63

اندر

اندر ویدوں کے زمانے کا سب سے طاقتور دیوتا تھا ۔ یہ نیلے آسمان کا دیوتا بادلوں کو اکھٹا کر لاتا ہے ، برسات پیدا کرتا ہے ، بجلی کی کڑک پر اپنا تصرف رکھتا ہے ، تاریکی کو فتح کرنے والا ہے ، روشنی کو لانے والا ہے ، تمام تر و تازگی ، طاقت اور زندگی بہم پہنچانے والا ہے اور تمام دنیا کا حاکم اور مالک ہے ۔ جس طرح ویدوں میں اس دیوتا کو پیش کیا اور بعض رشیوں نے اندر کو سب زیادہ اہمیت دی ہے ۔ گویا اس کے مقابلے میں دوسرے دیوتا نہایت کمزور و بوڑھے ضعیف آدمی ہیں ۔ دیاؤس جو پہلے تمام دیوتاؤں کا باپ سمجھا جاتا تھا بلکہ اندر کا باپ بھی خیال کیا جاتا تھا وہ بھی اندر کے آگے سجدہ کرتا ہے ۔ زمین بھی جو اس ماں ہے اس کی پہنچ پر کانپ اٹھتی ہے ۔ تاہم اندر نے یونان کے دیوتا جوپیٹر یا زمین کی طرح تمام دیوتاؤں پر اقتدار ہی حاصل نہیں کیا بلکہ ویدوں پر بھی اپنا اقتدار حاصل ہے ۔ اگرچہ ویدوں کے زمانے میں بھی ایسے لوگ موجود تھے جو اندر کو نہیں ماننے تھے ۔ 
 ہندوستان میں اندر ایک عجوبہ ہے ۔ آریاؤں کے ہندوستان آنے کے بعد یہ دیوتا نمودار ہوا ہے ۔شمال مغربی رہنے والے آریا اندر دیوتا آسمان ، بجلی اور بارش کے دیوتا کے طور پر نہیں جانتے تھے ۔ اس کا ذکر صرف آریہ ورت کی رزمیہ نظموں میں آیا ہے ۔ لڑائیوں میں اکثر ان دیوتاؤں کو پکارا جاتا تھا اور اندر ان لڑائیوں میں اکثر رہنمائی کا کام کرتا ہے ، وہ آریوں کی حفاظت کرتا ہے اور ہندوستان کے سیاہ فام اصلی باشندوں کو مار بھگایا ہے ۔ ایک مقام پر رشی کہتا ہے کہ اس نے پچاس ہزار سیاہ فام باشندوں کو مار بھگایا ہے ۔ ان کے قلعوں کو مسمار کردیا ہے ۔ دشمنوں سے بچانے کی اندر کی تعریف رشیوں نے کی ہے ۔ چنانچہ ایک رچا میں آیا ہے کہ ایک دفعہ سو داس ترسو کا نیک دل کا شریف راجہ کو جنگ میں دس راجاؤں نے گھیرا تو اندر نے طوفان کو پایاب کر دیا اور سوداس کو بچالیا ۔ ایک اور رچا میں اندر کی تعریف کی ہے ’’تو نے تروتی وایا کی خاطر بڑے دریا کو روک لیا ، طوفان تیرے قابو میں ہے ، تو دریاؤں کو آسانی سے قابل گذر بنا دیا ہے’’۔ بقول میکس ملر کے اندر نے دن طویل کردیا اور سورج نے دوپہر کے وقت اپنے رتھ کے گھوڑے چھوڑ دیے ۔
رگ وید اہم ترین دیوتاؤں کی فہرست میں سرفہرست اندر ہے ۔ یہ پروہتوں کا محبوب ترین دیوتا ہے ۔ رگ وید کے ایک چوتھائی منتر اس کی تعریف میں ہیں اور ویدوں کی ساری اساطیر کا بشتر حصہ اسی کے گرد گھومتا ہے ۔ اندر بادل کی گرج اور بجلی کی کڑک کے طوفان کا دیوتا ہے اور یہ جنگ کا دیوتا ہے ۔ اس کے بال اور ڈارھی بھوری اور اس کی جلد سنہری تھی ۔ 
اندر لوک اندر کی سلطنت ہے ۔ جہاں کشتری مرنے کے بعد جاتے ہیں ۔ اندر کشتری آریاؤں کا نمائندہ ہے اور اس کی برتری اس زمانے کے باقی ماندہ پر نظر آتی ہے ۔ رگ وید کے بہت سے منتر مقامی قبائل کے ساتھ آریاؤں کی فتح بیان کرتے ہوئے اندر کی ثنا خوانی کرتے ہوئے اسے سورج کے مماثل قرار دیا گیا ہے ۔ اس تمام دیوتاؤں میں طاقتور مانا گیا ہے ۔ جنگجو آریا اسی سے دعا مانگتے تھے ۔ وہ قلعہ شکن (پورم ور) ہے وہ داسیوں کو شکست دے کر زمین آریاؤں کے حوالے کرتا ہے ۔ (رگ وید ۶۔۱۸۔۳ ، ۴۔۲۶۔۲) وہ آریاؤں کے رنگ کی حفاظت کرتا ہے اور سیاہ رنگ کو نیچا دیکھاتا ہے ۔ (رگ وید ۴۔۱۶۔۱۳) بعد میں جب آریائی اقتدار مستحکم ہوجاتا ہے اور پرانی مقامی ذات کو ایک نئی ترتیب کے ساتھ اختیار کرتے ہیں تو خاص کشتریوں کا نمائندہ بن جاتا ہے اور کشتری اقتدار کے عہد میں بلند ترین مقام پر رہتا ہے ۔ بعد کے زمانے میں اس کا درجہ گھٹا کر اس پر متعدد الزمات لگائے گئے ہیں ۔ 
عام خیال ہے کہ ویدک کے زمانے میں نہ مندر تھے نہ دیوتاؤں کی مورتیاں اور اس کلیہ کا اطلاق اندر پر بھی ہوتا ہے جو فضاء کا راجہ ہے اور اسے ہندی آریاؤں کا محافظ دیوتا کہیں تو بے جا نہ ہوگا ۔ مگر اندر اور اس کے ساتھی ماروتوں (آندھیوں) اس کے ساتھ شاداں فرحاں جنگ کو جاتے ہیں اور ان کی شکل و صورت طاقت اور اسلحہ کا نہایت تفصیلی بیان موجود ہے کہ اندر ایک شاندار رتھ پر بیٹھا ہے ۔ ایک سنہرا چابک اس کے ہاتھ میں ہے ۔ اس کی بغل میں بجلیاں ہیں سر پر سنہرا خود ہے اور نہ صرف اس کے لمبے اور طاقت ور ہاتھوں اور اس کی ناک اور سرخ رخساروں کا ذکر ہے ۔ یہ بیان کیا گیا ہے کہ جب اندر اپنے تند گھوڑوں کو ہانکتا اور بجلی گراتا ہے تو اس حرکت سے اس کی سنہری ڈاڑھی ہلنے لگتی ہے اور ماروت رتھ سوار ہیں جن کے تیز رفتار گھوڑے یا چتلے ہرن انہیں آندھی کی طرح کھنچتے ہیں ۔ انہیں اس طرح خطاب کیا گیا ہے کہ ’’تمہارے کندھوں پر نیزے ہیں تمہارے پیروں میں کڑے ہیں ، تمہارے سینوں پر سنہرے زیور ہیں ، تمہارے کانوں میں زیور ہیں ، آتشی بجلیاں تمہارے ہاتھوں میں اور تمہارے سروں پر سنہری خود ہیں’’۔
ویدوں میں ورت را سے لڑائی کی منظر کشی کی ہے ۔ اس سے یوں لگتا رشی کے ذہن میں ہندوستان کے سورما راجہ اور اس کے زرق برق وردیوں والے سپاہی تھے اوریہ انتہائی تبیہ تمثیلی ہے کہ ’’اندر کے ساتھ اگنی جو پیامبر اور پجاری ہے پوجا کرنے کے لیے بلایا جاتا ہے ۔ اس کے ساتھ وہ سوما کے خم کے خم اڑاتے ہیں اور پھر اس کے بعد وہ سب وِرِت را سے لڑنے جاتے اور اندر ان کی مدد سے وِرِت را کو مغلوب کرکے ٹکڑے ٹکرے کر ڈالتا ہے ۔ جس سے پہاڑ ڈھک جاتا اور پانی وِرِت را اپنے پیٹ میں چھپائے تھا وہ نکل آتا ہے اور دونوں عالم سیراب ہوجاتے ہیں ۔ 
 سوال یہ نہیں ہے کہ فضاء کا سورما بنی نوع انسان کا دیوتائے جنگ اپنے آریائی اور دیسی پرستش کرنے والوں کا حامی اور محافظ کیسے بن گیا بلکہ یہ کہ اسے ان دو گونہ اعزاز قبول کرنے سے بے گانہ تھا یا نہیں ۔ 
رگ وید میں تشبیہ تمثیلی اکثر اوقات حد سے زیادہ تجاوز کرجایا کرتی ہے ۔ کیوں کہ مافوق الانسانی ہستیوں کی شکل جامہ انسانی پیش کرنے میں مبالغے سے کام لیا جاتا ہے اور اپنے معبود کی بزرگی بیان کرنے میں اس کی عظمت کو قد و قامت کی درازی سے تعبیر کرتے ہیں ۔ اندر کی تعریف میں جو بھجن ہیں وہ دوسرے دیوتاؤں کی تعریف کے بھجنوں سے تعداد میں زیادہ ہیں ۔ مگر طرز بیان اور تخیل کا سقم ان سب میں موجود ہے ۔ ان بھجنوں میں اندر کی جو تصویریں کھنچی گئی ہیں ان میں بعض بھونڈی ہیں مگر بعض شاعروں نے اپنے قلم کا پورا زور دیکھایا ہے ۔ اس تعریف کے چند نمونے نیچے دیئے جاتے ہیں ۔ اس میں اندر کے قد و قامت اور قوت کو پرستش کنندوں کے ذہن میں نشین کرنے کی بار بار کوشش کی گئی ہے اور بیان کیا گیا ہے کہ اس کی ذات انسان سے اعلیٰ ارفع ہے ۔
 ’’آسمان اور زمین کو ملا کر اس کے کمر بند کے لیے کافی نہ ہوں گے’’ ۔    
 ’’جب وہ دونوں عالموں کو پکڑتا ہے تو وہ اس کی مٹھی میں آجاتے ہیں’’۔
 ’’تمام ہستی اس میں سمائی ہوئی ہے جیسے کہ پئیوں کے ہال میں آرے ہوتے ہیں اور جیسے کہ دھرا دونوں پہیوں میں سے گزرتا ہے ۔ ویسے ہی اس کی بزرگی دونوں عالموں سے زیادہ ہے’’۔
’’اگر سو آسمان ہوں سو زمینیں ہوں اور ایک ہزار سورج ہوں تب بھی وہ تمام عالموں میں سما نہیں سکتا ہے’’ ۔
اندر کی شراب کے ہضم کرنے کی قوت کی تعریف میں بہت مبالغہ کیا گیا ہے ۔ مثلاً وہ نہ صرف قرابے کے قرابے اور خم اور خم کے واحد میں اڑا جاتا تھا اور تیس جھیلیں ایک ساتھ خالی کر دیتا تھا ۔ شاعر اسے مخاطب کرکے پیاسے بارہ سنگھے کی طرح پینے کو کہتا ہے یا اس سانڈ کی طرح جو بے پانی جنگل میں سرگرداں پھر رہا ہو ۔ اندر کے دو پیٹ تھے ، جن میں ہر ایک ایک جھیل کے برابر تھا اور اس سے درخواست کی جاتی تھی اور وہ دونوں کو بھرلے جس میں چوکتا نہیں تھا ۔ وہ سوما کے انڈیلنے کا انتظار نہ کرسکتا تھا بلکہ وہ پیپے سمیت پی جاتا تھا ۔ غالباً اس قسم کی بادہ نوشی کے بعد اس کی یہ حالت بیان کی گئی ہے کہ وہ دعوت میں ایسا لڑکھڑا ہوا چلتا ہے ۔ جیسے کہ کوئی کشتی پانی میں اور سوما اس کے پیٹ میں ، عقل اس کے سر میں اور بجلی اس کے ہاتھوں میں اور اس مدہوشی کی حالت میں یہ سورما دیوتا اپنا کار عظیم یعنی ورترا (خشک سالی کے بادلوں کا دیو) کو قتل کرکے ’ورترا ہان’ کا خطاب حاصل کرتا ہے ۔ یہی تخیل ان بھجنوں میں بھی ظاہر ہوتا کہ جن میں سوما دیوتا کو اندر کے ساتھ مخاطب کیا گیا ہے اور دونوں سے بھوتوں یا دنیاوی دشمنوں کے مقابلے میں امداد کی درخواست کی گئی ہے اور دونوں کی طرفداری کی تعریف کی گئی ہے ۔ ایک مقام پر سوما کو اندر کی روح قرار دیا گیا ہے ۔
اندر جنگ کا دیوتا آریاؤں کا حامی اور لڑائیوں میں ان کی مدد ہی نہیں کرتا ہے ۔ بلکہ سندھو ندی سے جمنا تک ان کا رہبر تھا اور اسی کی مدد سے انہیں فتوحات نصیب ہوئی ہیں ۔ ایک دعا میں مذکور ہے ’’ہماری رہبری کر اے اندر اور اپنے مال و زر حاصل کرنے کی راہ دیکھا ۔ ہمیں حفاظت سے منزل مقصود تک پہنچا دے’’ مشرق کی طرف پیش قدمی ، ندیوں کو غبور کرنا اور داسیو (مقامی اقوام) کو بے دخل کرنا اس سے صاف ظاہر ہے ۔
آریا اندر سے مادی چیزوں کی خواہش کرتے ہیں ۔ وہ بارش اور تاریکی دور کرنے کے علاوہ دعا کرتے تھے کہ ہمیں گائے ، گھوڑے ، زبردست اور تنومند بیٹے ہر قسم کی دولت ، لڑائی میں فتح اور دشمنوں کا مال دلا ۔ اس دیوتا کا تخل غالباً اس وقت پیدا ہوا کہ آریاؤں کا جوش ملک گیری زوروں پر تھا اور اس میں روحانیت کا وہ عنصر نہیں جو وارن اویتی میں ہے یا اس فلسفیانہ تخیل میں جو اگنی اور سوما میں ہے ۔ مگر جس بے تکلفی سے اسے ذیل کے بھجن میں مخاطب کیا گیا ہے وہ پر اثر ضرور ہے ۔
’’آؤ بھائی اندر یہاں تمہارے احباب زمانہ قدیم سے آباد ہیں ۔ اب اپنے نئے دوستوں کے حال پر توجہ کر ۔۔۔ کیوں تم پرانے زمانے سے ہمارے آبا و اجداد کے دوست ہو اور تم نے بہ طیب خاطر ان کی مرادوں کو پورا کیا ہے ۔۔۔۔ ہم تمہیں بلاتے ہیں ۔ کیوں کہ تم دور سے ہماری بات سن سکتے ہوں ۔۔۔ تم ہمارے ماں باپ ہو اور سب باپوں سے زیادہ شفیق ۔۔۔ پرانے گیت اس سرعت کے ساتھ تمہارے پاس نئے بن کر پہنچتے ہیں ۔۔۔ جیسے کہ گھوڑے جن پر ساز رکھا ہو یا جیسے گائے نے اپنے نوزائید بچھڑے کو چاہتی ہے یا بیوی اپنے شاندار شوہر کو پیار کرتی ہے اور اس سے چمٹ جاتی ہے ۔۔۔ ٹہیر جاؤ اے طاقت ور دیوتا میں خوب کشید کیا ہوا سوما تمیں پیش کرتا ہوں ۔ میں تمہارے عبا کا دامن اپنے راگ سے پکڑتا ہوں جیسے کہ بیٹا اپنے باپ کا دامن پکڑتا ہے’’۔
اندر کے پرستش کرنے والوں کو اس سے محبت اور اعتماد کا انہیں احساس تھا ۔ بھجنوں میں ان اشعار کی طویل فہرستیں موجود ہیں جو اس سے حاصل ہوتی تھیں ۔ مثلاً وہ ان کے دشمنوں کی طویل فہرستیں موجود ہیں ، وہ ان کے دشمنوں کو زیر کرتا تھا ، اپنے دوستوں کو وہ دونوں ہاتھوں سے زر و سیم دیا کرتا ، نفع رسانی اس میں ویسی ہی تھی جیسے کہ درخت کی شاخیں ، اس سے درخواست کی جاتی تھی کہ وہ اپنے پرستش کرنے والوں پر دولت اسی طرح برسائے جیسے کہ درخت سے پکے پھل گرتے ہیں ، غریبوں کی وہ دست گیری کرتا اور مصائب سے نجات دیتا اور اس کی عنایت ہمیشہ شامل حال رہتی ۔ ایک شاعر نے کہا کہ ’’تو ہمارا ہے اور ہم تیرے ہیں’’ ۔ دوسرا کہتا ہے ’’اس کے دن خوش آئند ہیں جو کہتا ہے آؤ اندر کے لیے سوما تیار کریں’’۔ اس بادشاہ کی قوت کو کبھی زوال نہیں ہوتا جس کے گھر میں اندر دودھ ملا ہوا سوما پیتا ہے ۔ زمانہ امن میں اسے فروغ حاصل ہوتا ہے اور لڑائی میں فتح وہ سلامتی کے ساتھ اپنے گھر میں رہتا ہے اور اعلیٰ درجہ کی شہرت حاصل کرتا ہے’’۔ اندر ہر ایک سے دوستی نہیں رکھتا اور ان بدذاتوں سے کوئی سروکار نہیں رکھتا جو سوما کی کشید نہیں کرتے ۔ یعنی دیسی اقوام سے جنہوں نے اس وقت تک آریاؤں کا مذہب قبول نہ کیا تھا ۔
جو دیوتا اس قدر فیاض ہو اس کی عبادت میں حسد اور خود غرضی کا داخل ہونا تعجب کا باعث نہیں ہے ۔ کئی بھجن ایسے بھی ہیں جن میں اس کو دوسروں کی درخواست پر غور کر سے ایسے الفاظوں میں متنبہ کیا گیا جسے پڑھ کر ہنسی آتی ہے ۔     
’’میں تیز رفتار گھوڑے اندر کے رتھ میں جوتوں گا اور اسے زمین پر ایک نئے گیت سے بلالوں گا ۔ بھجن گانے والے اور بھی ہیں ۔ ہوشیار رہنا کہیں وہ تجھے اپنے راستے سے بھٹکا نہ دیں’’۔ (رگ وید دوم ۱۸۔۳)  
اندر ! اپنے تیز رفتار گھوڑوں پر جلد آ ۔ جیسے چڑیا جال میں پھنس جاتی ہے اس طرح تو بھی ان کے پھندوں میں نہ آنا ۔ اپنے رتھ کو سیدھا ہانک جیسے کہ ہوا ملک میں’’۔
اگر اس کا کوئی پجاری یہ خیال کرتا ہے کہ دیوتا اسے بھول گیا ہے یا اس سے پہلو تہی کر رہا تو وہ نہ صرف شکوہ کرتا ہے بلکہ لعنت ملامت کرتا ہے ۔ مثلاً ’’اندر ! تیرے ہاتھوں میں برکت اور فیض ہے ، جب تو اپنی ستائش کرنے والوں کو سرفراز کرتا ہے ، تو کہاں رہ گیا ہے ، تو شراب پینے کے لیے جلد کہاں رہ گیا ہے ۔ تو شراب پینے کے لیے جلد کیوں نہیں آتا ۔ یا کہیں دینا دلانا تجھے ناگوار تو نہیں’’۔ (رگ وید چہارم ۲۹۔۹)
’’اے صاحب مال و دولت کے مالک ! لوگ تجھے سخی کیوں کہتے ہیں ۔ سنا تو یہ ہے کہ تو دینے والا ہے ۔ پھر مجھے بھی دے ۔ اے صاحب اقتدار اس بھجن کے صلے میں مجھے بھی سیم و زر دلا’’۔ (رگ وید دہم ۴۲۔۲) 
بعض اشعار میں اندر کو خسیس ، کاہل اور بخیل بھی کہا گیا ہے اور نیچے دیئے گئے بھجنوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ دیوتا سے کس کس طرح کی شکایتیں کی جاتی تھیں ۔ 
’’اے منبع مال و دولت ! اگر میرے پاس اتنی دولت ہوتی کہ اے اندر تیرے پاس ہے تو میں اے منبع مال و دولت اپنے پرستش کرنے والوں کو مالا مال کر دیتا اور اسے افلاس میں نہ رہنے دیتا ۔ میں ہر روز اس پر سیم و زر برساتا ، خواہ وہ کہیں ہو کیوں کہ میں کسی کی اتنی قدر نہیں کرتا جتنی تیری ، نہ اپنے باپ ی نہ اعزا کی’’۔ (رگ وید ۸ ۔ ۱۸۔۱۹)
’’اگر تیری ساری دولت میرے قبضے میں ہوتی تو میرا شاعر دولت مند ہوتا ، میں اس کی مدد کرتا ، انعام و اکرام دیتا ، اے صاحب اقتدار ! اگر میں بھی مویشی کا مالک ہوتا ۔ کیوں کہ اے اندر نہ کوئی دیوتا نہ کوئی انسان تیری سخاوت کو روک سکتا ہے اگر تو دینے پر آئے’’۔
اندر کے نام پر ماہرین لسانیات میں بحثیں ہوئیں اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ لفظ اندر ماخوذ ہے اند (قطرہ ، عرق) سے ہے جو سندھو اور ہند میں موجود ہے ۔ محقیقن کا بیان ہے کہ اندر آسمان کے پرانے دیوتاؤں یعنی دیاؤس و وارن کے بعد خاص ہندوستان بلکہ پنجاب کی سرزمین پر وجود میں آیا ہے اس کا رگ وید میں ثبوت موجود ہے کہ آندھیوں اور جنگ کے زبردست دیوتا نے دونوں آسوروں (دیاؤس اور وارُن) کی جگہ لے لی تھی اور اس کو یہ عروج جنگ و جدل سے حاصل ہوا تھا ۔ جس کی وجہ سے اس میں اور قدیم دیوتاؤں کے پرستش کرنے والوں میں تفریق ہوگئی تھی ۔ یہاں تک کہ آخر الذکر کو ہوائے زمانہ اور عام رجحان کے آگے سر جھکانا پڑا ۔ اگر منتشر اشعار کی تعبیر سے کوئی شبہ رہ جائے تو وہ نیچے دیئے ہوئے بھجن (رگ وید چہارم ۴۲) سے زائل ہوجائے گا جو مکالمے کی شکل میں یعنی ہر ایک دیوتا اپنی عظمت کے دعوے کو پیش کرتا ہے اور رشی ان دونوں کے درمیان تصفیہ کرتا ہے ۔
’’وارُن ۔ میں بادشاہ ہوں ، میری ہی سطوت و جبروت ہے ، میں ہی منبع حیات ہوں ، سب دیوتا میرے ماتحت ہیں اور میرے قانون کے ماتحت ہیں اور میرے قانون کے پابند ہیں ۔ انسان کے اعلیٰ ترین معبد میں حاکم ہوں ، اے اندر میں شاہ وارُن ہوں ۔ دونوں وسیع ، گہرے اور بابرکت عالم میرے ہی ہیں ۔ میں عقلمند بنانے والا ہوں ، میں نے سب چیزوں کو بنایا ہے ، میں نے ہی آسمان و زمین کو محفوظ رکھتا ہوں ، میں نے ہی پانی میں طاطم پیدا کیا ، میں نے آسمانوں کو ان کی جگہ پر رکھا ہے ، میں جو مقدس اَدِیتا ہوں ، میں نے ہی تینوں عالموں (آسمان ، زمین اور کرہ زمہریر) کو بنایا ہے’’۔ 
’’اندر ۔ میں وہ ہوں جسے گھوڑوں پر بیٹھنے والے یاد کرتے ہیں جب کہ جنگ میں ان کی حالت ابتر ہو ۔ میں وہ طاقتور ہوں جو لڑائیوں کو ابھارتا ہے اور اپنی طاقت سے گرد اڑاتا ہے ۔ مجھ پر کسی کو فتح نصیب نہیں ہوئی ۔ اگر سب دیوتا بھی مل جائیں تو وہ مجھے روک نہیں سکتے ۔ جب کہ بادہ پیمائی اور دعاؤں سے مجھ میں سرور آجاتا ہے تو دونوں عالم کانپتے ہیں’’۔
’’شاعر ۔ تونے یہ سب کچھ کیا ہے اے اندر اور ہر شخص اسے جانتا ہے اور اب تو تو نے یہ وارُن کے سامنے بھی کہہ دیا ۔ ورت را کا قاتل ہے ۔ اس لیے لوگ تیری ستائش کرتے ہیں ۔ تو نے ہی قید پانیوں کو آزاد کرایا’’۔
ایک دوسرے بھجن (رگ وید دہم ۱۲۴) میں بھی جو اپنے فلسفیانہ تخیل اور بلیغ عبادت سے زمانہ مابعد کا معلوم ہوتا ہے ۔ اس قصے میں یہ بیان گیا ہے ۔ اس بھجن میں شاعر اگنی کو قربانی کے انجام دینے کے لیے تاریکی سے بلاتا ہے ۔ اگنی جواب دیتا ہے کہ ’’مجھے اپنے پرانے دوست (وارُن) کو چھوڑ کر نئی صحبتوں میں جانا شاق ہے ۔ مگر میں دوسرے فریق کے مہمان (اندر) کے پاس جاتا ہوں ، جس کی قربانیاں لوگ کرتے ہیں ۔ اندر کا ساتھ پکڑنے میں نے باپ (وارُن) کو چھوڑ دیا گو ہماری دوستی بہت پرانی ہے ۔ اگنی ، وارن اور سوما کا زمانہ اب گیا ۔ اب غلبہ دوسرے (اندر) کا ہے’’۔
ایک ایسی قوم کے لیے جو ہوس ملک گیری میں سرشار ہو اور اپنی قوت کو مستحکم کرنے اور اس کے وسعت دینے میں اخلاقی مواقع کا لحاظ نہ کرتی ہو ۔ اندر ایسا دیوتا بامقابلہ باعظمت اور مصنف مزاج ادِتیا (وارُن) کے زیادہ مناسب حال تھا ۔ اس امر کا ہمیں مطلق علم نہیں ہے کہ یہ سیاست وارُن سے اندر پر باضابطہ طور سے کس طرح منتقل ہوئی ۔ بہت سی عبارتیں بلکہ پورے بھجن ایسے ہیں جس میں اندر کی پیدائیش ، طفولیت اور ابتدائی کارناموں کا ذکر ہے ۔ مگر یہ اشلوکوں اس قدر مبہم ہیں اور جن چیزوں کا ذکر ہے ۔ ان سے ہم بالکل لاعلم ہیں لہذا ان اشلوکوں سے کوئی قابل اطمینان یا مستقل نتیجہ اخذ کرنا ناممکن ہے ۔ بعض منتروں میں جو اندر کو مخاطب کرکے لکھے گئے ہیں اس کا تعلق آسمان اور بجلی کی کڑک سے بالکل نہیں پایا جاتا ہے بلکہ وہ ایک روحانی دیوتا ہے ۔ جو تمام دنیاؤں اور پرجاؤں کا راجہ بن جاتا ہے ۔ ہر ایک چیز کو دیکھتا ہے اور سنتا ہے اور انسانوں اپنے ضروری خیالات سے متاثر کرتا ہے اور نہ کوئی اس کے برابر ہے نہ کوئی اس سے بڑھ سکتا ہے ۔
بیان کیا گیا کہ پیدا ہوتے ہیں اس میں اس قدر غصہ تھا تھا کہ آسمان اور زمین بھی کانپنے لگے ۔ اس کی ماں کون تھی ہمیں اس کا علم نہیں ہے ۔ مگر وہ اس کے پیدا ہوتے ہی مرجاتی ہے اور اس کے بعد اس نے اپنے باپ کے پیر گھسیٹ کر اسے اٹھا کر پٹک دیا اور وہ اس صدمے سے مر گیا ۔ یہ بھی بیان کیا گیا کہ لوگوں نے اسے بہ حالت خواب یا جب وہ سرگرداں پھر رہا تھا اسے مارنے کی سازش کی تھی ۔ خود اس کی زبان سے بیان کیا گیا ہے کہ بھوک سے بیتاب ہوکر میں نے کتے کی آتیں پکائیں اور کسی دیوتا نے مجھ پر رحم نہ کیا ۔ رنج و غم سے میری بیوی کی کمر جھک گئی ، پھر عقاب میرے لیے شیرین سوما لے کر آیا ۔ ان منتشر بیانات سے ایک مسلسل قصہ گھڑ لینا دشوار ہے ۔ کیوں کہ اکثر اوقات ایک بھجن کے دوسرے اشعار میں عبادتوں سے ہم یہی نتیجہ اخذ کرسکتے ہیں کہ دوسرے دیوتا یعنی پرانے دیوتاؤں کے ماننے والے اس کی سخت مخالفت کرتے تھے ۔
ہمیں یہ بھی نہیں معلوم ہے کہ دیوتاؤں کی یہ جنگ کس طرح ختم ہوئی ۔ مگر معلوم یہ ہوتا ہے کہ ایک عرصہ کے بعد مصالحت ہوگئی ۔ کیوں کہ بہت سے ایسے بھجن ہیں جن میں وارُن اور اندر کو ایک ساتھ مخاطب کیا گیا ہے اور دونوں کو نظام عالم کی حکومت میں شریک گردانا گیا ہے ۔ مثلاً ایک جگہ بیان کیا گیا ہے کہ اندر کو دشمنوں کو قتل کرنے میں مزا آتا ہے اور وارن اپنے قوانین قائم رکھتا ہے ۔ اندر کو اگنی ، سوما ، وایو اور دوسرے دیوتاؤں کے ساتھ بھی مخاطب کیا گیا ہے ۔ رفتہ رفتہ اگنی اور وایو (ہوا) اس کی ذات سے وابستہ ہوجاتے ہیں اور یہ تینوں مل کر آخری ویدی زمانے میں برہمنی مذہب کے تثلیث بن جاتے ہیں ۔ اندر کی شخصیت گو ایک حد تک واضح ہے ، مگر اس کی دو رنگی (باد و باراں اور لڑائی کا دیوتا) کی وجہ سے یہ قیاس نہیں کیا جاسکتا ہے کہ اس کا تخیل مناظر قدرت میں کس کے مشاہدے سے پیدا ہوا ہے ۔

تہذیب و تدوین
ّْْ(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں