30

اوستا کی زراعت

زرتشتی میں زراعت کو بڑی اہمیت حاصل ہے اور اور کتب مقدسہ میں اس کی بڑی عظمت بیان کی گئی ہے ۔ اس سے گمان ہوتا ہے کہ کاشتکاروں کے حقوق کو نہایت احتیاط سے متعین کیا گیا ہوگا ۔ دین کرد کے مطابق اوستا کے بہت سے نسکوں میں خصوصاً ہسپارم اور سکاذم نسک میں اس کے متعلق قواعد و ضوابط کا پورا سلسلہ تھا ۔ مثلاً یہ بتایا گیا تھا کہ نہروں کی مختلف قسمیں ، کس نہر کی کھدوانی کروانی چاہیے ، پانی کو روکنے کے لیے کس قسم کے بند بنوانے چاہیے ، نہروں کی دیکھ بھال اور حفاظت کا انتظام کرنا چاہیے ۔ ان سے فائدہ اٹھانے کی کیا شرائط ہیں وغیرہ ۔ اس طرح بھیڑوں کی تعداد گڈریوں کی حالت اور ریوڑ کے کتوں کی پرورش کے بارے میں قواعد مقرر تھے ۔ جیسا کہ معلوم ہوتا ہے کہ زرتشتی مذہب میں کتے کی بڑی عظمت ہے ۔ چنانچہ اس لیے درزد سرنزد نسک کا ایک پورا باب ریوڑ کے کتے کی قانونی حفاظت کے متعلق تھا ۔

عجیب بات ہے کہ ایرانی علاقوں میں دریا نہ ہونے برابر تھے اور چشمے اور کنوئیں موجود تھے جن کے پانی سے کھیتوں کو سریاب کرکے زراعت کی جاتی تھی ۔ زرعی آلات ایرانی وہی استعمال کرتے تھے جو ان سے پہلے آشوریوں اور بابلیوں نے ایجات کیے تھے ۔ زراعت کی اگرچہ زرتشت بہت فصیلت و عظمت بیان کی تھی ۔ مگر اس کے باوجود زرعی طبقہ نچلہ طبقہ سمجھا جاتا تھا اور یہ کاشتکار زمین کے مالک نہیں ہوتے تھے اور جاگیرداری نظام رائج تھا ۔ اگر اوستا کا یہ نسک میں سب کچھ لکھا ہوتا تو زراعت مزدوروں کی حالت بہتر ہوتی ۔ لیکن ساسانی دور تک ان کی حالت کچھ بہتر ہوچکی تھی ۔ دوسری بات یہ ہے کہ زرتشت کے عہد میں زراعت نے اتنے ارتقائی مراحل نہیں طہ کیے تھے ۔ بلکہ یہ مراحلے تو مسلمانوں کے دور میں اس درجے پر پہنچی تھی اور ہسپارم اور سکارم نسک کا دین کرت میں جو کچھ پیش کیا ہے وہ مسلم عہد کی ترقیاں ہیں ۔

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری
اوستا کی تجارت
سکاذم نسک میں جائداد ، قرضہ اور سود وغیرہ کے متعلق بعض مفصل قواعد بیان کیے گئے ہیں ۔ نیز مویشی ، باربرداری کے جانور اور گھوڑوں وغیرہ کی قرقی اور قرقی کرنے والے کی ذمہ داریوں پر بحث تھی ۔ اس کے علاوہ مدعیوں کی گرفتاری اور اس کے سامان کی ضبطی اور اس قسم کی اور باتیں بیان کی گئی تھیں اور یہ بتایا گیا تھا کہ اگر کہیں سے چھپا ہوا خزانہ برآمد ہو تو اس کے متعلق قانونی احکام کیا ہیں وغیرہ وغیرہ ۔
ایرانیوں نے کبھی تجارت پر توجہ دی نہیں ۔ اس میں شک نہیں ہے کہ ایران کو سیاسی اہمیت حاصل ہوئی تو انہوں نے تجارت پر توجہ دی ۔ مگر ان کی تجارت فنیقیوں ، یہودیوں ، بابلیوں اور یونانیوں کے ہاتھ میں تھی ۔ اگرچہ ایرانی شاہراہوں کو تجارت کی اہمیت کا احساس تھا اور انہیں نے تجارت کو ہر ممکن ترقی دینے کی کوشش کی اور اس کے لیے کئی شاہرائیں بنوائیں ۔ کیوں کہ ایرانی مقبوضات مشرق و مغرب کے درمیان واقع تھے اور ان کے درمیان تجارت ایران کے توسط سے ہوتی تھی ۔ لیکن یہ زرتشت کے دور کی نہیں بلکہ بہت بعد کے بات ہے ۔ اس زمانے میں تجارت نے اتنی ترقی نہیں کی تھی اور یہ ساری باتیں جو زرتشتی نسک میں بیان کیے گئے وہ سب مسلمانوں کے دور کے ہیں اور انہیں زرتشت کے دور سے کوئی واسطہ نہیں ہے ۔ لہذا یہ بھی دین کرد لکھنے والوں کی اختراع ہیں ۔
تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں