68

اوم

یہ یک صوتی علامت سب سے پہلے اپنشدوں میں استعمال ہوئی ہے ۔ بعض کے نذدیک تمام منتر اسی سے پھوٹے ہیں ، انتہا اور ابتدا دونوں اسی سے ہے ۔ چنانچہ اوم وہ لافانی آواز ہے جس سے ہر طرح کی افزائش وابستہ ہے ۔ اس ایک آواز میں ماضی ، حال اور مستقبل بلکہ وہ سب بھی جو ان سے ماورا ہے ، اس ایک آواز میں شامل ہیں ۔ 
چاندوگیہ اور ٹیٹ اپنشد میں زبان کی ابتدا بھی پرجا پتی سے منسوب ہے ۔ تین عالموں پر دہیان کے دوران تین لفظ بھر ، بھوہ اور سور پیدا ہوئے ، جو زمین کرہ ہوائی اور آسمان کی نمائندگی کرتے ہیں ۔ اسی گور و فکر کے نتیجے میں تینوں وید وجود میں آتے تھے اور اسی سے اوم جو کل کلام اور عالم کی کلیت کی نمائندگی کرتا ہے ۔ 
چاندوگیہ اپنشد کے مطابق شروع میں صرف اگنی لافانی تھا اور دوسرے دیوتاؤں نے فنا سے بچنے کے لیے لافانی اوم میں پناہ لی تھی ۔ اس لیے اوم کو ’ موت کے قتل‘ کا خطاب ملا ۔ 
اوم کی نفسی معالجاتی طاقت کو لا محدود تصور کیا جاتا ہے ۔ ویدوں کے طالب علموں کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ سبق کا آغاز بعد اختتام ’اوم‘ سے کرے ۔ اس لیے اس کے اثرات اتنے لطیف خیال کئے جاتے ہیں کہ ان کا ادراک ناممکن سمجھا جاتا ہے ۔

تہذیب و تدوین
عبدلمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں