55

امرت

امرت جو کہ دیوتاؤں کی غذا تھی اس کے افسانے کو بعد کی مختلف کتابوں میں بہت سے طریقوں سے بیان کیا گیا ہے ۔ 
دیوتاؤں اور اسوروں (خبیث شیاطین) میں جنگ چھڑ گئی تھی ۔ دیوتاؤں کو اس جنگ میں کئی دفعہ شکست ہوئی جس کے وجہ سے وہ ہمت ہار گئے اور انہوں نے وِشُنو سے امداد چاہی جو بعد کے زمانے میں دیوتاؤں کا مشیر اور عام مخلوق کی حفاظت کرنے والا تھا ۔ وشنو نے کہا وہ اس کی ہدایت پر عمل کریں اور دنیا کے تمام پودوں کی جڑی بوٹیاں جمع کرکے انہیں دودھ کے سمندر میں ڈال دیں اور اس کے بعد اس سمندر کو متھیں تو انہیں امرت مل جائے گا ۔ جس کے پینے سے طاقت اور حیات جاودانی حاصل ہوگی ۔ مگر چونکہ یہ بہت محنت کا کام تھا اس لیے اس نے انہیں مشورہ دیا کہ اسوروں سے عارضی طور پر صلح کرلیں اور انہیں بھی اس کام میں شریک کرلیں اور میں یہ خیال رکھوں گا کہ وہ محنت میں تمہارے شریک رہیں مگر اس سے فائدہ نہ اٹھائیں ۔ 
اسور ان کے جھانسے میں آگئے اور اس کام کے لیے انہوں نے پورا زور لگایا ۔ جڑی بوٹیوں کو سمندر میں ڈال کر کوہ منڈارا سے متھانی (پَرمتھ) کا کام لیا گیا اور اس لکڑی کو ہلانے کے لیے سانپوں کے بادشاہ وَاسُوکی (شیش یا شیشا) نے اپنے کو پیش کیا کہ اس کو لکڑی میں لپیٹ کر متھانی کا کام لیں ۔ ایک طرف اسور تھے اور دوسری طرف دیوتا تھے ۔ وشنو نے کچھوے کی شکل اختیار کرکے پہاڑ کو اپنی پیٹھ پر سے لے لیا تاکہ وہ ہلنے نہ پائے ۔ دونوں حریفوں نے پورا زور لگایا اور سمندر میں سخت تلاطم پیدا ہوا ۔ دودھ کی موجیں اٹھیں اور گرتی تھیں گویا سخت طوفان آگیا ۔ اس کے بعد طوفان خیز سمندر سے ہر قسم کی عجیب و غریب اور مفید چیزیں اور جانور نکلے ۔ پہلے اس میں سے گائے نکلی ، اس کے بعد کئی سر والا گھوڑا ، پھر ہاتھی اور اَبُسار (دوشیز پانی) کی جماعت نکلیں ۔ حسن کی دیوی ایک کنول کے پھول پر بیٹھی ہوئی نکلی ۔ پانی میں سے سم قاتل بھی نکلا جس واسو نے اپنے سانپوں کے لیے لے لیا ۔ 
بعض قصوں میں بیان کیا گیا ہے کہ چاروں وید بھی اسی میں نکلے تھے ۔ مگر یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ ایک شخص جس کے چار ہاتھ چار سر تھے اور ہر ایک کے ہاتھ میں ایک کتاب تھی سمندر کے متھنے میں شریک تھا ۔ سب سے آخر دیوتاؤں کا وید امرت کا پیالہ ہاتھ میں لیے ہوئے شاداں و فرحاں نکلا ۔ دیوتا اور اسور دونوں اس آب حیات کے پینے کے دوڑ پڑے اور دونوں میں سخت لڑائی ہوئی ۔ مگر دیوتاؤں نے پہلے ہی ایک جرعہ پی لیا تھا جس کے پینے سے انہیں پوری طاقت حاصل ہوگئی اور انہوں اسوروں کو مار پیٹ کر بھگا دیا ۔

تہذیب و تدوین
ّْْ(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں