36

اوستا میں طب

استا کے گمشندہ ہسپارم نسک میں طبیبوں اور طب کے بارے تفصیل درج تھیں ۔ جس کے متن و شرح دین کرت میں دی گئی ہے ۔ جس میں کہا گیا ہے کہ اہور مزد نے ہر مرض کو دور کرنے کے لیے ایک بوٹی ضرور پیدا کی ہے ۔ اس کتاب میں معالج اور بیماریوں پر بحث ، پیچیدہ اور خیالات کی وضاحت نہ ہونے کی وجہ سے سمجھ سے بالاتر ہیں ۔ اس میں علاج معالجے کے یونانی نظریے کو توڑ موڑ کر اسے زرتشتی عقیدے کے مطابق یہ بتایا ہے کہ تمام مرض اور عیب کا منبع روح شر ہے اور سردی و خشکی اس منبع سے صادر ہوتی ہے ۔ اس میں مختلف بیماریوں کے بارے کہا گیا ہے کہ ان تعلق گناہ سے ہے اور اخلاقی عیب مثلاً جہالت ، فریب ، غصہ ، غرور ، تکبر اور شہوت نفس کو اسی طرح بیماریوں کا سبب بتایا ہے ۔ اس طرح جسمانی خرابیاں مثلاً سردی ، خشکی ، بدبو ، تعفن ، بھوک ، پیاس ، بڑھاپا اور رنج و الم کو امراض کا سبب بتایا گیا اور بیماریوں کی ۴۳۳۳ قسمیں بتائی گئیں ہیں اور مثال میں کچھ بیماریوں کے نام بتائے گئے ہیں ۔ دین کرت کے مطابق طبیب کے لیے ضروری ہے کہ وہ وسیع مطالعہ رکھتا ہو ، معائنہ کرنے صلاحیت ، جسم انسانی کے اعضا اور جوڑوں اور دواؤں کا پورا علم رکھتا ہے ہو اور شیریں کلام ہو ۔ بہترین طبیب چار چیزوں یعنی روپیہ ، بہبودی ، شہرت اور ثواب آخرت میں سوائے آخرت کے کسی چیزکی تمنا رکھتا ہو ۔   

طبیبوں کے قواعد اور علاج کی شرح مقرر تھی اور اجرت میں اشیائے خوردنی ، کپڑے اور گھوڑے بھی طلب کیے جاسکتے ہیں ۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مختلف طبقے کے لوگوں کی فیس حد مقرر تھی ۔ کسی عضو یا سارے جسم اور کسی خاص بیماری کے علاج سے اس کی شرح میں فرق ہوسکتا ہے ۔ طبیب کو احتیاط ، صفائی اور پختہ تذبیز کے ساتھ علاج کرنا چاہیے ۔ اسی نسک میں چھوٹی بڑی بیماروں اور وباؤں کی تفصیل دی گئی ہے ۔ لیکن اجنبی طبیب سے علاج کراوانا سخت گناہ بتایا گیا ہے ۔ نسکاذم نسک میں ماہر طبیبوں امراض چشم کے معالجوں کا ذکر ہے ۔ اس میں پالتو جانوروں اور دیوانے کتوں کے علاج پر بحث ہے ۔ نسکاذم نسک میں علم طب و بیطاری (جانوروں کا علاج و معالجہ) کی بعض تفصیلات دی گئی ہیں ۔         

علاج کے طریقوں میں پہلا طریقہ اودیہ ، دوسرا آہن (چھری) ، تیسرا بذریعہ آگ سے تھا ۔ اگر آگ سے فائدہ نہ ہو تو پھر مرض لاعلاج سمجھا جاتا تھا ۔ وندیداد نسک میں علاج کے طریقوں میں نشتر ، نباتات اور کلام مقدس بتایا ہے ۔ جس میں کلام مقدس سب سے زیادہ موثر جاتا تھا ۔ ایران میں طبیبوں کو غالباً درست بذ یا ایران بذ کہا جاتا تھا ۔

علاج کے باالذکر طریقے جو کہ اوستا سے اخذ شدہ بتائے گئے ہیں ناقابل یقین ہیں کہ اس وقت تک طب نے اتنی ترقی کرلی تھی ۔ جب کہ اس وقت انسان کا شعور تمدن کی ابتدائی منزلوں پر تھا ۔

زرتشت کے وقت معاشرہ ابتدئی سطح پر تھا اور انسان صرف چند ہی معاشرتی معاملات سے آشنا ہوا تھا اور انسانی شعور کی سطح اتنی بلند  نہیں ہوئی تھی کہ قانون کی حد بندیاں کردی گئیں تھیں جس کا اوستا کے مختلف نسکوں میں ذکر ہے ؟ یقینا اس کا جواب نفی میں ہوگا ۔ کیوں کہ ہم قانون کو ہی دیکھیں تو ہخامنشی سے لے کر ساسانی دور تک مطلق العنانی اور خدائی حاکمیت کا جذبہ نظر آتا ہے اور حاکم کا حکم قانون سمجھا جاتا تھا ۔ یعنی اس زمانے میں قانون ابتدائی ارتقاء کے مرحلے سے گزر رہا تھا ۔ ہمیں ایرانی معاشرے میں قانون کے اصول و ضابطہ ساسانی دور میں نظر آتے ہیں اور اسی دور میں بھی زراعت ، سپاہ گیری ، قانونی ، جرم اور طب اس وقت ارتقائی عمل سے گزر رہا تھا اور نہ ان پر لمبی اور طویل بحث کسی معاشرے میں ملتی ہیں ۔ ہم یہاں اس پر مثالوں سے گریز کر رہے ۔ کیوں کہ اس طرح یہ بحث طویل ہوجائے گی ۔ لیکن  یہ کہیں گے یہ سب بعد کی اخترع ہیں اور ان کا اوستا کے زمانے سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں