32

اوستا میں قانون

ساسانی سوسائٹی کے اطوار کے بارے میں ایسے قانون دیوانی کے ذریعہ منضبط کیا گیا جس کی بنیاد اوستا و ژند پر تھی اور جو بہت مفصل تھا ۔ دین کرد میں جو خلاصہ دیا گیا ہے اس میں قانونی دیوانی کے بہت آثار پائے جاتے ہیں لیکن کسی جگہ پر تفصیل نہیں آتی ہے ۔ بعض مفصل اطلاعات میں اکثر حالتون میں فقہا کی مختلف تفسیریں بھی شامل ہوتی ہیں ۔ کتاب مدیکان ہزاد دادستان کے اجزا میں پائی جاتی ہیں    دین کردہ کے مطابق اوستا کے ایک نسک میں ججوں کے بارے بتایا گیا ہے وہ دس ، گیارہ ، بارہ ، تیرہ ، چودھ اور پندرہ سال علم فقہ کی تحصیل کی جاتی تھی ۔    اوستا اور اس کی تفسیریں اور اجماع نیکاں ینعی فقہ کے فتوے قانون کے ماخذ تھے ۔ مجموعہ قوانین کی کوئی خاص کتاب نہیں تھی ۔ لیکن ساسانی اوستا کے نسکوں کے وہ خلاصے جو دین کرت میں ہیں اس سے لگتا ہے کہ اوستا کے کئی نسکوں میں قانونی مسائل پر بحث تھی ۔ یہ خلاصہ ساسانی اوستا اور اس کی تفسروں کو سامنے رکھ کر بنایا گیا تھا ۔ جو غالباً خسرو اول اور دوم کی یادگار ہیں ۔ اس میں قدیم ترین تفسیروں کے مطالب کو داخل کرلیا گیا اور ان پر نئے حاشے چڑھائے گئے ۔ غرض علم فقہ کی تمام تفصیلات جن کا دین کرت میں اشارے ہیں بیشتر مفسرین کے اقوال پر مبنی ہیں اور عہد ساسانی کے ضابطہ عدالت کا پتہ دیتی ہیں ۔

ذکاذم نسک اور دُزد سرنِرد نسک میں مخلوط عدالتوں کا ذکر آیا ہے ۔ یعنی ایسی عدالتیں جن میں مختلف درجوںکے جج مل کر بیٹھتے تھے ۔ قانون کی طرف گواہوں کو بلوانے کی مہلت ملتی تھی ۔ شک کی صورت میں ملزم کے گناہ یا بے گناہی کو بطریق امتحان کیا جاتا تھا ۔ ان میں ایک امتحان گرم اور دوسرا سرد امتحان ہے ۔ گرم امتحان (درِگرم یا گرموگ دریہیہ) میں ملزمان کو آگ وغیرہ سے گزرا جاتا تھا ۔ خود زرتشت نے اپنے سینے پر پگھلی ہوئی دھات اندیل کر اپنی صداقت کو منوایا تھا ۔ سرد امتحان (درِ سرد) مقدس شاخوں کے ذریعے سے عمل میں آتا تھا ۔ اس کو برسموگ وریہہ کہتے تھے ۔ ایک اور امتحان جس میں گندھک ملا پانی پینے دیا جاتا تھا ۔ اس سے فارسی محاورہ سوگند خورون وجود میں آیا ہے غالباً یہ حلف کی کوئی صورت تھی ۔

دین کردہ کے مطابق اوستا کا ایک نسک میں ججوں کے بارے میں امتیاز کیا گیا ہے ۔ جنھوں نے دس ، گیارہ ، بارہ ، تیرہ ، چودھ اور پندرہ سال علم فقہ کی تحصیل کی جاتی تھی ۔ عدالتی عہداروں کے خاص نام تھے جو کہ ہیر بد ججوں کی حثیت سے فیصلے ہوتے تھے ۔ لیکن عدالت کے انتہائی اختیارات بادشاہ کو حاصل تھے ۔ ساسانی عہد میں ججوں کا ذکر جن کو دازور کہا جاتا تھا ، تمام داؤدرِ یا داؤدر داؤدران کہلاتا تھا ۔ ایک اور عہدہ سار آئین بذ تھا ، گویا رئیس محافظ آئین و آداب جس کے متعلق شواہد ہیں کہ اسے بھی جج کے فرائض ادا کرنے ہوتے تھے ۔ ہر ضلع کی کچہریاں ایک قاضی شرع کے ماتحت ہوتی تھیں ، جس کا فرض ہوتا تھا کہ وہ نگرانی کریں کہ عدل و انصاف کا کام تسلی بخش ہو رہا ہے ۔ اس کے علاوہ ہر صلع میں بعض اور بھی اونچے احکام عدالت تھے ۔ جن میں سے ایک سرد شورزدایگ یعنی ناظر سرعی اور دوسرا دستور ہمداؤ تھا ۔

پہلوی میں قانون کی کتاب ’مادیگان ہزار دادستان’ (ہزار فیصلوں کی روئداد) جس کے پچپن صفحے محفوظ ہیں ۔ ایک کتاب ’مادیگان’ میں چند قانون دانوں کی آرا درج ہیں اور ان کے نام بھی محفوظ ہیں ۔ وہرام ، دادفتغ ، شاؤش ، پسان دیہہ ، آزاد مردان ، پسان دیہہ برز ، آذر فربگان ، دیہہ پنا ( مگو گان اندرر زبد کے اعلی عہدے پر فائز تھا) خوذای بوذ دبیر ، واییادار ، دیہہ ہرمز ، دہرام شاذ ، یوان یم ، زروان داذ پسر یوان یم ، فرخ زروان ، دیہہ ہرمز ، راماسپ اور ماہان داذ وغیرہ اہم ہیں ۔ اس کتاب کے مصنف نے ایک کتاب ’دست وران’ کا نام لکھا ۔ یہ بھی غالباً قانون کی کتاب تھی جو کہ عہد ساسانی میں پہلوی میں تھی ۔ جو پہلوی میں لکھی گئی تھی اور اس کے ماخذ وہی تھے جو ماویگان کے تھے ۔ اس کا سریانی ترجمہ جو آٹھویں صدی میں فارس کے اسقف اعظم ایشوع بخت نے کیا تھا ۔ لیکن اس عیسائی مترجم نے ایرانی قوانین میں تغیر و تبدل کر دیا ہے کہ وہ اس کے ہم مذہبوں کے مطابق ہوجائے ۔ 

 دارا کے ایک قاضی نے ٖغلط فیصلہ دیا تو اس نے اس کی کھال اتروا کرے اس کی مسند انصاف پر مونڈھ کر اس کے بیٹے کو قاضی مقرر کردیا ۔ یہ فیصلہ اگرچہ انصاف کے منافی ہے مگر اس سے پتہ چلتا ہے کہ اس وقت قانونی ارتقائی عمل جاری تھا ۔ لہذا اوستا میں جن نکات پر بحث اور تفصیل ہے وہ اوستا کے ہر گز نہیں ہوسکتے ہیں ۔

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں