33

اوستا کے گمشدہ نسک

پارسی روایت کے مطابق اردشیر اول نے اپنی تخت نشینی کے بعد ہیربدان ہیر بد تتسر کو حکم دیا کہ اشکانی اوستا کے پرگندہ اجزا کو جمع کرکے تالیف کرے ۔ اس نئی تالیف کو بعد میں مستند اور مصدقہ قرار دیا گیا ۔ بعد میں ارد شیر کے بیٹے شاپور اول نے کتب مقدسہ کے اندر غیر مذہبی تصانیف کو جن کا موضع علم طب ، نجوم اور فلسفہ تھا اور جو ہندوستان اور یونان اور دوسرے ملکوں میں دستیاب ہوئیں داخل کر دیا ۔ یہ روایت اس شکل میں یقینا غلط ہے ۔ غالباً اس سے مراد ان غیر مذہبی تصانیف سے مراد وہ کتابیں ہیں جو فضلائے ایران نے لکھیں اور جن پر فلسفہ یونان کا اثر موجود تھا ۔ بظاہر ہندوستانی اثر ان میں بہت بعد آیا ۔

تنسر نے اوستا کی جو تدوین نو کروائی اس کا ایک نسخہ مع اضافات جدید شاپور کے حکم سے شیز میں آتش کدہ آذر گشتسپ میں محفوظ کردیا گیا ۔ لیکن ان میں مذہبی اختلافات و منا قشات جاری رہے ۔ شاپور دوم نے موید بزرگ آذربذ مہر سپندان کی صدارت میں ایک انجمن منعقد کرائی ۔ جس نے اوستا کا متن قطعی طور پر متعین کردیا اور اس کو اکیس حصوں میں تقسیم کیا جن کو نسک کہتے ہیں ۔ اکیس کا عدد دعائے مقدس یذا ہو ویریو کے الفاظ کی تعداد سے لیا گیا ہے ۔ اس متن کے تقدس کو ثابت کرنے کے لیے آذر بد نے اپنے کو امتحان کے لیے پیش کیا ۔ یعنی پگھلی ہوئی دھات اس کے سینے پر انڈیل دی جائے ۔ بہرحال اب جو اوستا کی تفہیم و تشریخ کی جو کوشش کی گئیں ان کا مختصر تعارف ذیل دیا جا رہا ۔ اس کے علاوہ دین کرت میں جو اکیس حصوں کا خلاصہ پیش کیا ہے ۔

اس سے ایک بات آپ بخوبی واضح ہوتی تھی یہ فنون قدیم دور میں اس قدر ترقی یافتہ نہیں تھے اور نہ ہی ایک شخص ان پر غبور حاصل کرسکتا ہے ۔ ان میں کچھ اہم فنون کی تفصیل درج کر رہے ہیں ۔

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں