28

اوستا کی سپاہ

روایت کے مطابق ساسانی اوستا کے گمشدہ حصوں اور اس کی تلف شدہ پہلوی شرحوں میں فوجی امور کے متعلق بہت سی باتیں بیان کیں تھیں ۔ مثلاً غیر اقوام کے حملے کی صورت میں انہیں روکنا ، کوچوں میں سپاہیوں کی ضروریات اور بیگار وغیرہ پر بحث کی گئی ہے ۔ دین کرت کے مطابق ایک نسک بہ دُزد سرنِذ میں ایک پورا باب ارتیشتارستان تھا جس میں جنگ اور سپاہ اور اسی قسم کے اور اہم امور پر بحث تھی اور کہا گیا ہے دو پاؤں والے بھیڑیوں (دشمنوں) کی بیچ کنی چار پاؤں کی نسبت زیادہ ضروری ہے ۔ باب مذکور میں زرہ پوش اور زرہ پوش فوجوں ، افسروں ، ان کے مراتب ، ہر درجہ کے ماتحت سپاہوں کی تعداد ، ان کی تنخواہیں ، راشن ، گھوڑوں کے راتب اور ساز و سامان اس طرح کی دوسری باتوں کی تفصیلات دی گئی تھیں ۔ اس زمانے میں ہتھیاروں ، جنگ کے سامان (انبارگ) اور سلاح خانوں میں رکھا جاتا تھا اور ان کا محافظ انبارگ بذ تھا ۔ اس کا فرض تھا کہ ہر چیز کو مناسب حالت میں محفوظ اور جب ضرورت پڑے تو ہر چیز تیار ملے ۔ جب جنگ ختم ہوجائے تو پھر چیزیں وہیں رکھ دی جائیں ، گھوڑوں کی خاص نگہداشت کی جاتی تھی اور ان کا علاج ، سپاہیوں کی بھرتی اور جبری بھرتی وغیرہ وغیرہ شامل ہیں ۔ ظاہر ہے یہ سب کچھ اوستا کی نسک میں نہیں ہوگا بلکہ ہم ساسانی عہد کے بارے میں کہہ سکتے ہیں کہ اس زمانے میں حربی فوجوں کی تنظیم میں اتنی ترقی نہیں ہوئی تھی ۔

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری
اوستا میں جرم
نامہ تنسر میں تعزیز کے متلق بعض اطلاع سے معلوم ہوتاہے جرم کے تین درجہ تسلیم کیے جاتے تھے ۔ پہلی صورت جو مذہب سے بزگزشتہ ہوجائے یا عقائد میں بدعت پیدا کرے ۔ دوسری قسم میں بغاوت یا میدان جنگ سے بھاگے ۔ تیسرے وہ جرم جو ایک دوسرے کے خلاف ہوں ۔ ابتدائی صدیوں میں پہلی اور دوسری صورت کے جرموں الحاد ، بغاوت ، غداری اور فرار کی فوری سزا دی جاتی تھی ۔ دوسرے جرموں مثلا چوری ، راہزنی ، ہتک ناموس کی سزا کبھی جسمانی عقوبت اور کبھی موت ہوتی تھی ۔ تازیبی سزائیں اس زمانے سخت ہوتی تھیں ۔
سکازم نسک میں اس قسم کے جرائم جیسا کہ چوری رہزنی ، ضرر رسانی ، قتل ، حبس بیجا ، کسی کو سامان خور د نوش سے محروم کرنا ، بیجا طور پر مزدوروں کی اجرت کم کرنا ، جادوگروں کا کسی شخص کو نقصان پہنچانا وغیرہ کے متعلق دعویٰ دائر کرنے اور مقدمہ چلانے کے قواعد بیان کیے گئے ہیں ۔ اس کے علاوہ بعض اور قانونی مسائل پر بحث تھی کہ مثلاً ایک بچے کو کس حد تک ملزم قرار دیا جاسکتا ہے ، یا کسی اجنبی کے خلاف قاتل کو بھڑکا نے کی سزا ہے وغیرہ ۔ لیکن لیکن دین کرد کے خلاصے میں ان باتوں کی تفصیل نہیں بلکہ اشارے کیے گئے ہیں ۔ اس نسک میں عدالتی کاروائی بذریعہ امتحان سے کی جاتی تھی اور جادوگروں کو موت کی سزا دینے پر بھی بحث تھی ۔
اس زمانے میں اتنی باریک بینی اور تفصیلات جرم کے بارے میں نہیں ہوتی تھی اور سزا بھی منصف کی مرضی پر منحصر ہوتی تھی ۔
تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں