32

اوستا کی تدوین

پارسی روایت کے مطابق زرتشتی مذہب کی مذہبی کتابوں کی تالیف کا کام ایک اشکانی بادشاہ (بلاش ۵۱۔۷۸ء)    کے حکم سے یہ کام انجام دیا گیا تھا ۔ عہد پارتھی (اشکانی) وہ دور تھا جب کتاب اوستا کا وہ حصہ تصنیف ہوا ۔ جس کو وندی داد (ودیو داد۔ شریعت دیوشکن) کہا جاتا ہے جو زرتشت کے احکام شریعت پر مشتمل ہے ۔ زبان اوستا اس وقت مردہ ہوچکی تھی اور زرتشتی علماء کو اس کے استعمال کرنے میں بہت دقت ہوئی تھی ۔ وندی واد قواعد و رسوم کا ایک مجموعہ ہے جو ملک کے مختلف حصوں میں کسی قدر اختلاف کے ساتھ رائج تھے ۔ جس کی دلیل یہ ہے کہ ان احکام شریعت میں کہیں کہیں بدیہی تناقضات دیکھنے میں آتے ہیں ۔ واندی داو میں مختلف قسم کے گناہوں اور نجاستوں کے متعلق بحث کی ہے ۔ اس میں مردوں کی تجہیر و تکفین کے مسائل ہیں ۔ علاوہ بریں اس ناپاکی کا ذکر ہے جو جسم کو چھونے یا جلانے سے یا اسی قسم کی اور چیزوں سے لائق ہوجاتی ہے ۔ وندی داد میں ہم کو کئی جنوں یا دیوؤں نیز ذرُخ یعنی چڑیلوں اور پائریکا یعنی پریوں یا جادو گرنیوں کے نام فرداً فرداً بتائے گئے ہیں ۔ یہ سب روح شر انگر مینیو (اہرمن) کے ساتھی ہیں ۔ مثلاً ایک دیو کا نام اندرا ہے ، ایک ساؤرد ہے ، ایک ناؤن ہیدیا ہے ۔ یہ تینو قدیم ہندو ایرانی دیوتا ہیں ایک اور دیوتا کا نام اپاؤش ہے ۔ جو مخصوص طور پر تشتیریا (شعرای یمانی) کا دشمن ہے ، ایک بوشیتا ہے جو بہوشی یا نیند کی چڑیل ہے اور ایک نَسو ہے جو لاشوں اور مردہ اجسام کا جن ہے وغیرہ وغیرہ ۔

ویسٹ نے نے حساب لگایا ہے کہ ان اکیس نسکوں میں الفاظوں کی تعدادد ۳۴۷۰۰۰ تھی مگر اب ہمارے سامنے جو اوستا موجود ہے اس کے الفاظوں کی تعداد کل ۸۳۰۰۰ ہے اس کا مطلب ہے کہ صرف ایک چوتھائی حصہ بچا ہے ۔ گاڈنر کو اس تقسیم کے بارے میں کہنا ہے کہ یہ تقسیم ایک حد تک مصنوعی ہے اور غالباً اس لیے بنائی گئی ہے کہ مکمل اوستا اہونہ ویریہ میں جو اوستا کی جان اور اس کا خلاصہ ہے سے مطابقت پیدا کی جائے ۔

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں