34

اوستا کی بازیابی

ایسٹ انڈیا کمپنی نے وینددیدد کے چند صفحوں کو ہندوستان کے پارسیوں سے ۱۷۱۷ء میں حاصل کیے اور انہیں ۷۲۳اء میں لندن بھیج دیے گئے ۔ جہاں یہ بوڈلین لائبریری رکھ دیئے گئے ۔ جہاں پہلے سے یاسنا کا چار صفحہ پر مشتمل ایک نسخہ موجود تھا ۔ فرانس کا ایک نوجوان آنکیل دوپیروں لنڈن آیا ہوا تھا ۔ وہ لائیبریری آیا تو اس نے ان نسخوں کو دیکھا ۔ اسے ان نسخوں میں دلچسپی محسوس ہوئی اور جب استفار کیا تو معلوم ہوا کہ ابھی تک انہیں پڑھا نہیں سکا ہے ۔ البتہ یہ معلوم تھا یہ زرتشیوں کی مقدس کتاب کے نسخے کے حصے ہیں ۔ ان نسخوں کو پڑھے نہ جانے کی وجہ یہ تھی کہ اس وقت تک کسی یورپین نے ایران کی قدیم زبانیں نہیں پڑھیں تھیں ۔ اس نے طہ کیا کہ وہ اس زبان کو سیکھے گا اور اوستا کو منظر عام پر لائے گا ۔

آکتیل کے پاس وسائل نہیں تھے ۔ چنانچہ وہ فرانس کی ایسٹ انڈیا کمپنی میں سپاہی بھرتی ہوکر ۷۵۳اء میں سورت ہندوستان پہنچا ۔ جہاں اس نے پارسیوں سے رابطہ کیا اور ان سے دوستی کی اور مختلف شہروں میں پھر کر ان سے کسی نہ کسی طرح اوستا کے دو نسخے اور کچھ قلمی کتابیں حاصل کیں اور اوستا زبان بھی سیکھی اور نو سال کے بعد ۱۷۶۲ء میں واپس پیرس پہنچا ۔ اس نے اوستا کے وہ نسخے اور کتب فرانس کے شاہی کتب خانے کے سپرد کیے اور ان نسخوں پر تحقیق اور ان کا ترجمہ شروع کیا ۔ آکتے نے مزید نو سال تک دماغ سوزی کرنے کے بعد اوستا اور ان کتابوں کا ترجمہ کیا ۔ اس نے اس ترجمے کو تین جلدوں میں تیار کرکے دنیا کے سامنے پیش کیا ۔

اس نے اوستا کے ترجمہ کے ساتھ حواشی اور چند ایسے رسالے بھی شامل کیے تھے جو اوستا پر مزید روشنی ڈالتے تھے ۔ اس ترجمہ کا علمی دنیا میں نہایت بلند ہے اور آج تک زرتشتی مذہب کے بارے میں جو کچھ ادبی ، لسانی ، قومی اور فلسفیانہ انکشاف مغرب میں ہوئے ہیں وہ سب آکٹیل کے ترجمہ کے طفیل ہوئے ہیں ۔           

اوستا کے اس ترجمہ کو آکٹیل نے ۱۷۷۱ء میں شائع کیا ۔ مگر اس ترجمہ کو بالکل مقبولیت حاصل نہیں ہوئی ۔ کیوں کہ اہل علم و حکماء میں زرتشت کی قدر و منزلت اس کے عمیق فلسفیانہ خیالات کی وجہ سے اس کا مقام بہت زیادہ بلند تھا ۔ کیوں کہ قدیم یونان و روم جن کے توسط سے وہ زرتشت کے خیالات سے واقف ہوئے تھے وہ بھی اس کا ثنا خواں تھا ۔ لہذا انہیں امید تھی کہ اوستا عقل و دانش کا ایک عظیم مرقع ہوگی ۔ لیکن جب انہوں نے اس کتاب کا مطالع کیا تو انہیں اس میں طفلیانہ خرافات ، خشک اعتقادات ، تھکا دینے والے مکررات اور مضحکہ احکام کا ایک لا حاصل انبار دیکھ کر انہیں سخت مایوسی ہوئی ۔ آکتیل کو پہلے ہی اس کا خدشہ تھا اور اس نے اس ترجمہ کے مقدمے اس بات کو پہلے ہی واضع کر دیا تھا ۔

گو اس کی مخالفت جاری تھی مگر اس مخالفت میں سر ولیم جونز نے مزید آگ بھرکادی جو اس وقت آکسفورڈ میں زیر تعلیم تھا ۔ اس نے آکتیل کے نام ایک خط لکھ کر اسے شائع کروادیا ۔ اس خط نے میں ولیم جونز نے آکتیل پر جعل سازی الزام لگاتے ہوئے لکھا تھا کہ اس نے ایک جعلی اور لاطائل فضول معلومات ہم تک پہنچائیں ہیں جو کہ بالکل بے وقعت ہیں ۔ یہاں تک کہ وہ متبذل ہجو اور دشنام پر بھی اتر آیا ۔ اس نے کہا کہ آپ کا کہنا ہے کہ ایران کی قدیم بولی اوستا صرف ان کتابوں میں محفوظ ہیں اور آپ کا کہنا کہ زرتشت نے کہا تھا کہ گناگاروں کو بیل کا پیشاب پینے پر مجبور کیا جائے گا ۔ لہذا اس پوتر عرق کی ایک خوراک آپ بھی استعمال کرلیں ۔ حقیقت میں ایران کی قدیم زبانوں کو اب کوئی نہیں جانتا ہے اور اوستا اور دوسری مذہبی کتابیں خلیفہ (حضرت) عمر کے سپہ سالاروں نے سخت مذہبی عناد میں انہیں ڈھونڈ ڈھونڈ کر برباد کردیا ۔ ٍجب کہ آپ کی یہ کتابیں ان خرافات پر مبنی ہیں اور انہیں کسی قوم کے خیالات نہیں کہا سکتا ہے ۔ ان کتابوں سے یوں لگتا ہے کہ زرتشت عقل و فہم سے خالی تھا ۔ لہذا یہ کتاب جھوٹ و کذب پر مبنی ہے ۔                                                  

ولیم جونز کے اس خط نے اگرچہ آکتے کی مشکلات ضرور بڑھا دیں تھیں لیکن بعد کے زمانے میں یہ خط کی اہمیت ردی کے ٹکڑے سے زیادہ نہیں رہی اور رفتہ رفتہ علماء پر واضح ہوگیا کہ ولیم جونز غلطی پر ہے اور آکتے درست تھا ۔ انگلستان میں سرجان چارڈین اور رچرڈسن (فارسی کا لغت نویس) جرمنی میں مائفر، کلیوکر اور ٹائخ زین جو پہلے ولیم جونز کے حامی تھے اور انہوں نے پہلے آکتیل کا ترجمہ جعلی کہہ کر پھینک دیا تھا ۔ مگر جلد ہی انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوگیا اور اس کی حمایت میں مضامین لکھے اور کلیوکر نے آکتیل کی کتاب کا جرمنی میں ترجمہ کیا ۔ فرانس میں اس کی پزیرائی ہوئی ڈے ساسی نے ساسانی عہد کتبوں کو پڑھنے میں آکتیل کی لغت سے مدد لی تھی اور یہ لغت ان کتبوں کو پڑھنے کی کلید ثابت ہوئی ۔  

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں