30

اوستا کی بربادی کا فسانہ

اوستا جو دین زرتشتی کے مطابق زرتشت پر نازل ہوئی تھی اسے ایستاغ ، ایستاق یا الپتاک بھی کہتے ہیں ۔ تاریخی طور پر ثابت ہوتا ہے کہ اوستا کا اصل نسخہ ہخامنشی خاندان کے زمانے میں برباد ہوگیا تھا ۔ پھر تقریباً چارسو سال کے بعد اشکانی بادشاہ بلاش اول کے دور میں اس کی تدوین ثانی کی کوشش کی گئی ۔ مگر تکمیل ساسانی بادشاہ ارد شیر اربکان کے زمانے میں ہوئی ۔ غالباً گاتھا کے علاوہ بقیہ حصہ کی تصنیف محض حافظہ پر اعتماد کیا گیا ۔ اوستا پر قدیم یونانی فلسفہ کا گہرا رنگ چڑھا ہوا ہے ۔

زرتشتی روایات اور وین کرت Dinkart کے مطابق قدیم اوستا ایک ہزار باب اور اکیس نسکوں (صیحفوں) پر مشتمل تھی ۔ تدوین ثانی کے وقت اس کے کل ۳۴۸ ابواب دستیاب ہوئے ۔ جس کو سابقہ تدوین کے مطابق ان کو بھی اکیس صیحفوں میں تقسیم کیا گیا ہے ۔ جدید محقیقین کا کہنا ہے یہ دوسرا نسخہ بھی باقی نہ رہا ۔ ساسانی نسخہ میں کل تین لاکھ پیتالیس ہزار سات سو کلمات تھے ۔ مگر موجودہ اوستا میں کل تراسی ہزار کلمات ہیں ۔ اس طرح دوسرے نسخہ کا بھی تین چوتھاْئی حصہ باقی بچا ہے ۔ اس موجودہ اوستا کو چار حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے ۔

پروفیسر آتھر کرسٹین کا کہنا ہے کہ ساسانی اوستا کا بہت تھوڑا حصہ باقی ہے ۔ لیکن اس کا خلاصہ کتاب دین کرت کے آٹھویں اور نویں باب میں دیا گیا ہے جو کہ نویں صدی عیسویں کی تصنیف ہے ۔ ساسانی اوستا میں نہ صرف مذہبی احکام تھے بلکہ اس میں جملہ علوم کا دائرۃ المعارف تھی ۔ مسائل مبدا و معاد ، علم اساطیر ، علم نجوم ، علم و کائنات ، علم طبیعی ، قانون ، اخلاق عمل ، غرض جتنی چیزیں ساسانیوں کے زمانے متداول تھیں وہ اوستا کے اکیس نسخوں پر مبنی تھیں ۔ ان نسکوں کے بہت سے متن جو اوستائی زبان میں لکھے گئے تھے غالباً ساسانی اوستا کے مولفین نے خود تصنیف کیے بلکہ یہ بھی ممکن ہے کہ ان میں سے بعض پہلوی زبان میں پہلے سے موجود ہوں اور ان کو اوستائی زبان میں ترجمہ کرکے کتاب مقدس میں شامل کرلیا گیا ہو ۔ گاڈنر کا بھی یہی خیال ہے کہ شاپور ثانی (۳۰۹ ۔ ۳۷۹ء) سے اس کی تدوین و اجتماع کا سلسلہ مسلسل جاری رہا ہوگا ۔

زرتشتیوں کا کہنا ہے کہ اوستا قدیم ایران کی وسیع سلطنت کا دستور العمل تھا اور اس میں نہ صرف شریعت و مذہبی احکام ہی نہیں تھے بلکہ اس میں جملہ دیوانی ، فوجداری و مالی قوانین کی کتاب سمجھی جاتی تھی ۔ اس کے علاوہ اس میں طب ، ہیئت ، کیمیا ، نباتات اور فلسفہ بھی موجود ہے ۔ مغربی محقیقین جن کے سامنے یہ فہرست تھی ان کا کہنا ہے اتنی بڑی کتاب کے اکیلے زرتشت مصنف نہیں ہوسکتے ہیں ۔ بلکہ یہ مختلف لوگوں کی تصنفیں ہیں اور بعد کے زمانے میں یہ مجموعہ اوستا کے نام سے موسوم ہوا ۔ زرتشتی مذہب کی وہ کتابیں جو اوستا میں لکھی گئیں اور ساسانی اوستا کہلاتی ہیں ۔ جو دوسری ژند کتب پہلوی کا ترجمہ اور شرح ہیں اور اوستا ساسانی عہد کا محض ایک چھوٹا سا حصہ ہے ۔ یہ بتانا مشکل کہ ہے کہ اس میں کتنی تخریبیں اور کتنا اضافہ و حذف ہوا ہے ۔ بہر کیف آج جو بھی زرتشت کی تعلیمات ہیں وہ اسی اوستاسے ماخوذ ہیں اور اسی کے ذریعہ زرتشتی مذہب کے بارے میں رائے قائم کی جاتی ہے ۔ اوستاکا ایک مختصر ساحصہ گاتھا کہلاتا ہے اور اس کی زبان دوسرے حصوں سے مختلف ہے ۔ شاید اس کی زبان وہی ہے جو زرتشت کی تھی ۔ جب کہ بقیہ کی زبان اوستا کی نسبت سے اوستا کہلاتی ہے ۔ جو کہ فرنس قدیم یا ہخامنشی زبان قدیم زبان فارسی سے قدرے مختلف ہے ۔ اوستا میں لغو قصے ہیں جن سے زرتشت کے بارے میں کوئی رائے قائم نہیں کی جاسکتی ہے ۔  

تارم شٹیٹرکا کہنا ہے کہ ہخامنشی دور کی کوئی زرتشتی کتاب تھی تو وہ سکندر کے حملہ میں تلف ہوگئی تھی۔ اوستا کی تدوین جس کا صرف ایک حصہ اس وقت موجود ہے پہلی صدی عیسیوی اور پارتھوی بادشاہ والوگر سیز اول (بلاش اول ۵۱۔۷۸) کے زمانے میں شروع ہوئی ۔ ساسانی دور میں شاپور (۲۰۹۔۳۷۹ء) تک اس میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا ہے ۔ اس کا آخری حصہ اسکندریانہ یا جدید افلاطونی فلسفہ معرفت میں ڈوبا ہوا ہے ۔ تعلیم زرتشت کا جنم بھوم میڈیا تھا اور میڈیا کی زبان ذریعہ اظہار اور جیسا کہ بعض پہلوی کتب مثلاً اردہ وراف نامک اور بندہش میں صاف صاف موجودہ ہے ۔ زرتشتی ملت کا آغاز ایام سکندری سے تقریباً تین اور حضرت عیسیٰ سے چھ یا سات صدی قبل ہوا تھا ۔ یعنی ہخامنشی خاندان کے ظہور سے کچھ پہلے ۔ گاڈنر نے اوستا اور زرتشت پر اعتراض کرتے کہا ہے کہ اوستا کا ایک حصہ کم از کم گاتھا خود زوراسٹر یا ان کے حواریوں کے اصل الفاظ ہیں ۔ ان کی تعلیم کا مرکز باختر اور باختر کی زبان ان کی تعلیم کا ذریعہ تھی ۔

گاڈنر اور کوہن کی لسامیات عجم بعد میں اس نے پارسی روایات کو تسلیم کیا زرتشت کے معتقد ہستاسپیز کو دارا کا باپ مان لیا اور سارس کو زرتشت کا معاصر اوستا کا قدیم ترین سال ۵۶۰ ق م ماننے کے تیار ہوگیا ، اصل نسخہ کے تلف ہونے کو تسلیم کر لیا جو کہ سکندر کے حملے اور والوگی سیز کے درمیان ہے اور یہ بھی اقرار کیا کہ دوسری اوستا کو والوگی سیز (بلاش اول ۵۱۔۷۸) نے ازسر نو شروع کیا ۔ جسے ارد شیر ساسانی نے پھر تازہ کیا اور یہ بھی تسلیم کیا کہ شاپور ثانی ۳۰۹۔۳۷۹ء) کے عہد تک اس کی تدوین و اجتماع کا کام مسلسل جاری رہا ہوگا ۔ اس کا کہنا ہے کہ گاتھا کا حصہ سب سے قدیم بلکہ زرتشت کی اصل تعلیم زرتشت کے الفاظ میں ہے اور خود بانی مذہب اور تعلیم جو ایک تاریخی اور واقعہ انسان تھے اور ژٹیٹر کے خلاف عہدہ تاریخ دلائل پیش کرکے وہ باصرار تمام کہتا ہے کہ گاتھا کو سکندریای ادریت Alexandrian Gnosticism کی ہوا تک نہیں لگی ہے اور نہ یہ کہ لفظ وہومنو (بہمن) جو گاتھا میں بار بار آیا ہے جو فیلوجوتی اس لفظ لوگوس تھو (کلام) ربانی کے بطن سے نکلا ہے ۔

دین کرت کا خلاصہ بہت غیر متناسب ہے بعض نسکوں کے متعلق خصوصاً وہ جن میں قانونی مسائل پر بحث کی گئی ہے بہت تفصیل سے بیان کیا گیا ہے ۔ اس کے برخلاف جن نسکوں میں مسلہ آفرنیش بیان کیا گیا ہے بہت تھوڑے الفاظوں میں بیان کیا گیا ہے ۔

پروفیسر آتھر کرسٹین کا کہنا ہے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ساسانی اوستا کا اکثر حصہ عہد اسلامی میں تلف کیوں ہوگیا ؟ ہم یہ جانتے ہیں کہ مسلمان زرتشتیوں کو اہل کتاب مانتے تھے اور نویں صدی تک ساسانی اوستا کا بشتر حصہ باقی تھا یا کم از کم اس کا پہلوی ترجمہ موجود تھا ۔ جس کے ساتھ اس کی شرح موسوم بہ ژند بھی موجود تھی ۔ لہذا ہم کتب مقدسہ کی بربادی کو مسلمانوں کے تعصب سے منسوب نہیں کرسکتے ہیں ۔        

آنکٹے کے زمانے سے آج تک یہ خیال چلا آتا ہے کہ موجودہ اوستا ساسانیوں کی اوستا کا صرف ایک جزو ہے اور ساسانی اوستا بھی حجم میں بس اس قدر تھی کہ ایک دستور آسانی کے ساتھ لوح دل پر محفوظ کرسکتا تھا ۔ نیز وہ اس کامل اوستا کا ایک حصہ جو کے بیل کے مدبوغ چمڑوں پر آب زر سے نشتہ اور احترام و احتیاط کے ساتھ ستغر پیکان میں رکھی رہتی تھی اور جسے ملعون سکندری رومی نے تباہ کردیا گیا ۔ لیکن وایندیداد جو موجودہ اوستا کا ایک اہم حصہ ہے صخامت میں ایک معقول جلد ہے اور ان اکیس نسکوں میں سے ایک نسک ہے جن پر ساسانی اوستا مشتمل تھی ۔ ان نسکوں کے مظامین ہم کو پہلوی کتاب دین کرت کے ذریعے سے بہت کچھ معلوم ہیں ۔ یہ پہلوی کتاب نہایت کارآمد اور غالباً نویں صدی کی تصنیف ہے ۔ یہ بھی اوستا کی طرح اکیس نسک تین مساوی حصوں میں تقسیم ہیں ۔ ایک ’گاسنیک‘ جس میں زیادہ تر عبادت کا طریقہ کار اور دینی مسائل تھے ۔ دوسرا ’داتیک مان سریک‘ فلسفہ و حکمت پر مشتمل ہیں ۔ پہلے سات حصوں میں سے جن سے یہ حصہ مرتب ہوا اور جو دستوروں کے لیے مخصوص تھا ۔ ان کے تین اجزا اب تک باقی ہیں ۔ ان کے نام (۱) استویشت (۲) بکو (۳) ہاتوخت ۔ دوسرے ساتھ نسکوں میں سے جو عوام کے لیے لکھی گئی تھیں تین کس قدر سلامت ہیں ۔ (۱) ویندیداد (۲) ہوس پارم (۳) بکان یشت ۔ آخری کے دو جزوی حالت میں ہیں ۔ تیسرا نسک زیادہ اہم تھا وہ تلف ہوچکا ہے ۔

موجودہ اوستا جو وینددیداد ، یاسنا جو کم از کم دوسرے چار نسکوں سے مرتب کی گئی ہے ، نیز کچھ کچھ جستہ جستہ ٹکڑے ہیں جو بعض پہلوی کتابوں میں بکھرے ہوئے ملتے ہیں ۔ اس میں سے ہسپارم خصوصیت سے قابل ذکر ہے جو نیرنگستان میں محفوظ ہیں ۔ اوستا کے موجودہ اجزا کو پارسیوں نے پانچ بڑے حصوں میں تقسیم کر دیا ہے ۔ ان تفصیل یہ ہے ۔

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں