40

اوستا مسلم کے عہد کی تالیف ہے ؟

ایک ممتاز ممتا محقق موسیو فرانسوا نو کا کہنا ہے کہ زرتشتیوں کی کتب مقدسہ تقریباً ساتویں صدی کے وسط تک زبانی روایات سے منتقل ہوتی رہیں تھیں اور ساسانیوں کے آخری زمانے سے پہلے زرتشتی علماء کو یہ خوف پیدا ہوا کہ ان کی کتاب مقدس کی یہ روایات تلف نہ ہوجائیں اور ان کی یہ بھی خواہش تھی کہ زرتشتیوں کو اہل کتاب کے وہ حقوق حاصل ہوجائیں جو اسلام میں اہل کتاب کے لیے مخصوص ہیں ۔ لہذا انہوں نے ساسانی اوستا کو ضبط تحریر کیا گیا ۔ یہ درست ہے کہ کلمہ اوستا چھٹی بلکہ شاید پانچویں صدی سے استعمال ہو رہا تھا ۔ لیکن اس وقت تک اس کے معنی وہ شریعت تھی جو زبانی روایت چلی آرہی تھی ۔ انہوں نے آٹھویں صدی میں اوستاوی رسم الخط ایجاد کیا اور اس رسم الخط کو اوستا کے متن کو نقل کرنے میں استعمال کیا گیا جو کہ اس سے پہلے ۶۳۴ء؁ کے لگ بھگ پہلوی حروف میں لکھا جاچکا تھا ۔ کیوں کہ عہد ساسانی کی سریانی تصانیف میں عیسائیوں اور مرذائیوں (زرتشتیوں) کی بحثوں کہیں بھی زرتشتی کتابوں کا ذکر نہیں آیا ہے ۔ البتہ مزدائیوں کے بارے میں یہ ضرور پتہ چلتا ہے کہ مزدائی اپنی مذہبی روایات کو زبانی یاد رکھتے ہیں ۔

پروفیسر آتھر آسٹین کا کہنا اگر اوستا کتاب کا ذکر ہوا ہے تو اس کی وجہ عیسائیوں کا تعصب بھی ہوسکتا ہے ۔ اس لیے بھی زرتشتی کتابوں کا ذکر نہیں کرتے تھے ۔ اس سے دوسرے عیسائیوں کو گمان ہو کہ زرتشتیوں کے پاس بھی الہامی کتابیں موجود ہیں ۔ ہم اس روایت پر اعتماد نہیں کرسکتے ہیں کہ جو زرتشتیت کے قدیم زمانے میں اوستا کی تالیف کو بیان کرتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں ہے کلسیائی مزدائی کے مورخوں نے اپنے مذہب کی تاریخ کو جو ساسانی عہد سے تعلق رکھتی تھی نظر انداز کیا ہے ۔ علاوہ اس کے ایک یہ دلیل ہے کہ اگر اوستا کو تحریری شکل میں یزدگرد سوم (آخری ساسانی بادشاہ) کے زمانے سے بشترموجود نہیں تھیں تو اس صورت یعنی جلدی میں زرتشتی صرف ایسے متن کو ضبط تحریر لاتے جو عبادات اور عقائد کے متعلق ہوتا اور ایسے سارے طومار کو لکھنے کی زحمت نہ کرتے کہ جس میں تاریخ طبیعی ، جغرافیہ ، ضابطہ اخلاق اور بہت کچھ جس سے خوا مخواہ اوستا کا حجم بڑھ گیا ۔ یہ ممکن نہین ہے کہ علمائے زرتشت نے جب کہ ایران عربی فوجوں کے ساتھ زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا تھے علمائے زرتشت نے اکیس نسک تالیف کر ڈالے جن کے الفاظ کی تعداد ویسٹ کے اندازے کے مطابق ۳۴۵۷۰۰ تھی اور وہ بھی انہیں پہلے پہلوی میں لکھا اور پھر بعد میں ایک صدی کے بعد جب علمائے زرتشت خود قوت لایموت کے محتاج ہوگئے تھے اور دن بدن ان کا اثر و رسوخ اور اقتدار کم ہو رہا تھا اور زرتشت کے پیرو اپنا مذہب چھوڑ رہے تھے اور خود انہیں چین سے بیٹھنا نصیب نہیں تھا اور انہوں نے ایک نیا رسم الخط ایجاد کیا جس کا نام انہوں نے اوستا رکھا اور پھر دوبارہ ان اکیس نکسوں کو اس نئے رسم الخط میں لکھ ڈالا ۔ پھر اگلی یعنی آٹھویں صدی میں ان کا پہلوی میں ترجمہ بھی کیا اور شرح لکھی اور نویں صدی میں دین کرد کے مصنف نے اوستا کا خلاصہ لکھنے بیٹھا تو اس ترجمہ کے بعض حصہ اس مختصر عرصہ مین تلف ہوچکے تھے ۔

پروفیسر کرسٹین کے نظریہ کو اس وقت قبول کیا جاسکتا ہے جب یہ تسلیم کیا جائے کہ اوستا کا مکمل نسخہ مسلمانوں کی آمد تک موجود تھا ۔ مگر اس کی کوئی شہادت نہیں ملتی ہے ۔

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں