46

اَشون

آسمان (دیاؤس) کے بہت سے بچوں میں دو توام بھائی اشون یا سوار ہیں جو سوریا اور سپید صبح (اُشاس) کے بھائی ہیں ۔ جو ہر دلعزیزی میں اشاس سے کم نہیں ہیں ۔ ان کی تعریف و توصیف میں بہت سے بھجن ہیں اور اس کے علاوہ دوسرے بھجنوں میں بھی ان کا نام آیا ہے ۔ ان کے علاوہ کوئی دیوتا ایسا نہیں ہے جس سے اس قدر فسانے منسوب ہیں ۔ ان کے متعلق اس قدر واقعات بیان کیے گئے ہیں اور ان سے اتنی اشیاء کا مطالبہ کیا جاتا ہے کہ جب رگ وید عوام کے فہم سے بالاتر ہوگئی تو اس کی شرح لکھنے لگے تو انہیں شبہ ہوا کہ ان دونوں بھائیوں سے مظاہر قدرت میں کس سے مراد ہے ۔ کیوں کہ وہ صرف سوار ہیں یا (گھوڑے کی اولاد ۔ کیوں کہ وہ گھوڑے پر بیٹھتے نہیں بلکہ دوسرے دیوتاؤں کی طرح رتھ ہانکتے ہیں) بلکہ دیوتاؤں اور انسانوں کے طبیب بھی ہیں ۔ معجزے بھی دیکھاتے ہیں ۔ طوفانوں سے بچاتے ہیں اور محبت اور زن و شو کے تعلقات کے محافظ ۔ یہ متضاد خواص سخت پریشان کن ہیں اور شارحین کی تشریحیں اور بھی مغلق ہیں ۔ مگر مغرب کے محقیقین نے چھان پھٹک کر رگ وید کے مطالعہ سے اس مسلہ کو حل کیا ۔ 
اشونوں کو گھوڑے سے جو تعلق بتایا گیا ہے اس سے یقین ہوتا ہے ان کا جوہر آسمانی اور نوری ہے اور اس کی تصدیق ان کے القاب سے ہوتی ہے جو انہیں دیے گئے ہیں ۔ اپنی بہن اشاس کی طرح وہ بھی حسین ، نیک خو ، درخشاں ، تیز قدیم ، غیر فانی اور جوان ہیں ۔ مگر اس کے ساتھ ہی قدیم بھی ہیں ۔ اس آخری خصوصیات سے ظاہر ہوتا ہے کہ صبح کے کسی ایسے منظر سے ان کا تعلق ہے جو ہر روز نظر آتا ہے ۔ بیان کیا جاتا ہے وہ سب سے پہلے اٹھتے ہیں اور صبح کی قربانی میں شفق (اشاس) سے بھی پہلے آتے ہیں اور ان کے آنے کے بعد فوراً نمودار ہوتی ہے ۔ جو پجاری ان کا خیر مقدم کرنا چاہتے ہیں اسے شفق (اشاس) کے نمودار ہونے سے پہلے اٹھنا چاہیے ۔ پجاری بھجن گاکر ان سے درخواست کرتی ہے کہ وہ قربانی میں شرکت کے لیے اپنی رتھ میں بیٹھ کر جس میں شفق جتی ہوئی ہے ان کے گھر آئیں ۔ بلکہ شفق کی آمد سے پہلے وہ آتے ہیں اور ان کا رتھ رات کے ختم ہوتے ہی نظر آتا ہے اور ان کو رات کی آخری گھڑی اور دن کے نکلتے ہی مخاطب کیا جاتا ہے ۔ یہ دونوں اوقات ایک دوسرے سے بالکل ملے ہوئے ہیں ۔ صرف فرق یہ ہے کہ پہلے میں کچھ اندھیرا رہتا اور دوسرے میں زیادہ اجالا زیادہ نہیں ہوتا ہے ۔ یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ اشون دوسری درخشاں ہستیوں کی طرح تاریکی دور کرنے والے اور راکشوں کو مارنے والے ہیں اور وہ ان اصطبلوں کو کھولتے ہیں جن میں گائیں (شفق یا کرنیں) بند ہیں ۔ یہ باتیں ویدوں میں وضاحت کے ساتھ کئی مقام پر بیان کی گئی ہیں ۔ جس سے اشونوں کا مناظر قدرت میں جو درجہ ہے اس کے متعلق کوئی شبہ باقی نہیں رہتا ہے ۔ یعنی ان سے مراد اس روشنی سے ہے جو شفیق سے قبل نظر آتی ہے ۔ اس میں سے روشنی تو ہوتی ہے مگر زیادہ چمک نہیں ہوتی ہے ۔ اس لیے ان کی رتھ میں بھورے گدھے جتے ہوتے ہیں ۔ مگر بعض جگہ بیان کیا گیا ہے کہ ان کی رتھ میں گھوڑے بھی ہوتے ہیں ۔ کیوں کہ رگ وید میں یکسانی کا بالکل لحاظ نہیں ۔ ایک شاعر کسی ایک بات یا خصوصیت کو لیتا ہے اور اس کا اظہار کرتا اور دوسرا شاعر یا تو اس کی پیروی کرتا ہے یا اس کا مطلق لحاظ نہیں کرتا اور ہر چیز کا دارومدار اس وقت کی کیفیت پر ہے ۔
وید میں اشونوں کی کی ماہیت سے تصدیق ہوتی ہے کہ جب سیاہ گائے (رات) سرخ گایوں (شفق کی کرنوں) میں بیٹھی ہے ۔ میں تم کو مخاطب کرتا ہوں اے آسمان کے بیٹوں (یعنی صبح ہونے کو ہے) ۔ غالباً اسی عبارت کی بنا یاسک نے جو ویدوں کا مشہور شارح ہے وہ دوسرے شارحین کا بیان ہے ۔          
’’ان کا وقت آدھی رات کے بعد ہے جب کہ (تاریکی) روشنی پھیلنے سے روکتی ہے ۔ کیوں کہ پہلا اشون (جو تاریکی اور روشنی کے درمیان ہے) تاریک ہے اور (دوسرا) آفتابی جوہر ہے منور ہے ۔
اسی عبارت سے اس امر کی بھی توضیح ہوتی ہے کہ دو اشون کیوں ہیں ۔ شفق میں بھی ایک قسم کی دوئی ہے ، کیوں کہ وہ تاریکی میں شروع ہوتی ہے اور روشنی میں ختم ہوتی ہے اور اس لیے دونوں بھائیوں میں فرق ہے ۔ یاسک کہتا ہے ’’ان میں سے ایک (بڑا) ہر چیز کو مرطوب کردیتا ہے اور دوسرا منور کرتا ہے’’۔ علاوہ ازیں ایک تو (تاریکی سے جنگ کی وجہ سے) سورما اور فاتح ہے اور دوسرا آسمان کا دولت مند اور خوش قسمت بیٹا ہے (اس وقت آنا اور فتح کی خوش خبری لے کر آنا ہے اور روشنی کا خزانہ نظر آتا ہے) مگر یہ اوقات اس قدر قریبی ہیں کہ دونوں توام بھائی بالکل ایک دوسرے جزو قرار دیے گئے اور ان کو ایسی اشیاء سے تشبہ دی جاتی ہے جن کے جوڑے ہیں مثلاً آنکھیں ، پستان ، پیئے وغیرہ ۔ ابتدا میں کی پوجا صبح ہوتی تھی مگر رفتہ رفتہ اشونوں کی پوجا صبح و شام کی جانے لگی اور ان سے مراد صبح اور شام کی شفق  سے ہونے لگی ۔ گو یہ وید کے خلاف تھی جس میں آیا ہے ’’اشونوں کی پوجا صبح کو کرو ۔ شام کا وقت دیوتاؤں کو پسند نہیں ہے’’ (نورانی جوہر کی وجہ سے) اس طرح دونوں توام بھائیوں میں ایک صبح کی شفق کا مترادف ہوگیا اور دوسرا شام کی شفق کے وقت بلکہ دن اور رات سے بھی انہیں تشبیہ دی جانے لگی ۔ حالانکہ یہ وید کے افسانے کے خلاف ہے ، جس میں یہ دونوں ایک دوسرے کے جزو لانیفک ہیں اور یہ ایک دوسرے کے بعد آتے ہیں ۔ رگ وید کے مطابق اشونوں کی ایک تیسری پوجا روزانہ سہ وقت کو ہونے لگی ، جس کی وجہ سے قدیم اعتقادات مسخ ہوگئے ۔
ان توام بھائیوں سے واقف ہونے کے ان کے افعال و حرکات سمجھ سکتے ہیں ۔ ان میں اور دوسرے دیوتاؤں میں فرق یہ ہے کہ یہ نیک ذات ، مہربان اور نرم دل ، رحیم اور مشکل کشا ہیں ۔ بیماروں کو صحت بخشتے ہیں ۔ لنگڑوں کو صحیح و سالم کر دیتے ہیں اور اندھوں کو بینائی عطا کرتے ہیں ۔ مگر ان کے مریض ہمیشہ ایک قسم کے ہوتے ہیں ۔ سوریا جب روزانہ سفر کی زحمتوں سے خستہ ہوکر اپنے دشمن تاریکی کی قید میں آجاتا ہے تو وہ اس تیمارداری کرتے ہیں اور شفق صبح اور شفق شام اس کو اپنی روشنی سے پھر تر و تازہ کرتے ہیں ۔ اشون شفق شام کے بھائی ہیں اور اس کو بھی جب وہ خستہ ہوتا تو اپنی روشنی سے پھر تر و تازہ کرتے ہیں ۔ یہ شادیوں ، محبت اور ازواج کے دیوتا ہیں ۔ کیوں کہ وہ سورج کی دلہن اشاس (سپیدہ صبح) کو اس کے پاس پہنچا کر بچھڑے ہوئے عشاق کو ملاتے ہیں ۔ مگر ایک موقع پر بیان کیا گیا کہ اشاس ان کے رتھ میں بیٹھ گئی اور انہیں اپنا شوہر منتخب کیا ۔ غالباً یہ وہی موقع تھا جب اندر نے اس کی گاڑی توڑ دی تھی ۔ بیان کیا گیا ہے کہ وہ چڑھتی ندیوں اور سمندر سے لوگوں کو بچاتے ہیں ۔ کیوں کہ رات ایک تیزہ و تار اور طوفان خیز سمندر ہے ۔ جو خطرات اور دیوزادوں سے پر ہے ۔ آفتاب اسی سمندر میں ڈوبتا ہے اور اگر اشون اسے اپنے تیز رو جہاز میں بٹھا کر سمندر کے روشن کنارے پر پہنچا دیتے ہیں ورنہ وہ ہلاک ہوجاتا ہے اور وہ انہی کی مدد سے پھر وہ شان و شوکت کے ساتھ چمکتا ہے ۔ چونکہ اشون دیوتاؤں اور بنی و نوع کی بھی اسی طرح مدد کریں گے ۔ یعنی دیوتاؤں کا ہر ایک افسانہ زمین پر پہنچ جاتا ہے ۔ یعنی انسان کے متعلق ہوجاتا ہے ۔ اشونوں کے  افسانوں سے ہزاروں قصے  بن سکتے  ہیں ۔ آج کل ان دونوں بھائیوں کی اشونی کمار کے نام سے پوجا کی جاتی ہے اور انہیں دیوتائوں کے طبیب کی حثیت سے صحت عطا کرنے والے سمجھے جاتے ہیں ۔   

تہذیب و تدوین
ّْْ(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں