107

اَدیتی

وارن اور متر دونوں اَدتیا ہیں ۔ یعنی وہ اَدیتی کے بیٹے ہیں ۔ اس لیے اِدیتی ہمیشہ دیوتاؤں کی ماں کہی جاتی ہے اور بلاشبہ وہ ایک دیوی ہے ۔ مگر سوال یہ ہے وہ کس چیز کی دیوی ہے اور عالم موجودات میں کس شے یا منظر سے اس کا تعلق تھا ۔ اس معمے کو حل کرنے کے میں ایک دقت یہ بھی ہے کہ یہ کلمہ دراصل ایک صفت ہے اور اسم و صفت دونوں معنوں میں استعمال ہوتا ہے ۔ اس لیے ترجمہ کرنے والے کو دقت ہوتی ہے کہ کس عبارت میں اس کا کیا ترجمہ کرے ۔ اگر صفت کا لفظی ترجمہ کیا جائے تو اشتباہ ایک حد تک رفع ہوتا ہے اور نام کے متعلق جو دقتیں ہوتی ہیں ان کو رفع کرنے کی ایک سہولت ہوجاتی ہے ۔ ’ادیتی کے لفظی معنی ’جس کی کوئی حد نہ ہو’ ۔ بعض وقت اس لفظ سے فضا مراد ہوتی ہے جس کی کوئی حد نہ ہو ۔ جسے کہ ذیل کے شلوک میں جس میں متر اور وارن کو مخاطب کیا گیا ۔
’’متر اور وارن تم اپنی رتھ پر بیٹھو جو سنہری ہے ۔ جب کہ سوریا نکلتا اور جس کے دو لوہے کے قطب ہوتے ہیں ۔ جب کہ سوریا غروب ہوتا ہے وہاں سے تم لامحدود (اَدِیتی۔فضا) اور محدود (دیتی ، زمین) کو دیکھ سکتے ہو اور اس چیز کو جو کہ وہاں اور یہاں ہے’’۔
دوسرے مقامات میں اس کے معنی لامحدود زمانے یا ازلیت یا حیات ابدی سے مراد ہوتی ہے اور جس حد سے نکل جانے کی خواہش ہوتی ہے وہ موت ہے ۔ جیسا کہ ذیل کی عبارت میں جس میں ایک شخص اپنی موت کے خیال کو دل میں لاتا ہے ۔ ’’کون مجھے عظیم انشان ادیتی کے سپرد کرے گا تاکہ میں اپنے ماں باپ کو دیکھوں ۔ اگنی (آگ) جو غیر فانی دیوتاؤں میں افضل ہے مجھے ادیتی کو دیدے گا میں اپنے ماں باپ کو دیکھوں’’۔ (رگ وید ۱۔۲۴) 
آخری اشلوک میں مردوں کو جلانے کی رسم کی طرف اشارہ ہے ۔ آگ ایک طرف تو جسم کو جلا کر خاکستر کر دیتی ہے اور دوسری طرف روح کو اس لامحدود دنیا میں لے جاتی ہے جہاں وہ ان لوگوں سے ملاتی ہوتی ہے جو پہلے مرچکے ہیں ۔ ایک دوسرے عجیب فقرے میں جہاں گھوڑے کی قربانی کا ذکر ہے بیان کیا گیا کہ وہ ادیتی ہونے کو ہے ۔ یہ جملہ بھی بامعنی ہے ۔ کیوں کہ ہمیں معلوم ہے کہ جن جانوروں کی قربانی ہوتی تھی ان کے متعلق خیال تھا کہ وہ دیوتاؤں کے پاس چلے جاتے ہیں اور پاک زندگی بسر کرتے ہیں ۔ 
واضح رہے ادیتی سے مراد زمانہ اور فضائے غیر محدود ہونا یا ہر قسم کی قیود سے آزاد ہونا ہے ۔ بلکہ اس کے معافی اس سے بھی اعلیٰ اور برتر ہیں اور اس میں مجرد تخیل بھی نیچے کی عبارت میں مابعد الطبعیات کی باریکیاں بھی ہیں ۔
’’ادیتی آسمان ہے ، ادیتی کرہ زمہریر (انتا رکشا) ہے ، ادیتی باپ ماں اور بیٹا ہے ، سب دیوتا اور پانچویں قبیلے ادیتی ہیں ، جو کچھ پیدا ہوچکا ہے وہ ادیتی ہے اور جو پیدا ہوگا وہ بھی ادیتی ہے’’۔    
اس قابل اعتنا اور جامع تعریف میں نہ صرف لامحدود فضا ، ازلیت اور حیات ابدی کا ذکر ہے بلکہ خود فطرت کا بھی ۔ جس میں ہر چیز پیدا ہوتی ہے شامل ہے اور علم مابعد الطیعبات کی اعلیٰ ترین لامتناہی کا خیال موجود ہے ۔ یہی معنی ہیں جو مغرب کے فلسفیوں نے لفظ ادیتی میں پہنائے ہیں ۔ اکثر لوگوں نے اس معمے کو حل کرنے کی کوشش کی ۔ مگر نہ کسی کے دلائل اس قدر قوی ہیں جتنے میکس مولر کے ۔ ان کا کہنا کہ ادیتی ویدوں میں وہ چیز ہے جو زمین ، آفتاب اور سپید صبح سے ہٹ کر ہے ۔ اس عبارت میں انہوں نے نہایت خوبی الفاظ ذیل میں تصریح و توضیح کی ہے ۔
ادیتی دراصل نام ہے جو لامتناہی کے لیے ایجاد کیا گیا ہے ۔ مگر یہ وہ لامتناہی نہیں ہے جس کا خیال ایک طولانی تنہا تخیل سے پیدا ہوتا ہے ۔ بلکہ وہ بے پایانی جو آنکھ سے نظر آتی ہے ۔ یعنی وہ فضا جو آسمان اور بادلوں سے ہٹ کرہے ۔ لامتناہی کی تخیل بعد شعور کے بعد اہل ہند میں مشرق کے سبب سے پیدا ہوا ۔ مگر ان خیالات اور جذبات کو معلوم کرنا اب ناممکن ہے ۔ جو زمانہ قدیم کے کویوں کے دلوں میں گزرے ہوں گے ۔ جب کہ انہوں نے اس مشرق بعید کے کویوں کے لیے نام دریافت کئے جہاں سے کہ سپید صبح ، آفتاب اور ایام نظر آتے تھے اور جو خود بظاہر ان کا مبدا حیات معلوم ہوتا تھا ۔ ادیتی اسی مشرق بعید کا ایک نام ہے ۔ مگر ادیتی کا سپید و صبح (اوساش) سے ہٹ کر ہے اور ایک مقام پر سپید و صبح (اوساش) کو ادیتی کا چہرہ کہا گیا ہے اور اسی عالم سکوت سے انسان کے دل میں بے پایانی حیات ابدی اور الوہیت کا خیال پیدا ہوتاہے ۔ ادیتی ویدوں کے لامتناہی دیوتاؤں میں ممتاز نہیں مگر اس کا نام اکثر آتا ہے اور ادتیاؤں کے نام میں زندہ ہیں جو اس کے بیٹے ہیں ۔    
وارن اور متر ادیتیا ہیں اور ادیتیا کے بیٹوں سے مراد لامتناہی یا حیات ابدی یا لامتناہی وقت و فضا کے بیٹوں سے ہے ۔ آسمان اور نور کے ان دیوتاؤں کے ناموں میں سوائے شاعرانہ تشبیہ و استعارے کے کچھ نہیں ہے ۔ بعض اور دیوتاؤں کے بھی یہی خواص ہیں ۔ مگر یہ سب وارن اور متر کی نقل ہیں ۔ ان میں سے صرف ایک آریا من حسن اعتقاد کے ساتھ مخاطب کیا گیا ہے ۔ مگر علحیدہ نہیں بلکہ وارن اور متر کے ساتھ ۔ ادیتی کا چوتھا بیٹا بھاگ ہے ۔ جس میں شخصیت بالکل نہیں اور بہت کم ذکر آیا ہے ۔ مگر اہل یورپ کو اس دلچسپی کی ایک خاص خدائے مسیحوں کے خدائے واحد مستعمل ہوگیا ہے ۔ بیان گیا ہے کہ ادیتیاؤں کی تعداد سات ہے مگر مذکور بالا دیوتاؤں کے علاوہ صرف دو کا بھجنوں میں کبھی کبھی ذکر ہے اور ساتویں کا ٹھیک طرح حال معلوم نہ ہوسکتا ۔ کہیں کہیں آٹھویں کا بھی ذکر ہے اور ایک مقام سے معلوم ہوا ہے کہ یہ آگ کا دیوتا آٹھواں ادیتیا تھا ۔ ادیتیاؤں کی شان میں جو بھجن ہیں ان سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ سب متر اور وارن کی صفات میں شریک ہیں ۔ یعنی وہ ریت اور اس کے بے شمار قوانین کے محافظ ہیں اور راستی و پاک باسی کے نگہبان ہیں ۔ گناہوں کی پاداش میں سزا دینے والے اور معاف کرنے صحت دینے والے ہیں ۔ ادیتی اور ادیتیاؤں کے سامنے بے گنا ثابت کیے جانے کی ایک دعا ہے جو اکثر مقات میں موجود ہے ۔

تہذیب و تدوین
ّْْ(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں