29

اوستا کی کتابیں

    وندیداد Vendidad

 یہ عہد پارتھی میں تصنیف ہوا جس کو وندآؤ یود (دِیو داد یعنی شریعت دیو شکن ) کہ جاتا ہے جو زرتشت کے احکام شریعت پر مشتمل ہے ۔ یہ قواعد و رسوم کا ایک مجموعہ ہے جو کہ ملک کے مختلف حصوں مں اختلاف کے ساتھ رائج تھے ۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ کہیں کہیں تناقضات دیکھنے آتے ہیں ۔ اس میں مختلف قسم کے گناہوں اور نجاستوں پر بحث کی گئی ہے اور توبہ و تطہیر کے مسائل بتائے گئے ہیں ۔ اس کے علاوہ افعال جور و تعدی اور مخلوقات مطہرہ (انسان ، کتا اور اودبلاؤ) کی خونریزی سے بحث کی گئی ہے ۔ پھر مردوں کی تجہیر و تکفین کے مسائل ہیں ۔ جن کے متعلق حکم ہے کہ انہیں دخموں (مینار خاموشیاں) پر کھلا چھوڑا جائے کہ شکاری پرندے انہیں کھا جائیں ۔ کیوں کہ لاشوں کو دفن یا جلانے سے عناصر کو ناپاک کرنا قطعاً ممنوع ہے ۔ اس کے علاوہ ان ناپاکیوں کا ذکر ہے جو مردہ جسم کو چھونے سے ہوجاتی ہے ۔ وندی داد میں کئی جنوں یا دیوؤں نیز دُرُج یعنی چڑیلوں اور پائریکا (پریوں یا جادوگرنیاں) کے نام بتائے گئے ہیں ۔ یہ سب روح شر (انگر مینیو یعنی اہرمنکا لشکر ہیں ۔ مثلاً ایک دیو کا نام اندرا ، اہل ساؤدَ ، ایک ناؤن ہَیدیا ہے ، یہ تینوں قدیم ہندو ایرنی دیوتا ہیں ۔ ایک اور دیو کا نام اپاؤش ہے جو مخصوص طور پر تَشُتریا (شعری یمانی) کا دشمن ہے ۔ ایک بُوشِیَستا ہے جو بہوشی یا نیند کی چڑیل ہے ، ایک نَسو ہے جو مردہ اجسام کا جن ہے وغیرہ وغیرہ ۔  

بقول گاڑنر کہ یہ پارسیوں کے احبار یا قوانین مذہب کی کتاب ہے ۔ جس میں آداب طہارت و استغفار اور کفارہ کے طریقے ہیں ۔ وندیداد کے فرگرہ (ابواب) کی تعداد ۲۲ اور پہلے باب میں ان پاکیزہ زمیننوں کے خطوں کی پیدائش کا بیان ہے جو اہورا مزدہ نے پیدا کیں ہیں اور اہورا مزد کے مقابلے میں اہرمن (انرومین یوش) کی خراب زمینوں کا بیان ہے ۔ ان ممالک کے متعلق جو اہل اوستا کو معلوم تھے ۔ تمام بحثوں کا دارو مدار اسی باب پر ہے ۔ دوسرا حصہ جمشید کی داستان ہے اور تیسرا دینوی خوشی و ناخوشی کے متعلق ہے ۔ بقیہ ابواب میں دینی احکام و مذہبی قوانین کے متعلق ہے ۔ ان میں زیادہ تر حثیت ارواح (دیوؤں) سے بچنے کے طریقے ، کفارہ ، توبہ ، تزکیہ ، طہارت ناخن و بال تراشنے کے اصول درج ہیں ۔ پہلا باب اہرمزد کی مخلوقات اور انوامینیو (اہرمن۔شیطان) کی مخالف مخلوقات پر بحث کرتا ہے ۔

اوستا کے بے شمار مقامات سے پتہ چلتا ہے کہ عناصر طبعی کی پرستش ہمیشہ دین زرتشتی کی اصولی خصوصیت رہی ہے اور ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ زرتشتی آگ اور پانی اور مٹی کو آلودہ کرنے کس قدر پرہیز کرتے ہیں ۔ غیر ایرانی مصنفین بھی اس بات کی تصدیق کرتے ہیں ۔ اگاتھیاس لکھتا ہے کہ اہل ایران سب سے زیادہ پانی کا احترام کرتے تھے ۔ یہاں تک کہ پانی سے منہ دھونے سے پرہیز کرتے ہیں اور سوائے پینے یا پودوں میں دینے کے اور کسی غرض کے لیے اس کو نہیں چھوتے تھے ۔ وندیداد میں مذہبی تطہیر کے لیے اگر کوئی چیز پانی سے زیادہ موثر سمجھتے تھے تو وہ گائے کا پیشاب ہے ۔

    یسنا Yasna 

اس کے ۷۲ باب ہیں جو ہائتی یا ہا کہلاتے ہیں اور ان کی تعداد کے لحاظ سے گشتی یا زنار ۷۲ دھاگاؤں سے جوڑتے ہیں ۔ پارسی ہندوؤں کی طرح بچوں کو دین میں داخل کرنے کے لیے اسے کشتی پہناتے ہیں ۔ یسنا کے معنی حمد و نماز کے ہیں اور اس میں گاتھا کا حصہ شامل ہے ۔ اس میں عبادت کے طور طریقے اور مقدس گیت درج ہیں ۔ جو مختلف فرشتوں ، مقدس روحوں اور پاک ہستیوں کی شان میں ہیں ۔ یہ مذہبی سرود ہیں جو مذہبی رسوم کی ادائیگی کی وقت پڑھے جاتے ہیں ۔ گاتھا کے نثر کے درمیان منظوم قطعات ہیں ۔ جن کی نوعیت مذہبی ترانوں کی ہے ۔  

    ویسپیرد یا ویسپرت Vispred

اس کے باب ۲۳ تا ۷۴ تک ہیں اور کردے کہلاتے ہیں ۔ مگر یہ کوئی علحیدہ اور مستقل کتاب نہیں ہے بلکہ مذہبی وظائف اور تسبیحات و تمہیدات کا ایک مجموعہ ہے ۔ یاسنا کی طرح اس کا ضمیہ عبادت کے لیے یاسنا کے ساتھ کام میں آتا ہے ۔ اس کی ہر فصل کو ’کردہ’ کہتے ہیں ۔ 

    یشت Yasht 

یشت کے معنی نیاز و فدیہ کے ہیں ۔ فارسی لغت میں یشتن کے معنی عبادت گزاری کے ہیں ۔ یہ مناجاتوں یا مذہبی ترانوں اور دوسرے خرافاتوں مثلاً زمین و کائنات کی تخلیق ، جمشید کی داستان ، ارواح خبیث بچنے کے طریقہ ، کفارہ ، توبہ اور تزکیہ نفس پر مشتمل ہے ۔ یشتوں کی تعداد اکیس ہے ۔ ان کچھ چھوتے ہیں اور کچھ بڑے ہیں ۔ یہ ایک طرح کے بھجن ہیں جو مختلف ملائکہ اور ارواح مقدسہ کے لیے مخصوص ہیں ۔ یعنی شیطانوں اور ایزدوں کے لیے پارسی مہینوں کا ہر دن ان میں سے ہر ایک کے لیے مخصوص ہے اور اس کے نام پر اس کا نام پر مقرر ہے ۔ پارسیوں کا عقیدہ ہے کہ ہر ایک پاک روح کے لیے ایک یشت مخصوص ہے ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلے یشتوں کی مجموعی تعداد تیس تھی ۔ اور ان کے نام یہ ہیں ۔

(۱) ہرمزد یشت (۲) ہفت امشاسپند یشت (۳) اردی بہشت یشت (۴) فرواد یشت (۵) آبادان یشت (۶) خورشید یشت (۷) ماہ یشت (۸) تیر یشت (۹) گوش یشت (۱۰) مہر یشت (۱۱) سروش (۱۲) رشن یشت (۱۳) فرر دین یشت (۱۴) بہترام یشت (۱۵) رام یشت (۱۶) دین یشت (۱۷) یشت ارد یشت (۱۸) اشتاد یشت (۱۹) زامیاد یشت (۲۰) ہوم یشت (۲۱) دیند یشت ۔

ان کی ترکیب گو شاعرانہ نہیں ہیں لیکن پھر بھی ان میں ترنم پایا جاتا ہے اور ان کی حثیت سرور کی ہے ۔ زرتشتی عقیدے مطابق ہر دن ایک خاص روح مجرد اشپند Anashaspands اور ایزد سے متعلق ہیں ۔ یہ تمام یشت ان ہی امشپندان اور ایزدان کی تعریف و توصیف میں ہیں ۔

    اوستا خرد 

مذکورہ چار حصوں کے علاوہ ایک مختصر سا حصہ بطور ضمیہ بھی اوستا میں شامل ہے ۔ جس کو اوستا خردہ کہتے ہیں ۔ پہلوی میں اس کا نام خرتک اپستاک ہے ۔ اس کو آذربد مہرا سپند Adhra Padh Maras Pand نے نام کے ایک موبد موبدان نے شاپور دوم کے عہد میں مدون کیا تھا ۔ اس میں نماز ، مناجات ، دعائیں سعد سعادتوں مہینوں اور دنوں وغیرہ کے متعلق ہیں ۔ اس کا متن کچھ تو اوستا اور کچھ پاژند سے لے گئے ہیں ۔ یہ وضائفوں اور پانچ نیایشوں یعنی مناجاتوں پر مشتمل ہے ۔ اس میں چاند ، سورج ، متھرا ، پانی ، رب النوم اور آتش بہرام کو مخاطب کیا گیا ہے ۔ اس میں نمازوں کے سوا پانچ گاہیں خورد و کلاں ، سی روزہ اور چار آفریدگان (برکتیں) بھی شامل ہیں اس میں پانچ نیائشیں Nyaishes ہیں جو آفتاب ، ماہتاب ، مترا ، اردویسور (آبی روح) ، بہرام آریائی ورتیرہ Varitra اوستائی ورثرغن Vqri thragan پہلوی ورہرام Rehram فارسی بہرام یعنی ستارہ مریخ کی شان میں کہے گئے ہیں ۔ ان نیایشوں کے علاوہ دو سیروزہ چھوٹے بڑے مہینے ہیں اور تیس فرشتوں کے متعلق ہیں ۔ 

    ژند و پاژند

اوستاکے بعد دو اور کتابیں ہیں جو ژند اور پاژند کے ناموں سے مشہور ہیں ۔ ژند حقیقتاً اوستا کی پہلوی تفسیر ہے ۔ مگر اصل کتاب کے ساتھ اس حد تک خلط ملط ہوگئیں ہیں کہ عام طور پر اس کو اوستا کا حصہ سمجھا جاتا ہے اور لوگ اوستاکو ژند اوستا کہنے لگے ۔ خیال کیا جاتا ہے کہ ژند کی تصنیف اشکانی بادشاہ بلاش کے عہد میں ہوئی تھی اور اس کو اصل کتاب میں شامل کردیا گیا ۔ یعنی اوستائی عبارت کے ساتھ اس کی تفسیر و ترجمہ بھی درج کردیئے گئے ۔ مگر اشکانی عہد کی تفسیر باقی نہیں رہی ہے ۔ موجودہ ژند ساسانی عہد کی تدوین ہے ۔

اوستا اور ژند کو جب ملا کر بولتے ہیں تو اوستا کے متن کے معنی دیتا ہے ۔ اسے الٹ کر ژند اوستا بھی کہدیتے ہیں ۔ مگر یہ بالکل غلط ہے ۔ کیوں کہ پارسی کی الہامی کتاب کا متن اوستا اور اس کی پہلوی شرح (ترجمہ و تفسیر) ژند کہلاتی ہے جو عموماً متن درج کی جاتی ہے ۔ لہذا زبان ژند سے مراد پہلوی میں تفسیر کے ہیں ۔      

    پاژند یا پانیتی ازنیتی Paiti zinti 

یہ ژندکی تفسیر ہے اور اس زبان ژند کی زبان سے زیادہ واضح ہے ۔ یعنی آرامی Aramai یا خوزدارش Haz vivch مصلحات کے بجائے پہلوی کی خصوصیت ہے ۔ اس میں فارسی الفاظ استعمال ہوئے ہیں ۔ گو اس زبان کو پہلوی کہتے ہیں ، مگر اصل میں یہ پہلوی اور فارسی کے درمیان کی زبان ہے ۔

    گاتھا

یہ یاسنا کا ایک باب جس کی زبان اوستا سے قدیم ہے بقول گاڈنر کہ گاتھا زرتشت کی اصل تعلیم ان کے اصل الفاظ میں ہے اور ثابت کرتی ہے کہ زرتشت اصلی انسان تھے ۔ اس کا کہنا ہے گاتھا کو سکندریائی ادریت Alexanderian Gnosticsm کی ہوا تک نہیں لگی ہے ۔ کلمہ وہومنو (بہمن) جو گاتھا میں بار بار آیا ہے لوگوس تھوس (کلام ربانی) کے بطن سے نکلا ہے ۔

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں