51

اوستا کی مذہبی کتب کی نئی تدوین

پروفیسر آتھر کرسٹین کا کہنا ہے کہ کہا جاسکتا ہے کہ اوستا کی بربادی وجہ زندگیوں کی سختیوں نے زرتشتیوں کو فرصت نہیں دی کہ کتب مقدس کے صخیم مجموعے کی نقل کرتے ۔ اس لیے وہ نستک جن میں قانونی مسائل پر بحث تھی کے علاوہ سب بھلا دیے گئے ۔ کیوں کہ ان کی اب اہمیت باقی نہ رہی تھی ۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ نستک جن میں مسلہ آفزیش اور دوسرے اصولی عقائد تھے کیوں محفوظ نہ رہے ؟ اس کا مختصر جواب تو یہ ہے کہ عربی حکومت کی ابتدائی صدیوں میں زرتشتی مذہب اصلاح کی گئی تو عامیانہ اساطیر اور عقائد جو ساسانی اوستا میں مسطور تھے خود زرتشتیوں نے اپنی مرضی سے تلف کردیے ۔ جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں متھرا ، زروان اور اناہتا کی پوجا اور اس کے بارے میں سارا لٹریچر غائب کر دیا گیا اور نئے عقائد مدون کیے گئے اور ایک ایسے نظام مذہب کو دیکھایا گیا جو موجودہ اوستا اور پہلوی کی نئی کتابوں دیکھایا جاتا ہے ۔ مگر ساسانی عہد میں ایرانیوں کے مذہب کے متعلق ہم کو اطلاعات بازنتینی ، سریانی اور ارمنی مصنفوں کی کتابوں میں بکھرے ملتے ہیں ان میں ان کے عقائد ، اساطیر اور مسلہ آفرنیش کو عجیب و غریب طریقہ سے بیان کیا گیا ہے ۔ 

پروفیسر کرسٹین کا کہنا ہے کہ پہلوی زبان کی تقریباً تمام زرتشتی مذہبی کتابیں جو آج ہمیں ملتی ہیں وہ ساسانیوں کے بعد کے زمانے کی تصنیف ہیں اور خاص کر یہ نویں صدی عیسویں میں علمائے زرتشت نے لکھیں ہیں ۔ زرتشتی مذہب کی وہ کتابیں جو اوستا میں لکھی گئیں اور ساسانی اوستا کہلاتی ہیں دوسری ژند کتب پہلوی کا ترجمہ اور شرح ہیں ۔ جب کہ اوستا ساسانی عہد کا محض ایک چھوٹا سا حصہ ہے ۔ ان اکیس گمشدہ نسکوں کا خلاصہ پہلوی کتاب دین کرد کی آٹھویں اور نویں جلد میں دیا گیا ہے ۔ ژند کے جو حصہ باقی بچے ہیں ان میں اور پہلوی کتب دینی میں ان کے شارحین کے نام ابہرگ ، ماہ گشناسب ، گوگشناشب ، کے آذر بوزیذ ، سوشینس ، روشن ، آذر ہرمزد ، آذر فربگ نرسی ، میذوگ ماہ ، فرخ ، افروغ اور آزاد مرد درج ہیں ۔ ان میں سے اکثر غالباً عہد ساسانی کے آخری عہد میں گزرے ہیں ۔ اوستا کے فلسفیانہ نسک یعنی ہاتتک مان سریک تلف ہوچکے ہیں ۔ یہ کتابیں غالباً زرتشتی رہنماؤں کی مفاد میں نہیں تھیں ۔

مذہب زرتشتی سے واقفیت بہم پہنچانے کے دو ذریعے ہیں ۔ ایک تو موجودہ اوستا اور پہلوی زبان میں دینیات کی کتابیں جو ساسانی زمانے کے بعد لکھی گئیں اور دوسرے غیر ایرانی مصنفوں کی کتابیں جن میں ساسانی زرتشیت کے متعلق اطلاعات درج ہیں ۔ یہ دو قسم کے ماخذ زرتشتیت کا جو خاکہ جو پیش کرتے ہیں وہ ایک دوسرے سے مختلف ہیں ۔ لیکن اس اختلاف کی وجہ بخوبی سمجھ میں آتی ہے ۔ ساسانیوں کے زمانے کا سرکاری مذہب تحکم آمیز تعلیمات پر مبنی تھا جو اس زمانے کے آخر میں بوسیدہ اور بے جان ہوگئی تھیں ۔ لہذا اس کا انحطاط ناگہانی اور قطعی ہوا ۔ اسلام کی فتح کے بعد زرتشتیت کی دنیاوی طاقت جاتی رہی تو موبدوں کو مذہب کو کامل انحطاط سے بچانے کے لیے انتہائی کوشش کی ۔ چنانچہ انہوں نے اور اس طرح کہ زروانی عقیدے اور اس کے طفلانہ اساطیر کو نکال پھینکا گیا اور غیر زروانی مزدائیت کو نئی سنت قرار دیا گیا ۔ اس کی وجہ سے آفرنیش کائنات کا نظریہ بھی بدل گیا ۔ پرستش آفتاب اور اناہتا منسوخ کردی گئی تاکہ اہور مزد کی وحدانیت زیادہ نمایاں ہوجائے اور متھرا (مہر) کے مقام کو اس طرح متعین کیا گیا کہ وہ قدیم مہریَشت کے ساتھ موافق ہوگیا ۔ بہت سی مذہبی روایات کو حذف کیا گیا یا بدل دیا گیا اور ساسانی اوستا کے ان حصوں کو جن میں زروانیت سرایت کر گئی تھی مع ان کی شرحوں کے نکال دیا گیا یا رفتہ رفتہ طاق نسیان کے سپرد کردیا گیا ۔ چنانچہ یہ بات قابل غور ہے کہ آفرینش کائناٍت کے متعلق جو نسک ہیں ان کا خلاصہ دین کرت میں صرف چند سطروں میں دیا گیا اور ان میں بھی کوئی بات واضح نہیں ہے ۔ یہ تبدیلیاں ساسانی عہد کے بعد کی تاریک صدیوں میں رونما ہوئیں ۔ پارسیوں کی کتابوں ان اصلاحات کی طرف کوئی اشارہ نہیں پایا جاتا ہے ۔ اصلاح شدہ زرتشیت کو نہایت سادگی کے ساتھ اس طرح دیکھایا گیا ہے کہ گویا وہ ہمیشہ سے اسی شکل میں چلی آرہی ہے ۔ اس طریقے سے علمائے زرتشتی نے اپنے دلائل کے حربوں سے مسلح کرلیا تاکہ وہ دوسرے مذاہب کے ساتھ حتیٰ کہ وہ اسلام کے ساتھ بھی مجاولہ کرسکیں اور شروع ہی میں مغلوب نہ ہوجائیں ۔ کتاب شکند گمانیگ وِزار میں جو زرتشتیت کی حمایت میں لکھی گئی ہے اور اس میں یہ مجاولہ بڑی قابلیت کے ساتھ شروع کیا گیا ہے ۔ اس وقت زروانیوں کی حثیت محض ایک زرتشتی فرقہ کی رہ گئی ۔ چنانچہ شہر ستانی نے اس کا ذکر کیا ہے ۔

ان میں کتاب ’داوستان مینوگ خرد’ (تعلیم عقل انسانی) جو غالباً ساسانی عہد کے آخر میں لکھی گئی تھی موجودہ شکل میں ساسانی عہد کے بعد وجود میں ۔ ’رویای ارواگ وراز کتاب’ بھی ساسانی دور کی ہے اور ان سب سے اہم ’دین کرد’ ہے ۔ کتاب بندہشن جس میں ساسانی اوستا اور ژند کے ان حصوں کا خلاصہ ہے جن میں مسلہ آفزاینش ، اساطیر ، علم کائنات اور تاریخ طبیعی کے متعلق ہے ۔

ویسٹ کی تحقیقات کے مطابق اوستا کے انگریزی ، فرانسیسی اور جرمن میں کثرت سے ترجمے ہوچکے ہیں اور اوستا کے پہلوی تراجم کی تعداد ۲۷ ہیں ۔ ان میں بعض مکمل اور بعض ٹکڑوں میں ہیں اور ان کے مجموعی الفاظ ایک لاکھ اکتالیس ہزار شمار کیئے ہیں ۔ لیکن ان کا شمار ادبیات میں نہیں ہوسکتا ہے ۔ کیوں کہ مترجموں نے الفظ کے نیچے لفظ رکھ دیا تھا ۔  

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں