50

امشاسپند

زرتشتی تعلیمات کے مطابق ارواح مجرد اور فرشتگان اہورا مزد کی مخلوق ہیں ۔ یہ مذہبی ارکان میں سب سے بڑا رکن ہے ۔ اہورا مزد کی چھ اہم صفات جن کو امشہ سپنتان یا امشینپدان کہتے ہیں اور ان کا گاتھا میں ذکر آیا ہے ۔ امشہ سپنہ دو الفاظ کا مرکب ہے امشہ یعنی فنا نہ ہونے والا اور سپنتہ یعنی پاک ۔ فنا نہ ہونے والی پاک شے ۔ اس لیے اصطاحاً امشہ سینہ یا امشسپد کو جاوید مقدس اور امشسپدان جاویدان مقدس کہتے ہیں ۔ یہ صفات یا امشسپدان کا گاتھا میں ذکر بار بار آتا ہے تعداد میں چھ ہیں اور ان کے نام بہمن ، اروی بہشت ، شہریور ، اسفندارند ِ خورداد اور مرداد ہیں ۔ ہر امشاسپند کی کیفیت اور فرائض درجہ ذیل ہیں ۔ یہ غیر فانی ہیں اور ان کا کوئی خارجہ وجود نہیں ہے ۔ دوسرے الفاظوں میں یہ آہورا کی صفات ہیں ۔ جنہیں فرشتوں کا نام دیا گیا ہے ۔

 ان چھ امشپنددان کے ساتھ یزدان وابستہ ہیں ۔ یزد کے معنی قابل ستائش کے ہیں ۔ یہ ارواح مجرد یا فرشتے ہیں اور اہورا کی خاص صفت جس سے وابستہ ہیں پھیلاتے رہتے ہیں اور کذب دور کرتے ہیں ۔ انہیں اتنی اہمیت حاصل ہے کہ زرتشتیوں کو یزدانی بھی کہا جاتا ہے اور ان کی بھی پرستش کی جاتی ہے ۔    

(۱) بہمن ۔ اس کی صفت نورانیت یا روحانیت ۔ یہ ارواح کا موکل ہے ، نیا کام کی زیست و حفاظت اس کے متعلق ہے ۔ نیکی کا ظہور و صدور اسی کی ذات سے ہے ۔ یہ انسانوں کے دلوں میں نیکیوں کا القاء کرتا ہے اور چونکہ اس کا ہرمزد سے قریب تر تعلق ہے ۔ اس لیے بعض وقت اسے ہرمزد سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے ۔

ٍ (۲) اشہ وہیشتہ یا اروی بہشت ۔ اس کی صفت حقانیت ہے ۔ یہ آگ روشنی اور تجلیات کا موکل ہے ۔ روشنی خواہ کسی قسم کی ہو وہی پھیلاتا ہے ۔ اروی یا اشا کے معنی سچائی اور پاکیزگی کے اور بہشت ّ(بادشتہ) کے معنی روشن اور خوبصورت ہیں ۔ لیکن یہ پہلوی میں یہ اسم مفرد بن جاتا ہے اور اس کے معنی بہترین کے لیے جاتے سے ہیں ۔ چونکہ یہ روشنی کا موکل ہے اور روشنی مظاہر الہیہ میں سب سے بڑا مظہر ہے جو ہر نیک بندے میں پایا جاتا ہے ۔ لہذا اس امشاسپند کو موجودہ مطلق تعبیر کیا جاتا ہے اور چونکہ روشنی حیوانات اور شجرات و حجرات کی روح و رواں ہے اس لحاظ سے یہ زندگی کا محافظ بھی سمجھا ہے اور اس خاصیت کے لحاظ سے وہ تخلیق کا بھی مظہر سمجھا جاتا ہے ۔
ٍ (۳) خشترہ وائیر یا شہریور ۔ اس کی صفت ملکیت یا قاہریت ۔ معدنیات کا موکل اور دولت مالک ہے ۔ اس کے معنی ملکیت اور دولت کے قریب قریب ہوتے ہیں ۔ لیکن اس زمانے میں اس کا اطلاق معدنی اشیاء اور دولت پر ہونے لگا ہے اور دولت بھی نعماء ہرمزد سے ظاہر ہے کہ سب سے بڑی نعت ہے ۔
ٍ (۴) شپہ ادیتی یا اسفندارند ۔ اس کی صفت قدوسیت ۔ یہ مقدس فرشتہ زمیں و آبادی کا موکل ہے اس کے معنی عبادت و اطاعت کے لیے جاتے ہیں ۔ یہ توفیق عبادت ہرمزد سے متعلق ہے ۔ لیکن اس کا اطلاق زمین پر کیا جائے تو اس کی تاویل یہ ہوسکتی ہے زمین انسان کے تابع کی گئی ہے ۔ اس کی اگر موزوں طریقہ پر خدمت کی جائے تو ماکولات و مشروبات اس سے حاصل ہوسکتے ہیں اور اس لیے اس موکل پر اعتقاد لازمی قرار دیا گیا ہے ۔
(۵) ہوزمات یا خورداد اس کی صفت سالمیت ۔ یہ سیالات یعنی سمندر اور دریاؤں کا موکل ہے ۔
(۶) امرتات یا مرداد ۔ اس کی صفت یہ بقولات اور روئیدگی یعنی یہ نباتات اور اناج کا موکل اور تہذیب و نفس اس سے متعلق ہیں ۔
زرتشتی مذہب میں امشاسپندوں (فرشتوں) کا اہم عقیدہ ہے ۔ جس کے ذریعہ ہرمزد اپنے احکام کو توہ سے فعل میں لاتا ہے اور دنیا میں اپنی حکومت چلاتا ہے اور چونکہ اہرمن اس کی مخالف طاقت سمجھی جاتی ہے لہذا ان سے پناہ طلب کی جاتی ہے ۔ اس طرح اہورا کی ہستی ایک مطلق العنان بادشاہ سی ہے اور وہ اپنے عمال (فرشتے) کے ذریعے حکومت کرتا ہے ۔
ٍ امشاپسندان کے علاوہ بعض فرشتے جنہیں یزت کہتے تھے اور یہ ایزت ہوگیا اور ایرانی تقویم میں بارہ مہینوں کے نام ان پر ہیں ۔ بعض ایسے فرشتے ہیں جنہیں فراوش کہتے ہیں جو انسانوں کے پیدا ہونے سے پہلے آسمانوں پر موجود تھے اور انسان کے مرنے کے بعد اس کی روح میں شامل ہوجاتے ہیں ۔
تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں