال کئے ہیں ۔ ان کی زبان بالکل صاف اور روانی بیان پختہ کار شاعر ہونے کی دلیل ہے ۔ آزاد کبھی کبھی آزاد کے علاوہ الک تخلص استعمال کرتے تھے ۔ جو غالباً الکزینڈر کا مخفف ہے ۔ نواب سرور المک کا کہنا ہے کہ آزاد نے غذر کے بعد اسلام قبول کرلیا تھا اور انہوں نے اپنا نام جان محمد رکھا تھا ۔

آزاد کے بڑے بھائی تھامس ہیڈرلی نے آزاد کے دوست میر شوکت علی فتحپوری کی مدد سے آزاد کا کلام جمع کرکے ان کا دیوان ترتیب دیا اور 1829ء میں آگرہ سے شائع کیا ۔ آزاد کے بھائی تھامس ہیڈرلی بھی اردو کے اچھے انشا پرواز تھے اور انہوں نے ہی دیوان کا دیباچہ لکھا ۔ جب کہ فارسی کا دیباچہ شوکت علی نے لکھا ۔ اس دیوان میں قصائد ، غزلیات ، منظوم خطوط ، تاریخی قطعات اور تضمین ہیں ۔

نمونہ کلام یہ

زہے وحدت وہی دیر حرم میں جلوہ آرہ ہے

ازل سے محو ہوں جس کے جمال حیرت افزا کا

میری صورت سب کہے دیتی ہے ہے میرا رزا دل

میرے تیور دیکھ کر وہ مجھ بدظن ہوگیا

سوزش دل نے الہی کونسی کی تھی کمی

جلانے کو میرے داغ جگر پیدا ہوا

تمام عمر رہا سبھوں سے بیگانہ

رہا میں اس پہ بھی غربت میں گو وطن میں رہا

حریص مایہ ہستی تھا کس قدر آزاد

تمام عمر تلاش مئے کہن میں رہا

بزم میں اٹھتے ہی ان کے روئے روشن سے نقاب

جام مئے سورج بنا مہتاب مینا بن گیا

نوید اے دل کہ رفتہ رفتہ گیا ہے اس کا حجاب آدھا

ہزار مشکل سے بارے رخ سے اس نے الٹا نقاب آدھا

خدا کی قدرت ہے ورنہ آزاد میرا اور ان بتوں کا جھگڑا

نہ ہوگا فیصل تمام دن مگر بروز حساب آدھا

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں