51

اوستا پرپروفیسر براؤن کا تبصروہ

پروفیسر ایڈور براؤن کا کہنا ہے کہ زرتشتی کتاب کا وہ حصہ جسے ہم اوستا کہتے ہیں اور ہم تک پہنچا ہے وہ یہی اجزا ہیں ۔ اس کے علاوہ وہ قطعات جو علحیدہ طور پر بعض پہلوی کتابوں مثلاً نیرنگستان (خاص طور پر اس کے آؤگ مدیگا اور ہادوخت نسک میں پائے جاتے ہیں) اگرچہ اوستا ایک قدیم نوشتے کی حثیت سے زرتشت کی تعلیم کی وجہ سے اہمیت رکھتی ہے ۔ جس نے دوسرے مذاہب پر بھی نہایت گہرا اثر ڈالا ہے اور اس لحاظ سے یہ ایک دلچسپ کتاب ہے ۔ لیکن اس کا مطالعہ ناگوار اور گراں گزرتا ہے ۔ اس کے بعض ٹکرے ابھی تک فہم سے باہر ہیں اور ان کے مطالب واضح ہوجائے تو اس کا پایہ قدر بلند ہو جائے گا ۔ میں اپنے بارے میں کہہ سکتا ہون کہ قران کریم کا میں جتنا زیادہ مطالعہ کرتا ہوں اور اس کی روح سے انتساب کرنے کی کوشش کرتا ہوں اور اس قدر مجھے اس میں زیادہ لطف آتا ہے ۔ لیکن اوستا کو لسانی یا قصص یا مقابلے کی ضرورتوں کے علاوہ کسی اور ارادے سے پڑھنا دوبھر اور بلائے جان معلوم ہوتا ۔ تاریخ مذہب میں اس کا رتبہ قدامت اور تدقیق زبان میں اس کا درجہ بعض ارباب تحقیق کو اور اس کی الہامی حثیت اس کے متبعین کو اپنی جانب کھنچتی رہے گی ۔

پانچواں باب
تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں