30

اوستا کے صخیم اور تلف ہونے کا فسانہ

موسیو فرانسوا نو اور پروفیسر آتھر آسٹین کا نظریات دونوں قابل اعتراض ہیں اور اس پر طویل بحث کی ضرورت ہے ۔

ایرانی عہد قدیم سے ہی ایک بڑی فوجی طاقت تھے اور انہوں نے اہنے ارد گرد کی قوموں کی برتری کو کبھی قبول نہیں کیا ۔ رومیوں اور اس سے پہلے کی قوموں کو چیلنج کرنے والے ایرانی تھے اور ایرانیوں نے کبھی رومیوں کی بالادستی کو قبول نہیں کیا اور انہیں بارہا میدان جنگ میں شکست دی بلکہ کئی رومی بادشاہوں کو اسیر بھی کیا ۔

ایرانی ایک فوجی طاقت کے باوجود ارد گرد کی قوموں سے علمی و ادبی کارناموں بہت پیچھے تھے ۔ یہ قومیں علوم و فنون میں مہارت رکھتی تھیں ۔ ان میں یہودی اور ہندو صخیم مذہبی کتابیں رکھتے تھے ۔ مصری ، رومی ، یونانی ، کلدانی ، آشوری ، آرامی اور فنیقی اگرچہ مذہبی لٹریچر نہیں رکھتے تھے ۔ مگر یہ بھی تاریخ و ادب کا صخیم ذخیرہ رکھتے تھے ۔ اس کے علاوہ تعمیرات ، طب ، سائنسی اور تعمیراتی کارنامے انجام دے چکے تھے ۔ یہ ان کی کمزوری تھی وہ سامراجی طاقت کے باوجود علمی میدان میں ان قوموں کا مقابلہ نہیں کرسکتے تھے ۔ اس لیے پیران زرتشت نے زرتشت کے خیالات کو مدون کرنے کا شوق اور ذوق پیدا ہوا ۔ مگر چوں کہ ایرانی ادبی ذوق نہیں رکھتے تھے اور اسی وجہ واحد رسم الخط تریب دے سکے ۔ بقول ابن المقتع کے ایران میں سات مختلف رسم الخط مروج تھے ۔ ان میں ایک رسم الخط میں لکھا جاتا آرامی میں اور اسے پڑھا جاتا فارسی میں ۔ جہاں رسم الخط میں اتنے اختلاف تھے وہاں ادب میں ترقی کیا ہوگی اور اس لیے ان کے پاس تحریری لٹریچر کی شدید کمی تھی ۔ یہی وجہ ہے ساسانی دور تک ایرانیوں میں بہت قلیل مذہبی اور ادبی لٹریچر ملتا ہے اور انہوں نے اس کا سبب سکندر اور مسلمانوں کے حملے کو جواز بنایا ہے ۔ ایرانیوں نے ادب و فنون میں اس وقت ترقی کی جب وہ ایک رسم الخط یعنی عربی رسم الخط پر متفق ہوئے اور آٹھویں صدی عیسوی کے بعد فارسیوں نے مسلمانوں کے زیر اثر ادب و تاریخ میں خاطر خواہ ترقی کی۔ جو کہ ساسانی دور کے آخر تک کچھ مذہبی اور قصہ کہانیوں تک محدود تھا ۔

یہی وجہ ہے ہمیں اوستا کی تدوین کی مختلف روایات نظر آتی ہیں ۔ جو ان کوششوں کی نشادہی کرتی ہیں کہ ایرانی مذہبی مواد کو تحریری شکل میں لانا چاہتے تھے ۔ اشکانی عہد میں جس رسم الخط میں اوستا لکھی گئی تھی وہ رسم الخطًً قدیم میڈیائی یا باختر میں رائج تھا ۔ بار بار کوششوں کے باوجود بعد بہت مختصر ملا جلا لٹریچر ملا اور اسے اوستا کا نام دیا اور یہ کوششیں ساسانی دور تک جاری رہیں ۔ جو اب بھی ہمارے سامنے موجود ہے ۔ یہ لاطائل اور منتشر خیالات کا مجموعہ تھا ۔ جسے دیکھ کر البیرونی اور پروفیسر ایڈویر براؤن نے کہا ہے کہ اس کو پڑھنے سے طبعیت گھبرا جاتی ہے ۔

اگر اوستا مسلم عہد کی لکھی جاتی تو اس دور میں لکھی جانے والی دوسری پہلوی کتب کی طرح علم ، دلیل و فہم اور استدلال کا مجوعہ ہوتی ۔ مگر ایسا نہیں ہے اور اوستا خرافات اور خشک اعتقادات مبنی ہے ۔ جس کا انداز علمی نہیں بلکہ بچگانہ اور مضحکہ خیز ہے ۔ ساسانیوں کے زمانے میں اوستا خرد ، پاژند تفسیر وغیرہ لکھی گئی ۔ مگر یہ بھی وہی بنیادی فرائض کے یعنی نماز ، دعائیں اور خرافات ہیں ۔ جو اس بات کا ثبوت ہے ساسانیوں کے زمانے بھی وہی مختصر سی اوستا تھی اور مسلمانوں یا زرتشتیوں نے اس کو نہ تلف کیا اور نہ اس کو مسلمانوں کے عہد میں مدون کیا اور اوستا کی صخامت بھی محض فسانہ ہے اور اس کی صخامت وہی تھی جو اب ہمارے سامنے ہے ۔ 

اوستا کا بڑا حصہ دعائیں اور خرافات پر مشتمل ہے اور اس افرائیش ، متھرا ، اناہتا اور زروانیت کے خیالات و عقائد بھی ملتے ہیں ۔ جو مختصر اور مبہم ہیں ۔ جو اس کی بات کی دلیل ہے کہ ساسانی عہد کی اوستا اب بھی موجود ہے ۔ اس میں شک نہیں ہے کہ زرتشتیوں نے متھرا اور اناہتا کی پرستش ختم کردی ہے ۔ مگر ان کا تقدس آمیز ذکر اب بھی اوستا میں موجود ہے ۔ حقیقت میں اوستا لکھنے والوں کا ادبی معیار بلند نہیں تھا اور اس لیے اس میں دلائل ، استدلال نہیں ہیں ۔ اس میں زروانی عقائد ، عرفانیت ، یونانی فلسفہ خیالات اور اثرات اب بھی ملتے ہیں اور یہ خیالات اشکانی اور ساسانی کے عہد میں تدوین کی کوششوں میں داخل ہوئے تھے ۔ جب کہ دین کرت اور دساتیر میں اوستا کے گمشدہ نسکوں کی جو تفصیلات درج ہیں ان کا تعلق زرتشت یا عہد قدیم سے نہیں بلکہ ساسانیوں کے آخری اور مسلمانوں کے عہد سے تعلق رکھتی ہیں ۔ حقیقت میں یہ تفصیلات اور باریک بینی اوستا کا کبھی بھی حصہ نہیں رہی ہیں ۔ کیوں کہ قدیم دور میں ایرانی معاشرہ یا دوسرے معاشروں میں اس قدر ترقی نہیں کی تھی ۔ جب کہ ایران فوجی طاقت کے علاوہ کسی اور علوم میں ترقی نہیں کی تھی ۔ لہذا اوستا اتنی مختصر ہی تھی جتنی اب ہے اور اس کے جواز کے لیے انہوں نے اوستا کا خلاصہ لکھ کر یہ بتانے کی کوشش کی کہ مکمل اوستا سکندر اور مسلمانوں کے حملہ میں تلف ہوگئی ۔ اگر اوستا تلف ہوگئی تھی تو یہ تفصیلات کہاں سے آئیں ۔ اگر اس کی تفصیلات معلوم تھی تو اسے دوبارہ تدوین کرسکتے تھے ۔ اس نکتہ سے فرانسوا نو اور پروفیسر آتھر کرسٹین کے موقف کی تردد ہوتی ہے ۔  لہذا اوستا کو تلف اور بعد میں لکھنے میں کوئی حقیقت نہیں ہے ۔

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں