35

اوستا کے16 علاقے

وندیداد میں ۱۶ علاقوں کا حال ملتا ہے اور گائیگر اور دوسرے محقیقین کا خیال ہے یہ قدیم ایرانیوں کا سفر نامہ ہے ۔ گویا جب وہ ابتدائی ہندو ایرانی گروہ سے جن کا وطن پامیر کا علاقہ تھا جدا ہوئے اور ایران میں داخل ہوئے تو انہوں نے ان مقامات پر نقل مکانی کی ۔ تارکین وطن کی پہلی جماعت مغرب کی جانب سغد ، مرو ، بلغ ، نسا اور ہرات میں پھیل گئی ۔ دوسری جماعت نے جنوب اور جنوب مغرب میں پنجاب ، کابل اور ہلمند کے اضلاع کے اضلاع کا رخ کیا جو ذر دلیر تھے وہ مغرب کی طرف بڑھے اور جرجان اور رے میں آباد ہوگئے ۔ لیکن یہ ترتیب مقامات چوں کے اپنے ساتھ جغرافیائی ثبوت نہیں رکھتی ہے اس لیے مستند نہیں ہے اور امکان ہے کہ ان مقامات پر اپنے مذہب کی اشاعت کی ہو اور اگر ایریانمو یجو آذربائیجان کا قدیمی نام ثابت ہوجائے تو اسے تقویت پہنچ سکتی ہے اور کوئی حجت باقی نہیں رہے گی کہ زرتشت کو پہلے اپنے وطن میں کامیابی ملی ۔ ان علاقوں کی تفصیل یہ ہے ۔

(۱) ایرینیہ ویجو نذد بابرکت دریائے دائینا ۔ اس کا درست محل وقوع معلوم نہیں ہے تاہم اس حصے کو دور ساسان کا ارک زیر یعنی موجودہ آذر بائیجان شناخت کیا گیا ہے ۔  

(۲) صغدہ ۔ سغیانہ ، سغد ۔

(۳) مورو ۔ مرجیانہ ، مرو ۔

(۴) باخدی ۔ باختر اور بعد کا بلغ ۔

(۵) نسایہ ۔ یہ موجودہ نسا ہے اور یہ پارتھیوں کا دارلحکومت رہ چکا ہے ۔

(۶) ہرویو ۔ موجودہ ہرات

(۷) وے کرتیہ ۔ پہلوی شرح سے اس کو کابل شناخت کیا گیا ہے ۔

(۸) اروا ۔ اس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ طوس ہے ۔

(۹) ویہر کانہ ۔ موجودہ گرگان یا جرجان ۔

(۱۰) ہرہ وائتی ۔ اراخوس ۔ یہ دریائے ہلمند کے قرب و جوار میں ہے ۔

(۱۱) ہے تومنت ۔ یہ دریائے ہلمند کے قرب و جوار میں ہے ۔

(۱۲) رگہ ۔ موجودہ رے جو طہران کے قریب ہے ۔

(۱۳) چغرہ ۔ یہ شاید ابن خور داد کا شرع یا جرغ ہے جو بخارا سے چار فرسنگ کے فاصلے پر تھا ۔

(۱۴) چوگوشہ وریفہ ۔ غالباً ۔ غالباً البروز کے گرد و نواح مراد ہیں ۔

(۱۵) ہپت ہندو ۔ سات دریا یعنی پنجاب ۔

(۱۶) وہ حصہ جو دریائے رنھہ کی سیلابی علاقے تھے اور یہاں کے باشندے بغیر سردار کے زندگی بسر کرتے تھے ۔

ڈار مشٹیٹر اوستا کے بعض حصوں کو مسیح کے بعد کے لکھے ہوئے بتاتا ہے ۔ ایران کو ہم ذیل کے دور میں تقسیم کرسکتے ہیں ۔

(۱) ہند ایرانی دور

(۲) قدیم ابتدائی دور

(۳) آشوری دور ۱۰۰۰ ق م

(۴) میڈوی دور ۸۰۰ ق م

(۵) قدیم ایرانی یا ہخامنشی دور ۵۵۰ ق م 

(۶) ۳۳۰ ق م سے ۲۲۶ ق م 

(۷) ساسانی دور وقفہ یعنی اشکانی دور ۲۲۶ ق م تق ۶۵۲ء

(۸) اسلامی ساسانیوں کے ذوال کے بعد کا دور 

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں