57

اندر اور اشاس

اندر بعض وقت سپید صبح کی حسین اور فرخندہ فال دیوی اشاس کے ساتھ سختی سے کیوں پیش آتا ہے ؟ اس کا سبب یہ ہے کہ خشک سالی کے زمانے میں اشاس کا ایک دوسرے بے بادل کے دن اور جلا ڈالنے والے آفتاب کا پیش خیمہ ہے ۔ اس لیے شاعر کے تخیل میں اشاس ایک خبیث ساحرہ ہے جو بنی نوع انسان اور دیوتاؤں کی دشمن ہے ۔ گرجنے والا اندر سوما (شراب) سے مخمور ہوکر اپنے دوست ماروتوں کی امداد سے آسمان کے اصطبلوں پر یورش کرتا ہے اور دودھ کی گایوں کو رہا کراتا ہے جو وہاں مقید ہیں ۔ اپنی مخالف اشاس کے ساتھ بھی اندر کا وہی برتاؤ ہے جو اس نے سوریا کے ساتھ کیا تھا ۔ مگر بعض موقعوں پر یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ اندر نے اس کا راستہ صاف کرتا ہے ، اس کو چمکاتا ہے اور اس کو روشن کرتا ہے ۔ یہ وہی فسانہ ہے اور حسن اتفاق سے نہایت وضاحت سے بیان کیا گیا ہے ۔ دشمن کش اندر کا غالباً عام طریقہ یہ تھا کہ وہ دشمن کے رتھ کو توڑ دیتا تھا جیسا کہ نیچے دیے گئے اشعار میں بیان کیا گیا ہے ۔ 
’’اے اندر تو نے بہادرانہ کام بھی کیا کہ اس عورت کو تو نے سزا دی جو شرارت پر تلی ہوئی تھی ۔ یہ دیاؤس (آسمان) کی بیٹی اُشاس (سپید صبح) تھی جو اپنی خودستانی میں مصروف تھی ۔ تو نے اس کو سزا دی تو وہ ہراساں ہوکر بھاگ کھڑی ہوئی ۔ اس کی رتھ ٹوٹ کر وہیں رہ گئی مگر وہ خود بہت دور بھاگ گئی’’۔ (رگ وید ۴۔۳)     
ایک بھجن میں اندر کی عظمت اور احسانات کی بنا ہے اور مختلف کتابوں میں بیان کیا گیا ہے کہ حسین اشاش کو سبق پہلے مل چکا تھا اسی سے فائدہ اٹھا کر وہ خود ڈر کر بھاگ کھڑی ہوئی اور اپنے رتھ کو اندر کے قہر خوف سے کھڑا ہوا چھوڑ دیا ۔ مگر ایک دوسرے موقع پر بیان کیا گیا ہے کہ اس نے اشاس کے رتھ کی شکست کی طرح چند دوسرے دشمنوں کی بھی سرکوبی کی تھی ۔

تہذیب و تدوین
ّْْ(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں