57

اندر اور سوریا

سوریا کے تعلقات اندر سے خاص قسم کے ہیں ۔ جنگجو اندر کبھی اسے دوستانہ سلوک اور کبھی اسے دشمنی کی نگاہ سے دیکھتا ہے ۔ اندر بھجنوں میں بہت سی عبارتیں ایسی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ سوریا اس کا تابع تھا اور اس نے سوریا کو پیدا کیا تھا ۔ مگر غالباً یہ اندر  کے پجاریوں کا مبالغہ ہے جو اسے خوش کرنے کے لیے اس کا اعزاز بڑھایا ہے اور ویدوں کے پجاری اکثر یہی کرتے تھے ۔ بعض مقامات پر یہ بیان کیا گیا ہے ۔ اندر سوریا کے لیے راستہ تیار کرتا ہے یا اس کو چمکاتا ہے ، مگر یہ بھی محض لفاظی ہے ۔ کیوں کہ قیاس کرسکتے ہیں کہ سوریا کا آہی وِرِت را اور بادلوں کے دوسرے عفریتوں سے لڑتے ہوئے ایسا پریشان ہوجاتا ہے کہ بغیر اندر کی زبردست امداد کے ان سے پیچھا نہیں چھڑا سکتا ہے ۔ یعنی طوفان باد و باران آسمان کو صاف کردیتا ہے کہ سورج کو چمکنے کا موقع ملے ۔ دراصل یہ وہی افسانہ جس میں بیان کیا گیا ہے کہ دیوتاؤں نے سوریا کو سمندر سے نکالا جہاں وہ چھپا ہوا تھا ۔ (رگ وید ۱۰۔۷۲) 
اندر سے یہ بھی درخواست کی جاتی تھی کہ سورج کو چھپالے (جس کو مشک سے مشابہت دی جاتی تھی) اور شُشنا یعنی خشک سالی کے دیوتا پر بجلی گرائے ۔ مگر اس شعر سے یہ بھی واضع ہوتا ہے کہ بعض موقعوں پر اندر انسان کا محافظ ہونے کی وجہ سے سوریا کو دشمن خیال کرتا ہوگا ۔ جسے دفع کرنے یا کم از کم کچھ عرصے کے لیے ساکت کردینا ضروری تھا ۔ کیوں کہ جب بڑے مہیب دیو (خشک سالی) سے جنگ ہو تو سوریا کے شعلہ افگن قرض کا دور ہی رہنا اچھا ہے اس لیے محل تعجب نہیں ۔ اگر اندر کی تعریف کی جاتی ہے کہ اس نے سورما کی مدد سے سوریا کے رتھ کا ایک پہیہ توڑ دیا اور جس کی وجہ سے وہ پہاڑ کے نیچے گرگیا اور وہ بڑا ساحر لنگڑا ہوگیا ۔

تہذیب و تدوین
ّْْ(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں